*تدفین کے بعد میت کے لیے دعا کرنا، قرآن و احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں*
جمعرات 16 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن، احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں تدفین کے بعد میت کے لیے دعا کی شرعی حیثیت:
تمہید:
موت ہر انسان کی یقینی حقیقت ہے، اور اسلام نے مرنے کے بعد کے مراحل کے بارے میں واضح رہنمائی دی ہے۔ ان مراحل میں ایک اہم مرحلہ قبر میں سوال و جواب کا ہے۔ اسی لیے شریعت نے زندہ لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنے فوت شدہ عزیز کے لیے دعا کریں، خصوصاً تدفین کے فوراً بعد۔
1) قرآنِ کریم کی روشنی میں دعا کا تصور
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ”
(سورۃ الحشر: 10)
ترجمہ:
“اور جو لوگ بعد میں آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے”
اس آیت سے واضح ہوتا ہے: زندہ لوگوں کا فوت شدگان کے لیے دعا کرنا مشروع اور پسندیدہ عمل ہے
2) احادیثِ نبوی ﷺ سے واضح رہنمائی
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
“نبی کریم ﷺ جب میت کو دفن کر چکتے تو قبر پر کھڑے ہو کر فرماتے:
اپنے بھائی کے لیے مغفرت مانگو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کیا جا رہا ہے” (سنن ابی داؤد)
دوسری حدیث:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں…” (صحیح مسلم)
اس میں بھی اشارہ ہے کہ: زندہ لوگوں کی دعائیں میت کو فائدہ دیتی ہیں
3) تدفین کے بعد دعا کی
شرعی حیثیت:
تمام ائمہ اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ:
تدفین کے بعد میت کے لیے دعا کرنا۔
سنت اور مستحب عمل ہے
نوٹ:
یاد رہے کہ نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں لیکن تدفین کے بعد دعا کرنا احادیث سے ثابت ہے
دعا کا مقصد:
میت کی مغفرت، قبر کے سوالات میں آسانی اور
اللہ کی رحمت کا حصول
4) آثارِ صحابہ سے ثبوت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی تھا کہ:
وہ تدفین کے بعد قبر پر ٹھہرتے میت کے لیے دعا کرتے اور استغفار کرتے۔
5) کون سی دعا کی جائے؟
نبی ﷺ کی تعلیم کے مطابق:
مغفرت کی دعا اور ثابت قدمی کی دعا۔
*نتیجہ*
اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم اپنے فوت شدہ عزیزوں کو بھولیں نہیں بلکہ ان کے لیے دعا کرتے رہیں، خاص طور پر تدفین کے فوراً بعد۔
جامع خلاصہ
“تدفین کے بعد میت کے لیے دعا کرنا سنتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرام کا معمول ہے، جس میں مغفرت اور ثابت قدمی کی دعا شامل ہے، اور یہی عمل میت کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہے”
*دعاء برائے میت*
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا
اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ
وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ
وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ
وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ
اردو ترجمہ
اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ، حاضر اور غائب، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت سب کو بخش دے۔
اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور جسے وفات دے اسے ایمان پر وفات دے۔
اے اللہ! اس (میت) کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اس سے درگزر فرما، اس کی مہمانی کو عزت دے، اس کی قبر کو کشادہ فرما۔
اور اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔
اور اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما، اس کے اہل سے بہتر اہل دے، اس کے جوڑے سے بہتر جوڑا عطا فرما، اور اسے جنت میں داخل فرما، اور اسے قبر کے عذاب اور جہنم کے عذاب سے بچا۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333