تین سوالات جو پاکستان کے شہری ہم وکلاءسے پوچھ رہے ہیں:
تین سوالات جو پاکستان کے شہری ہم وکلاءسے پوچھ رہے ہیں:
1. جب کسی مقدمے کا فریق تعصب کا اظہار کرتا ہے تو جج خود کو مقدمے سے الگ کیوں نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر جب اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ایسے کرنا صحیح سمجھا جاتا ہے۔
2. اگر عدلیہ واقعی آزاد ہے تو پھر آرڈیننس کے بعد تین رکنی کمیٹی کی تشکیل نو کی کیا ضرورت تھی؟ کیا سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین جج ایسے معاملات کا فیصلہ کرنے کے اہل نہیں ہیں؟
3. الیکشن کمیشن ریٹائرڈ ججوں کو الیکشن ٹربیونلز کے طور پر تعینات کرنے پر کیوں اصرار کرتا ہے؟ کیا ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج اس سے بہتر کام نہیں کر سکتے؟
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کے لیے ان سوالات کے جوابات اہم ہیں، بیرسٹر تیمور ملک