پاکستان کی معاشی صورتحال
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmai.com
پاکستان کی معیشت کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔معاشی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔خراب معیشت کی وجہ سے کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اور بےروزگاری کی شرح بھی بہت بڑھ رہی ہے۔زراعت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے،حالانکہ زراعت نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔یہ سمجھ نہیں آتی کہ زرعی شعبہ کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے؟ملک کی معیشت زراعت سے بہت بہتر ہو سکتی تھی،لیکن یہ شعبہ نظر انداز کر کے پتہ نہیں کس کے مقاصد پورے کیے جا رہے ہیں؟کسان بیچارہ بھاری اخراجات اور سخت محنت کرتا ہے لیکن توقع سے انتہائی کم اس کوآمدنی ہوتی ہے جس سے وہ مایوس ہو گیا ہے۔کسانوں کے لیے نہ تو کھاد سستی کی جا رہی ہے اور نہ دوسرے لوازمات،شاید حکومت زراعت کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔انڈسٹریز کا شعبہ بھی زوال پذیر ہے اور دیگر ادارے بھی فروخت کیے جا رہے ہیں۔پاکستان کچھ عرصہ پہلے معاشی لحاظ سے اگر بہتر نہیں تھا تو کمزور بھی نہیں تھا،لیکن اب صورتحال بہت ہی بگڑ چکی ہے۔کاروبار بھی سخت مندے میں جا رہے ہیں اور سرکاری وغیر سرکاری ملازمین بھی حالات سے سخت پریشان نظرآتے ہیں۔دہاڑی دار/مزدور طبقہ بھی بہت بڑے دباؤ کا شکار ہو گیا ہے. حکومت کو چاہیے تھا کہ حالات کو بہتر کرتی لیکن عجیب و غریب تجربات کیے جا رہے ہیں۔کیا حکومت نہیں چاہتی کہ عام آدمی کو بھی جینے کا حق دیا جائے۔کمزور معیشت کی وجہ سے عام آدمی خود کشیاں کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور کئی افراد غربت کی وجہ سے خودکشیاں کر بھی چکے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ کچھ عالمی حالات بھی پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔مثال کے طور پر ایران جنگ بھی پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔آج کل جنگ صرف مخصوص خطے کو متاثر نہیں کرتی بلکہ عالمی طور پر بھی اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ماحولیاتی تبدیلیاں یا قدرتی آفات بھی ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں۔غربت کی ایک بڑی وجہ بیرونی قرضے بھی ہیں نیزدیگر مسائل بھی ہیں،لیکن حکومت کو بھی استثنی حاصل نہیں ہو سکتا۔حکومت اگر چاہے تو معیشت کو بہتر کر سکتی ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت نے کچھ مثبت اقدام اٹھائے ہیں لیکن وہ بھی معیشت کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔جس طرح مراعات میں کمی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے،ان سے معیشت کو سنبھلنے میں مدد مل سکتی ہے۔ہو سکتا ہے کچھ اور بھی اقدامات اٹھا لیے جائیں،اس سے یہ تو تاثر جائے گا کہ حکومت سنجیدگی سے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔حکمرانوں کی مراعات میں شاید کچھ کمی ہوئی ہےلیکن مزید اقدامات اٹھانے ہوں گے(بہت سوں کے مطابق یہ صرف عوام کو خوش کرنے کے لیے اعلانات ہیں،حقیقی طور پر مراعات میں کمی نہیں کی گئی) تیل کی قیمتیں بہت بڑھی ہوئی ہیں،اسی طرح گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔دیگر ٹیکسز بھی بہت بڑھا دیے گئے ہیں۔حکومت کو بجلی کےٹیکس سمیت، تمام ٹیکسز کو مناسب حد میں لانا چاہیے۔زراعت اور انڈسٹریز کے شعبوں کو بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
پاکستان میں سیاسی استحکام بھی ضروری ہے،اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔جب جمہوریت مضبوط ہوتی ہے تو معیشت بھی بہتری کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔پاکستان میں قدرتی خزانے بھی بہت زیادہ پائے جاتے ہیں،ان کو عوامی فلاح کے لیے خرچ کیاجائے۔روزگار کے مواقع ختم کرنے کی بجائے مزید پیدا کرنے ہوں گے۔ہمیں کچھ ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے ملک کی معیشت مضبوط ہو۔سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف اور دیگر سودخور اداروں سے آزادی حاصل کرنی ہوگی۔روپے کو بھی مستحکم کرنا ہوگا اور روزگار کے دیگر مواقع بھی پیدا کرنے ہوں گے،تب ہی ملک کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔کرپشن بھی ملک میں بہت زیادہ پھیل گئی ہے،اس پر بھی قابو پانا ہوگا۔دہشت گردی بھی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اس سے معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے اس لیے دہشتگردی جیسے ناسور کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔عدم میرٹ نے بھی ملک کی معیشت کو بہت کھوکھلا کر دیا ہے،اس لیے ضروری یہ ہے کہ میرٹ جیسے شفاف نظام کو اپنایاجائے۔عدم میرٹ کی وجہ سے اقربا پروری،رشوت اور ناانصافی بہت بڑھ گئی ہے۔عدم میرٹ کی وجہ سے نااہل افراد ان پوسٹوں پر پہنچ جاتے ہیں جہاں قابل افراد کا موجود ہونا چاہیے تھا۔جب نااہل افراد عہدے سنبھال لیں تو معیشت خود بخود خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
معیشت کو اب بھی بہتر کیا جا سکتا ہے۔پاکستان معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے آزادی سے کسی ملک سے تجارت نہیں کر سکتا۔پاکستان اگر آزادانہ تجارت کرے تو کافی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر مہنگے داموں خریدا گیا تیل سستے داموں سے بھی خریدا جا سکتا ہے اگر مخصوص ممالک سے خریداری نہ کی جائے۔یہی صورتحال دیگر اشیاء پر بھی لاگو ہوتی ہے۔بہت سی ایسی ضروریات مخصوص ممالک سے نہ خریدی جائیں تو پاکستان بہت سرمایہ بچا سکتا ہے۔پاکستان میں مزید انڈسٹریزقائم کرنی ہوں گی اور جو پہلے سے موجود ہیں ان کو بہتر طریقے سے چلانا ہوگا۔ملک کی معیشت اتنی خراب نہیں کہ سنبھالانہ جا سکے۔چین اس وقت عالمی طور پر معاشی لحاظ سے بہت آگے بڑھ رہا ہے اس کا تعاون حاصل کر کے اور اس کے ساتھ تعاون کر کے بہت آگے بڑھا جا سکتا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ جلد ہی پاکستان کی معیشت بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔
آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ضمانت 1 لاکھ مچلکوں کے عوض منظور کر لی، 25 ارب وَڑ گئے
قصور میں طوفانی بارش اور آندھی سے تباہی، جانی و مالی نقصان
عمران خان کے بچے کبھی پاکستان کیخلاف بات کرینگے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔بیرسٹر گوہر
سندھ کے تمام تعلیمی اداروں میں کل سے تدریسی عمل بحال ہو جائے گا۔شرجیل میمن
محسن نقوی نے غیرقانونی پاکستانی شہریت رکھنے والوں کونیشنل ڈیٹا بیس سے نکالنے کی ہدایت کردی۔