6

وقت، جگہ اور مقام

وقت، جگہ اور مقام
وہی گھر کا بیرونی دروازہ میرا باپ ہع وداعی پہ میرا ماتھا چومتا اور میرے ہاتھ تھام کر ملتجی ہوتا نورین چند دن تھہر جاو میں موی دنیا داری میں جکڑی دوبارہ جلدی آنے کا کہہ کر لوٹ آتی پھر 14 مءی کی وہ بھیانک شام آ گءی جب میرا دانش ور باپ بے یارو مددگار تن تنہا سڑک پہ جان کی بازی ہار گیااور پھر میری زندگی میں تین جنوری 2026 کی وہ منحوس دوپہر بھی آی جب میں اپنے پیدایش ناراض بھای کو سلام کہتی ہوں تو وہ ناہنجار لاکھوں وعدوں کے بوجھ کندھوں پہ اٹھاے کہتا ہے معاف کر بینی میں لوٹ آتی ہوں وہی میرے آبای گھر کا دروازہ، میرے گھر کا فرنٹ مگر زمانہ سولہ سال آگے کی چال چل چکا تھا باپ کی جگہ بارہ سالہ چھوٹا بھای تھا جس کے منہ میں زبان بھی کسی اور کی تھی اور آنکھوں میں اجنبیت بھی کسی اور کی، بڑی بہن جس نے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال والدین کے بعد اپنی اوقات سے بڑھ کر رکھا تھا وہ طوطے کی طرح آنکھیں پھیر چکے تھے.
زمانہ چال اپنی چل چکا تھا
کوئی مرنے سے پہلے مر چکا تھا
طوطا چشمی کی اس نے حد کردی
بھری محفل میں پھیر لیں آنکھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں