تاریخ کے دریچوں سے۔۔۔ نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک جب کیڈٹ تھے، اس وقت جنرل اسلم بیگ آرمی چیف تھے اور جنرل اعجاز امجد انکے سٹاف کا حصہ تھے، جبکہ جنرل عاصم کے والد جنرل جی ایم ملک اس وقت
تاریخ کے دریچوں سے۔۔۔ نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک جب کیڈٹ تھے، اس وقت جنرل اسلم بیگ آرمی چیف تھے اور جنرل اعجاز امجد انکے سٹاف کا حصہ تھے، جبکہ جنرل عاصم کے والد جنرل جی ایم ملک اس وقت کمانڈنٹ کاکول اکیڈمی تھے۔ جب میاں نواز و شہباز صاحبان اسلم بیگ (وائس چیف بعد ازاں آرمی چیف) سے ملاقاتوں کے لیے جاتے تھے تو جنرل اعجاز امجد سے بھی گپ شپ ہوتی۔ جنرل اعجاز امجد کے ایک دوست بریگیڈیئر فاروق ہوا کرتے تھے جبکہ جنرل جی ایم ملک سے بھی اچھا تعلق تھا۔ قادیانی/ احمدی مسئلے پر جنرل اعجاز امجد کو دوبارہ نکاح پڑھانے کا مشورہ بھی جنرل جی ایم ملک نے دیا تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں وزیراعظم بنے۔ میاں نواز شریف نے پرانے تعلقات کی بنیاد پر جنرل اعجاز کے داماد قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بنایا۔ پھر جنرل اعجاز امجد کے دوست بریگیڈیئر فاروق کے داماد جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی بنے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی کہانی ہمارے سامنے ہے۔ اب وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت میں جنرل جی ایم ملک کے بیٹے جنرل عاصم ڈی جی آئی ایس آئی بننے جا رہے ہیں۔