اپنی کتاب ’دی آئی وٹنس‘ (عینی شاہد) میں انھوں نے یہ واقعہ درج کیا ہے جو سعید مہدی کے مطابق خود انھوں نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا لیکن جنرل
اپنی کتاب ’دی آئی وٹنس‘ (عینی شاہد) میں انھوں نے یہ واقعہ درج کیا ہے جو سعید مہدی کے مطابق خود انھوں نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا لیکن جنرل ضیا الحق کے اے ڈی سی (فوجی معاون) نے انھیں بتایا کہ واقعہ عین اسی طرح پیش آیا جیسے بیان کیا گیا ہے۔
کتاب میں درج ہے کہ چار اپریل 1979 کی صبح ضیا الحق نے ایک بریفنگ کے لیے محکمۂ خارجہ کے دفتر جانا تھا۔ سعید مہدی کے مطابق ضیا الحق وقت کی پابندی نہیں کرتے تھے لیکن اس روز صبح نو بجے وزارت خارجہ پہنچنے کے لیے آٹھ بج کر 40 منٹ پر ہی اپنی رہائش گاہ کے برآمدے میں تیار کھڑے تھے۔
راستے میں جب ان کا قافلہ راولپنڈی جیل کے قریب سے گزرا تو ضیا الحق نے اپنے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر ظفر علی سے پوچھا کہ کیا بھٹو کو پھانسی دی جا چکی ہے؟
ملٹری سیکریٹری نے بتایا کہ صبح کے دو بجے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
گویا ملک کے فوجی حاکم جنرل ضیا الحق یہ ظاہر کر رہے تھے کہ انھیں پھانسی دیے جانے کا علم ہی نہیں ہے۔
سعید مہدی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’جنرل ضیا نے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کا ذوالفقار علی بھٹو سے بہت قریبی تعلق تھا اور بھٹو ان پر بہت مہربان تھے، لیکن عدالتی فیصلوں کے آگے وہ بے بس تھے۔‘
کتاب کے مطابق راولپنڈی جیل کے قریب سے گزرتے ہوئے جنرل ضیا نے پوچھا کہ ’کیا بھٹو کو دفنا دیا گیا ہے؟‘
اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ جنرل ضیا الحق ذوالفقار علی بھٹو کے لیے دعائے فاتحہ (کسی کی وفات پر کی جانے والی دعا) پڑھنا چاہتے تھے اور یہ دعا میت کے دفنانے کے بعد ہی پڑھی جا سکتی ہے۔
اے ڈی سی کا سنایا واقعہ درج کرتے ہوئے سعید مہدی بتاتے ہیں: ’جنرل ضیا نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ بھٹو کو دفنا دیا گیا ہے یا نہیں، اس کے باوجود دعائے فاتحہ پڑھ ہی لی جائے۔ اور سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے، یہاں تک کہ گاڑی چلانے والے ڈرائیور نے بھی دعا کے لیے سٹیئرنگ ویل چھوڑ دیا۔‘
اس وقت جنرل ضیا کے اے ڈی سی نے فوراً ڈرائیور کو ٹوکا کہ وہ ’سٹیئرنگ ویل تھامے تھامے ہی دعا کر لیں۔‘