غریب کی آہ سے ڈرنے والا پنجاب پولیس کا تھانیدار جو 3 گھر سے بھاگی بہنوں کی بازیابی کے لیے سندھی وڈیرے سے ٹکرا گیا تھا ۔۔۔ 2011 میں حافظ آباد میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔۔ سب انسپکٹر نور احمد تھانہ سٹی حافظ آباد میں تعینات تھے جب ایک روز مزدوری پیشہ شخص شکایت لے کر آیا کہ اسکی تین جوان بیٹیاں بعمر 28، 25 اور 18 سالہ گھر سے غائب ہیں سارا دن انہیں ڈھونڈا مگر نہیں ملیں ، لگتا ہے انہیں اغ۔وا کر لیا گیا ہے ۔۔۔ مدعی انتہائی غریب شخص تھا پھر مقامی میڈیا نے معاملہ اٹھا دیا ، لاہور سے بھی حکم آگیا کہ جلد از جلد لڑکیوں کو بازیاب کریں ۔۔۔ ایک دو دن تو مقامی پولیس نے کوشش کی مگر لڑکیوں کا کچھ پتہ نہ چلا ۔ ان دنوں کال ریکارڈ کی سہولت بھی اتنی ایڈوانس نہیں تھی چنانچہ جب کچھ روز گزرے تو سب انسپکٹر نور محمد جو اس کیس کے تفتیشی مقرر تھے انہیں یقین ہو گیا کہ کسی بھی وقت وزیراعلیٰ شہباز شریف کا ہیلی کاپٹر لینڈ کرے گا اور یہ نوکری سے فارغ ہونگے ، اور وزیراعلیٰ کا معطل کردہ اہلکار یا افسر تو بحال بھی شاذونادر ہی ہوتا ہے ۔۔۔ دوسری جانب لڑکیوں کا والد ہر وقت تھانے کے گیٹ پر بیٹھا روتا رہتا ،اور فریاد کرتا جناب کچھ کریں ۔۔۔ یہ حالات دیکھ کرسب انسپکٹر نور محمد نے دعا کی یااللہ مجھےا س غریب کی مدد کرنے کی ہمت اور طاقت دے ۔۔۔ اسی روز آئی ٹی سیل نے انہیں بتایا کہ وہ موبائل فون جو لڑکیاں ساتھ لے گئیں وہ سندھ کے ضلع گھوٹکی اور شہر ڈھرکی میں آن ہوا ہے ۔۔۔ افسران بالا کو اطلاع دی گئی تو شہباز شریف کے دورے کے ڈر سے انہوں نے فوری طور پر ٹیم سندھ بھیجنے کا حکم جاری کیا لیکن تھانہ میں نفری کم تھی اس لیے ایس ایچ نے سب انسپکٹر نور محمد کو حکم دیا کہ وہ ایک کانسٹیبل اور مدعی کے ساتھ سندھ روانہ ہو جائیں وہاں ضرورت پڑنے اور لڑکیوں کا کوئی سراغ ملنے پر مزید نفری انکے پیچھے روانہ کردی جائے گی ۔۔ سب انسپکٹر نور محمد نے اپنے ایک دوست سے کار ادھار لی اور سندھ جا پہنچے ۔ ڈھرکی تھانے کے ایس ایچ او کے حالات دیکھ کر نور محمد سمجھ گئے کہ یہ شخص تعاون نہیں کرے گا بہرحال افسران بالا سندھ و پنجاب کا حکم تھا اس لیے ایس ایچ او نے ایک صوبیدار یعنی اے ایس آئی ۔ پنجابی تھانیدار نور محمد کے حوالے کیا اور اپنی مطلوبہ جگہ اور خواتین کو تلاش کرنے کی ہدایت کی ۔ یہ صوبیدار صبح سے شام تک نور محمد اور کانسٹیبل کو ویرانوں میں پھراتا رہتا اور شام کو تھانے واپس لے آتا ۔ تین دن تک اس نے ایک شخص سے بھی 3 پنجابی لڑکیوں بارے نہ پوچھا ، ایک روز تنگ آکر سب انسپکٹر نور محمد نے بانس کا ایک ڈنڈا اٹھا اور ممکنہ مشکوک لوکیشن جو کہ ایک ڈیرہ تھا پر پہنچ گئے وہاں باہر کھڑے مویشیوں کو انہوں نے کھول دیا جب خواتین باہر نکلیں تو سب انسپکٹر نور محمد نے انہیں کہا کہ تم نے پنجاب سے تین لڑکیاں چھپائی ہوئی ہیں اب پنجاب سے نفری پہنچنے والی ہے جو تم سب کو مع مال مویشی پنجاب لے جائے گی اور تمہیں جیل میں بند کردے گی ۔ اس د۔ھمکی نے اثر کیا اور خواتین مقامی وڈیرے کے پاس پہنچ گئیں ۔ وڈیرے نے ایس ایچ او کو فون کیا کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے علاقے کے لوگوں کو د۔ھمکیاں دینے کی ۔۔ ایس ایچ او نے نور محمد کو کال کی اور کہا خود بھی مرو گے اور مجھے بھی مرواؤ گے ۔ جہاں ہو جلدی سے تھانے پہنچو ۔۔۔ نور محمد نے سندھی ایس ایچ او کو کہا کہ میں اس کام میں مرا تو شہیید ہونگا اور یہاں ڈھرکی سے حافظ آباد تک میری میت جہاں سے بھی گزرے گی مجھ پر پھول برسائے جائیں گے اور مجھے گارڈ آف آنر کے ساتھ قومی پرچم میں دفن کیا جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ شہیید مرتا نہیں زندہ رہتا ہے ۔۔۔ البتہ تمہارے جو کرتوت ہیں لگتا ہے جس روز تم مرے تمہارے ساتھ ہلا۔ک کا لفظ لکھا جائے گا ۔۔۔ بہر حال نور محمد ڈھرکی تھانے واپس پہنچے تو ایس ایچ او نے انہیں کھجوریں پیش کی چائے پلائی اور اتنی دیر میں تینوں لڑکیاں ایک کار میں وہاں پہنچا دی گئیں ، انکشاف ہوا کہ دو نے شادی کر لی ہے جب کہ تیسری انکے ساتھ ویسے ہی آزادی کی زندگی انجوائے کررہی تھی ۔۔ کہانی یہ کھلی کہ بڑی بہن نے فون پر ایک شخص سے گپ شپ شروع کردی تھی جو سندھ کا رہنے والا تھا اس نے لڑکی کو ایسے خواب دکھائے کہ لڑکی اپنی دو بہنوں سمیت مفلسی کی زندگی سے نجات اور سکون کی زندگی گزارنے کے چکر میں ٹرین میں بیٹھی اور یہ سندھ پہنچ گئیں ۔۔۔ مدعی والد نے جب بیٹیوں کے کرتوت دیکھے تو دونوں نکاح والیوں کو ساتھ واپس لے جانے سے انکار کردیا جب کہ تیسری اور چھوٹی بیٹی کو واپس گھر لے جانے پر آمادہ ہو گیا ۔۔۔ افسران بالا کو پیش رفت بتائی گئی ، کاغذی کارروائی اور بیانات قلمبند ہوئے اور یوں سب انسپکٹر نور محمد ایک بازیاب شدہ لڑکی ، مدعی اور اپنے ساتھی کانسٹیبل کے ساتھ کامیاب و کامران حافظ آباد پہنچ گئے۔۔۔۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]