10

عید الاضحی کی قربانی اور موجودہ معاشرتی رویہ ایک علمی و اصلاحی جائزہ جمعرات 07 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

عید الاضحی کی قربانی اور موجودہ معاشرتی رویہ
ایک علمی و اصلاحی جائزہ

جمعرات 07 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

عید الاضحیٰ کی قربانی اسلام کا ایک عظیم شعار ہے، جس کی اصل روح اخلاص، تقویٰ اور ایثار ہے۔ مگر وقت کے ساتھ بعض معاشروں میں اس عبادت کے اندر مقابلہ بازی، نمائش اور تفاخر جیسے عناصر شامل ہو گئے ہیں، جس نے اس کی اصل روح کو متاثر کیا ہے۔

1️⃣ سنتِ رسول ﷺ اور عملِ صحابہ
نبی کریم ﷺ کا معمول انتہائی سادہ اور بامقصد تھا:
حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں:
“نبی ﷺ کے زمانے میں ایک شخص اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کرتا تھا…”
(ترمذی)

حضرت انس بن مالک سے مروی ہے:
“نبی ﷺ نے دو مینڈھے قربان کیے…” (بخاری)
اس سے واضح ہوتا ہے:
ایک قربانی پورے گھرانے کے لیے کافی تھی
سادگی اور کفایت شعاری غالب تھی
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی عمومی عمل یہی تھا۔

قربانی: سنتِ رسول ﷺ یا معاشرتی مقابلہ؟ — ایک سنجیدہ غور و فکر

رسول اللہ ﷺ کا طریقہ نہایت واضح، سادہ اور بابرکت تھا۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کرتا تھا — اور یہی طریقہ صحابہ کرامؓ میں رائج تھا۔

آج ہم نے اس سنت کو کہاں پہنچا دیا؟

ایک ہی گھر سے کئی کئی بکرے، لاکھوں روپے کے بیل خریدنے کی دوڑ “سب سے مہنگا جانور” لینے کا فخر
سوشل میڈیا پر نمائش اس رویے پر قرآن ہمیں جھنجھوڑتا ہے:
“اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے” (الحج: 37)

تو کیا ہم واقعی تقویٰ پیش کر رہے ہیں… یا اپنی حیثیت؟

مہنگائی کا یہ دور اور ہماری ترجیحات:

آج ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے:

– آٹا، چینی، گھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر
– روزگار کے مواقع کم
– مزدور اور سفید پوش طبقہ شدید دباؤ میں
ایسے میں ہمارے آس پاس:
– ایسے گھر ہیں جہاں مہینوں گوشت نہیں پکتا
– ایسے باپ ہیں جو عید پر بچوں کو کچھ نہیں دلا سکتے
– ایسی مائیں ہیں جو خاموشی سے آنسو بہاتی ہیں

اور ہم…؟
لاکھوں کا جانور صرف اس لیے خریدتے ہیں کہ “لوگ واہ واہ کہیں معاشرے ہماری عزت بنے”

اسلام کا توازن کیا ہے؟
ایک قربانی پورے گھر کے

لیکن:
نمائش کے لیے، مقابلہ بازی کے لیے، برتری دکھانے کے لیے

یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں نبی ﷺ نے ریا (دکھاوا) قرار دیا

قرآن کہتا ہے:
“اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (الاعراف: 31)

اصل قربانی کیا ہے؟
جانور ذبح کرنا نہیں
بلکہ:

– اپنی انا کو ذبح کرنا
– اپنی نمائش کو ختم کرنا
– اپنے مال میں غریب کا حق پہچاننا۔

اگر اللہ نے وسعت دی ہے تو کیا کریں؟
قربانی کریں — ضرور کریں
مگر سادگی اور اخلاص کے ساتھ اور زائد مال سے:
– کسی غریب کا راشن لے دیں
– کسی یتیم کی مدد کریں
– کسی بیوہ کے گھر خوشی لے آئیں
یہی صدقہ جاریہ ہے
یہی اصل کامیابی ہے

آخری بات
مسئلہ “زیادہ قربانی” نہیں…
مسئلہ “دل کی نیت” ہے
اگر نیت بدل جائے تو:
قربانی عبادت بن جاتی ہے
ورنہ صرف ایک رسم رہ جاتی ہے

آئیے اس عید پر فیصلہ کریں:
ہم سنت کو زندہ ضرور رکھیں گے مگر نمود و نمائش کو ختم کریں گے اور کسی غریب کو محروم نہیں چھوڑیں گے

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا فرم تاکہ ہم نبی کریم کے بتلائے طریقہ کے مطابق عمل کرنے والا بنا۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں