11

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: امتِ مسلمہ کی گمراہی کے اسباب* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: امتِ مسلمہ کی گمراہی کے اسباب*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

قرآن الحکیم والفرقان المجید میں بیشمار انبیاء و پیغمبران کرام کی امت کے واقعات درج ہیں۔ اللہ واحد لاشریک نے انکی امت کو سرکشی، دین سے دوری اور شرک کے سبب کس کس طرح عذاب نازل میں مبتلا رکھا اور کس کس طرح تباہ و برباد نیست و نابود کیا لیکن امت محمدی ﷺ کو اپنے محبوب کی عظمت و محبت کے طفیل دنیا میں رسوائی کے سبب عذاب کو روک ڈالا ھے مگر جو دین محمدی ﷺ سے باہر نکل کر انتہائی سرکشی پر اتر آئیں تو متنبہ کے طور پر ہلکا سا جھٹکا دیا جاتا ھے کہ باز آجاؤ وگرنہ سخت سزا کے حق دار ٹھہرو گے۔ امت مسلمہ اور خاص طور پر پاکستانی مسلم قوم جن جن حرکتوں خرافات اور جاہلیت میں مبتلا ہوگئی ھے اس بابت سمجھانا بتانا حق و سچ کی تلقین کرنا واقعی بہت مشکل تکلیف دہ عمل بن گیا ھے۔ چند عجیب لوگ ہیں جن میں ہمارے ملنگ، فقیر، علماء، مفتیان، خطیب، مولانا، مولوی، ذاکرین، پیر و مرشد اور شیخ الحدیث مانا کہ ان عجیب لوگوں کی تعداد بہت قلیل ھے مگر انکے مریدوں عقیدت مندوں اور انہیں معتبر جاننے والوں کی تعداد لاکھوں ہی نہیں بلکہ کچھ کی کڑوروں تک جا پہنچی ہیں۔ المیہ یہ ھے کہ ان چند جاہلوں اور گمراہ کن رہبروں پیشواؤں کے سبب آج دین محمدی ﷺ منقسم در منقسم ھے خاص کر اسلام اور دین محمدی ﷺ کو مسلک اور تفرقوں میں بانٹ دیا گیا ھے ہر ایک نے اپنی اپنی اینٹ کی مسجد سجالی ھے جبکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے سختی سے تفرقہ اور تقسیم کی نہ صرف ممانعت کی بلکہ انتہائی نا پسندیدہ عمل قرار دیا ھے اور آپس میں باہم اتفاق و اتحاد بھائی چارگی و ایثار و قربانی پر سختی سے عمل کرنے کا حکم بھی دیا۔ ھم من الحیث الامت اللہ کے دیئے گئے قرآن پاک میں فرمان کی بناء خوف و خطر نافرمانی و شرک کرتے ہیں اور پھر اسی رب سے رحمت و برکت کی امید بھی رکھتے ہیں جن اصحاب کرام کی انتہائی محبت و نفرت میں یہ نکل جاتے ہیں اس انتہاء پسندی کو آپ ﷺ نے منع فرمایا ھے اور تمام صحابہ کرام سے محبت و احترام کے رشتے کو قائم رکھنے کا حکم بھی دیا آپ ﷺ نے ہمیشہ اعتدال پسندی اختیار کی اور اسی کی تربیت و ترغیب بھی دی۔ ھم بزرگان دین و اولیاءاللہ کی اصل تعلیمات کو فراموش کرکے اپنے نفس کی پسند کو انکی تعلیمات کا حصہ بنالیا جو سراسر ان اولیاء کرام کی شان میں گستاخی کے زمرے میں آتا ھے۔ ہر سمجھدار عاقل دیندار و دیانتدار علماء، مفتیان، خطیب، مولانا، مولوی، ذاکرین، پیر و مرشد اور شیخ الحدیث قرآن و احادیث سے باہر نہیں نکلے گا جو قصوں حکایت واقعات تک محدود رھا انکی علمی حالت کا اندازہ آپ بخوبی لگاسکتے ہیں۔ بہت ہوگیا ان یہود و ہنوذ اور نصاریٰ کی سازشوں کا شکار ہوتے ہوئے اب ہر نبی اکرم ﷺ کے امتی پر فرض لازم ھے کہ وہ قرآن کیلئے وقت نکالے اسکا مطالعہ کرے اور احادیث کی باریک بینی سے تحقیقی نقطہ نظر سے مطالعہ کرے تاکہ جہل، شرک، بدگمانی اور بہرہ روی سے بچ سکے۔ معزز قارئین!! ایک تحریر پر نظر پڑی جو آج کے دور میں ایک مسلک کے پیر بنے ہوئے ہیں جن کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ھے انھوں نے درس نظامی بھی نہیں پڑھا پہلے بہت غریب تھے اب ماشاءاللہ میں کیا لکھوں آپ سب انکی اور انکے اولاد کی ٹھاٹ بھاٹ انکے قریبی رفقاء کی شان بان سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں خیر یہ سب کچھ آپ کی ہی بیوقوفیوں غفلت اور اندھے اعتماد کے سبب چندہ عطیہ زکواة فطرہ خیرات صدقہ نزانہ کے سبب ھے۔ کیا آپ کے پاس عقل نہیں ہے؟ ذرا سنجیدگی سے سوچیں۔ جس پیر پر آپ اندھا یقین کر رہے ہیں، وہ خود بیماریوں میں مبتلا ہے۔ ٹانگوں کا حال یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر کھانا بھی نہیں کھا سکتے، جبکہ سنت یہی ہے۔ علاج کے لئے کراچی کا مہنگے ترین اسپتال آغا خان جیسے اسپتال کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اگر ان کے پاس واقعی کوئی روحانی اختیار ہوتا، تو کیا وہ خود کو صحت نہیں دے سکتے تھے؟ ان کی آواز تک ٹھیک نہیں، گلہ خراب ہے، وہ صحیح طرح بول نہیں سکتے۔ ویڈیوز میں واضح نظر آتا ہے کہ وہ پوری کوشش کرتے ہیں مگر آواز ساتھ نہیں دیتی۔ تو جو شخص اپنی بنیادی صحت بھی بحال نہ کر سکے، وہ دوسروں کی تقدیر کیسے بدل سکتا ہے؟ مزید غور کیجئے کہ وہ تم سے چندہ لیتا ہے، لیکن خود کو غیب کا مددگار ظاہر کرتا ہے۔ اگر واقعی اس کے پاس اختیار ہوتا، تو اسے تمہاری رقموں کی کیا ضرورت تھی؟ اور وہ احیلہ بہانے سے تمہارے جائز رقوم سے چندے عطیہ نزرانے زکواة صدقہ و خیرات فطرہ کو کیوں طلب کرتے جبکہ قرآن و احادیث سے ثابت ھے کہ آپ اپنی جائز اضافی دولت اپنے خونی رشتوں پر استعمال کریں گے ایرے غیرے نتھو غیرے پر نہیں۔ ہاں اپنے خونی رشتوں پر صرف کے بعد مزید بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں اور پاس پڑوس میں استعمال کرنے کا رب کا حکم ھے کسی جعلی پیر و فقیر اور گمراہ مفتی و علماء کا نہیں۔ کچھ ایسے بھی بہکے ہوئے مولوی ملا خطیب مفتی عالم پیر و فقیر دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلک کی بقاء کیلئے مسلکی خدمات میں شامل کرو نعوذباللہ توبہ۔۔۔۔ معزز قارئین!! وہ دعویٰ کرتا ہے کہ مشرق سے مغرب تک جہاں بھی پکارو، پہنچ جائے گا۔ کیا یہ صفت صرف اللہ کی نہیں؟ انسان کیسے ہر جگہ موجود ہوسکتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ پوری دنیا کو اپنے ہاتھ میں دانے کی طرح دیکھتا ہے۔ یہ دعویٰ تو اللہ کی صفت “علیم” اور “بصیر” کے خلاف ہے۔ وہ تمہیں جنت دلانے کا وعدہ کرتا ہے، حالانکہ قرآن واضح کہتا ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے: ”کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی“ (الانعام 164) اسلام میں نبی ﷺ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ کسی کو زبردستی جنت میں لے جائیں گے، بلکہ عمل کی تلقین کی۔ تو ایک عام انسان ایسا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے؟ اگر وہ واقعی اللہ کا مقرب بندہ ہوتا، تو اس کی زندگی میں عاجزی، سادگی اور سنت کی پیروی نمایاں ہوتی، نہ کہ بڑے بڑے دعوے اور لوگوں سے مالی فائدہ۔ یہ بھی سوچو کہ اگر ہر مسئلہ پیر حل کرسکتا ہے، تو پھر اسپتال، ڈاکٹر اور علاج کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دُعا براہِ راست اللہ سے مانگو، کسی انسان کو درمیان میں واسطہ بنا کر اس پر مکمل انحصار کرنا شرک کے قریب لے جا سکتا ہے۔ وسیلہ صرف رسولِ پاک کا کیونکہ یہی طریقہ رب نے سیکھایا ھے پہلے درود پھر دعا بناء درود رب کی توجہ ممکن نہیں۔ رب العزت نے ہی کائنات کا قانون بنادیا “الحمدللہ رب العالمین” پھر کہا “وما ارسلنك الا رحمة اللعالمین” اور پھر کہا “لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ” یہ تینوں کلمات عرش معلیٰ پر درج ھے یہ شرک نہیں بلکہ محبت و پیار اور عشق کی انتہاء ھے جو رب العزت اپنے محبوب ﷺ سے کرتا ھے اسی لئے نبی کے وسیلہ کا انکار ایمان کی کمی ھے یوں سمجھئے گویا وہ ایمان سے عاری ھے۔ ایمان کی شرط ہی آپ ﷺ سے عشق و محبت اور اپنی جان سے زیادہ اہمیت دینا ھے جو ایمان والے ہیں وہ خود کو انتہائی کمزور مسکین عاجز گناہگار اور دعا طلب گاروں میں شامل کرتے ہیں۔ کائنات کا مالک ہی سب عطا کرتا ھے اور رسول خدا ﷺ اللہ کی دی گئی نعمتیں تمام مخلوقات میں بانٹتے ہیں۔ کڑوروں درود و سلام آپ ﷺ کی ذاتِ مقدس پر، آپ کے اہلِ و عیال پر، آپ کے نسبِ حسب پر، خاتونِ جنت بتول علیہ السلام پر، نواسۂ و نواسیوں پر۔۔۔ معزز قارئین!! اندھی عقیدت انسان کو سچ دیکھنے سے روک دیتی ہے۔ آپ آج کے ان شعبدہ بازوں کی ویڈیوز میں حقیقت دیکھ کر بھی انکار کیوں کر رہے ہیں؟ آخر میں خود سے ایک سوال کیجئے: کیا میں اپنا ایمان ایک ایسے انسان کے حوالے کر رہا ہوں جو خود اپنے مسائل حل نہیں کر سکتا؟ قرآن بار بار ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم حق اور باطل میں فرق کرسکیں۔ صرف جذبات یا سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا ایمان نہیں، بلکہ کمزوری ہے۔ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ پر بھروسہ کیجئے، کیونکہ اصل مددگار صرف اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کی ذات ہے۔ کچھ احمق، بیوقوف اور انتہاء پسند رسولِ خدا ﷺ کے وسیلہ کو بھی شرک سمجھتے ہیں وہ انتہائی جاہل ہیں وہ ذرا مطالعہ کریں کہ تمام عبادات و ریاضت اور قرب الہیٰ ہی صرف رسولِ خدا ﷺ کے طفیل نصیب ہوتا ھے جبکہ ہر مسلک کے امامین کی کتب و تشریحات میں درج ھے کہ درود شریف ایک عبادت ھے جو اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کو سب سے زیادہ مقدم و پسند ہے۔ حتیٰ کہ اللہ نے قرآن پاک میں واضع فرمادیا ھے کہ ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (سورة احزاب آیت 56) یہ وہ عمل ھے جو رب خود کرتا ھے ادکی تمام ملائکہ و فرشتے اور پھر اپنے بندوں کو یہی عمل کرنے کی تلقین و احکام بھی جاری کررھا ھے۔ واضع ہوگیا کہ آپ ﷺ خاتم النبین ہیں اور آپ ﷺ کے علاوہ تمام رسل پیغمبران کسی پر بھی اللہ نے اس شان و مرتبہ سے درود و سلام نہیں بھیجا جو ہمارے اور آپ کے آقا حضور اکرم ﷺ پر بھیجا ھے۔ منافقین اور جھوٹے نبی کا دعویداروں کیلئے یہی عمل کافی ھے کہ جھوٹے کاذب قادیانی طبقہ گوہر شاہی طبقہ اور اس طرح کے دیگر جھوٹے کس قدر ذلیل و بدتر ہیں۔ معزز قارئین!! ضرورت اس امر کی ھے کہ آج جو فتنہ دجال، شیطانی و ابلیسی فساد برپا ھوا ھے اس کی سب سے بڑی وجہ دینِ محمدی ﷺ میں داخل جاہل، بازاری، مداری اور چورن بیچنے والے طبقہ نے دین اور اسلام کے اہم منصب پر اپنا قبضہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جس سے سادہ لوح مسلمان بہک جاتا ھے اس طبقہ نے مال دولت، ہوس دنیا اور عیش و تعیوش کی تکمیل کیلئے دین کی چھتری چڑھالی ھے لاکھوں نہیں بلکہ کڑوروں سادہ لوح مسلمان ان جاہلوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اب وقت ھے امتِ مسلمہ کی درست رہنمائی اور دینی آگاہی کیلئے بناء خوف و خطر علمائے دین، مفکرین، اسلامی اسکالرز، محققین، محدثین، شیوخ الحدیث، مفتی اعظم سمیت ولی کاملین کو اپنا اپنا کردار سرے عام ادا کرنا ھے وگرنہ یہ جاہلِ مطلق تفرقوں، مسلکوں اور نفرتوں میں ہی جھلساتے رہیں گے نہ ایک امت بننے دیں گے اور نہ ہی ایک قوم۔ ریاستِ پاکستان اور آئینی اداروں کو اس بابت سنجیدگی سے سوچنا سمجھنا اور عمل کرنا ھوگا تاکہ اسلامی مملکت پاکستان ایک مضبوط اسلامی ریاست کے طور پر قائم و دائم رھے۔ اور عالم دنیا بھی عالم اسلام کو عالیشان سطح پر دیکھے آمین انشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔ !!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں