9

بہاولنگر کی سکینہ بلوچنی کا انتقام

بہاولنگر کی سکینہ بلوچنی کا انتقام : وہ خاتون جس نے اپنے ایک بیٹے کے ق.ت.ل کے بدلے میں 9 لوگ مروا دیے تھے اور پھر جشن بھی منایا تھا ۔۔۔۔ 1995 میں پیش آیا ایک سچا واقعہ ۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ کے تفتیشی ، سابق ایس پی سید جماعت علی بخاری کی زبانی ۔۔۔۔۔بہاولنگر کی اکوکا فیملی کا ایک زمیندار جسکا نام نذر محمد اکوکا تھا اس نے دو شادیاں کی تھیں ۔ پہلی بیوی سے چار بیٹے اور ایک بیٹی جبکہ دوسری بیوی سے بھی چار بیٹے تھے ۔۔ نذر محمد کی دوسری بیوی کا نام سکینہ بلوچنی تھا اس کا بڑا بیٹا مظہر فرید بہت ہونہار ، علاقہ بھر میں مقبول ، معروف کاروباری اور ہردلعزیز قسم کا جوان تھا مگر اسکی ان خوبیوں پر پورا علاقہ خوش ہوتا لیکن اسکے سوتیلے بھائی اسکی جان کے دشمن بن گئے اور گھریلو سطح پر مشورہ کرکے سوتیلے بھائیوں شاہ جہاں وغیرہ نے مظہر فرید کو ق۔ت۔ل کر ڈالا ۔۔۔ سکینہ بلوچنی کو اپنے جوان بیٹے کے ق۔ت۔ل کا بہت صدمہ رہا ۔ ملزمان گرفتار ہو گئے ان پر مقدمہ چل رہا تھا لیکن یہ بڑی دبنگ خاتون تھی اس نے اپنے 3 باقی بیٹوں کو اپنے دودھ کی قسمیں دے کر کہا کہ جب تک اپنے بھائی کے ق۔ت۔ل کا بدلہ نہیں لوگے تمہیں اپنے بیٹے نہیں مانوں گی اور تب تک جو کچھ تم کھاؤ پیو گے اور جو میں کھاؤں پیوں گی سب حرام ہو گا ۔۔۔ چند ماہ کے دوران ہی ماں نے اپنے بیٹوں اور دیگر ننھیالی لوگوں کو اتنا اکسایا کہ انہوں نے اپنی سوتیلی ماں یعنی نذر فرید کی پہلی بیوی کا خاندان ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ 1995 میں یکم رمضان المبارک کو قیدیوں کی ایک وین مظہر اکوکا ق۔ت۔ل کیس میں 9 ملزمان کو عدالت پیشی پر لے کر جارہی تھی جن میں 3 سگے بھائی اور باقی انکے رشتہ دار تھے ، بہاولنگر اور بہاولپور کے سرحدی علاقہ کٹاریاں میں سکینہ بلوچنی کے بیٹوں اعظم اور باقر وغیرہ نے اپنے 18 کے قریب ساتھیوں کے ہمراہ گھات لگا لی ۔ سڑک پر رکاوٹ کھڑی کرکے قیدی وین کو روکا گیا اور گو۔لیوں کی بارش کردی گئی ، جب فائیر۔نگ روکی گئی اور ہر طرف سناٹا چھا گیا تو ملزمان نے وین کے اندر گھس کر سب لوگوں کو چیک کیا اور تسلی کی جن زخمیوں کے سانس چل رہے تھے انہیں وین کے اندر فا۔ئیر مارے گئے اور یقین کرنے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے ، قیدیوں کی وین پر فائیر۔نگ اور 9 ملزمان کی ہلا۔کت پر پورے ملک میں شور مچ گیا کسی نے واقعہ دیکھا نہ کوئی عینی شاہد تھا چنانچہ مقامی پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف درخواست درج کی ۔ رات گئے مق۔تولین کا ایک چھوٹا بھائی اور ماں تھانے پہنچے اور نامزد پرچہ سکینہ بلوچنی اور اس کے 3 بیٹیوں سمیت متعدد ملزمان کے خلاف درج ہو گیا ، جس جگہ یہ واقعہ ہوا تھا اسکے قریب ایک گاؤں میں ملزمان اور انکی ماں سکینہ بلوچنی کی موجودگی کی اطلاع ملی جب پولیس وہاں پہنچی تو دیکھا خاتون بہت خوش تھی لڈیاں ڈالتی پھر رہی تھی اور 7 بکرے بھی حلال کروا رہی تھی جو جشن کے طور پر اور شکرانے کے طور پر غریبوں کو کھلائے جانے تھے ۔۔۔۔سکینہ کو گرفتار کرکے تھانے لے جایا گیا تاکہ اسکے بیٹے اور دیگر ملزمان گرفتاری دے دیں ۔ ایک سب سے حٰیران کن بات یہ تھی کہ قا۔تلوں یعنی سکینہ بلوچنی کے 3 بیٹوں میں سے ایک کی منگنی یا نکاح اس وقت کے وزیراعلیٰ کے بھائی کی بیٹی کے ساتھ ہو چکا تھا اس لیے اوپر سے بہت دباؤ آیا لیکن مقامی پولیس نے اوپر والوں کو سمجھایا کہ واقعہ بہت سنگین ہے اور ملزمان کی گرفتاری ضروری ہے لہذا ذرا سکون رکھا جائے جس پر بعد میں اصل ملزمان نے گرفتاری دے دی اور ماں کو بھی مشورے میں نامزد رکھا گیا ۔۔۔۔ پولیس نے بہترین اور مکمل تفتیش مکمل کی اس واقعہ کے سب ملزمان کو سزا۔ئے موت جبکہ خاتون کو کئی سال قید کی سزا سنائی گئی سپریم کورٹ تک ان کی اپیلیں گئیں جو مسترد ہوئیں اور آخر کئی سال بعد سکینہ بلوچنی کی سوکن نے ملزم فریق سے صلح کر لی ، بھاری زمین اپنے نام کروائی اور یوں 9 لوگوں کی موت کی وجہ سکینہ بلوچنی اور اسکے بیٹوں کی اس کیس سے جان چھوٹی تھی ۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں