5

عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ اسٹریٹجی تیار کرلی ہے۔وفاقی وزیر صحت

عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ اسٹریٹجی تیار کرلی ہے۔وفاقی وزیر صحت

دنیا کی کوئی سپر پاور بھی ایک وقت میں تمام لوگوں کے بیمار پڑنے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، عوام کو بیماریوں سے بچانا ترجیح ہے۔مصطفیٰ کمال

اسلام آباد(نمائندہ جاوید اقبال)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو سک کیئر سسٹم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ اسٹریٹجی تیار کر لیا ہے۔مصطفیٰ کمال کا صحت اور غذائیت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا پاکستان کا موجودہ نظامِ صحت صرف بیماریوں کے علاج تک محدود ہے، ہمیں بیماریوں کے انتظار کے بجائے پریوینٹیو ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صرف اسپتال بنانا اور ڈاکٹرز بھرتی کرنا کافی نہیں، پورا ایکو سسٹم بدلنا ہوگا، عوام کو بھی صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ضرورت ہے، صحت کے بنیادی نظام کو مضبوط کیا جارہا ہے، لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث صحت کے نظام پر بوجھ بڑھ رہا ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی پر قابو پانا بھی ضروری ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی صحت کے نظام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔وزیر صحت کا کہنا تھا کورونا نے ثابت کیا کہ بڑے بڑے ملکوں کے ہیلتھ سسٹم بھی دباؤ میں آسکتے ہیں، دنیا کی کوئی سپر پاور بھی ایک وقت میں تمام لوگوں کے بیمار پڑنے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت نے عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ اسٹریٹجی تیار کرلی ہے، ہمارا مقصد اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنا اور عوام کو تندرست رکھنا ہے، ہمیں اپنے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا ہمارے پاس اسپتالوں ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کی کمی ہے، ہمارا ہیلتھ کیئر ایک سک کیئر سسٹم ہے، ہمارے یہاں صاف پانی اور ادویات کی کمی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں