28

*ایران رسولِ خدا ﷺ سے وفاداری جانثاری اور غلامی کا حق ادا کررھا ھا* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

*ایران رسولِ خدا ﷺ سے وفاداری جانثاری اور غلامی کا حق ادا کررھا ھا*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

دشمنوں کے ساتھ جنگ بندی کا مطلق یا وقتی معاہدہ کرنا جائز ہے، اگر حاکم وقت اس میں کوئی مصلحت دیکھتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ترجمہ: اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کی طرف جھک جاؤ اور اللہ تعالی پر توکل کرو، یقیناً وہی تو  سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ (الانفال: 61) ۔۔۔؛ اور اس لیے بھی کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے یہ دونوں قسم کے (مطلق و وقتی) معاہدے فرمائے، جیسا کہ اہل مکہ سے دس سال تک جنگ بندی کا معاہدے فرمایا، جس میں لوگ پرامن رہتے تھے، اور ایک دوسرے سے ہاتھوں کو روک کررکھتے تھے، اور بہت سے قبائل عرب کے ساتھ مطلق صلح فرمائی، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ان کے دست مبارک سے مکہ فتح فرمایا تو ان تمام لوگوں کا عہد ان کی طرف پھینک دیا گیا، اور جس کا کوئی عہد نہیں تھا اسے چار مہینے کی مہلت دی گئی، جیسا کہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے۔ ترجمہ : اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان برأت ہے ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے معاہدے کیے تھے، پس (اے مشرکو!) تم چار مہینے تک تو زمین پر چل پھر لو۔۔ بحوالہ سورة توبہ 1۔2 ۔۔۔؛ یہودیوں یا ان کے علاوہ دیگر کافروں کے ساتھ صلح کرنے سے ان سے محبت یا موالات (دوستی) ہونا لازم نہيں آتا۔ بلکہ اس کا تقاضہ ہے کہ دونوں طرف امن ہو ، ایک دوسرے کو ایذاء پہنچانے سے رکے رہیں اور اس جیسی دوسری باتیں مثلاً خرید و فروخت اور سفیروں کے تبادلے  اور ان کے علاوہ دیگر معاملات کہ جو کافروں سے محبت اور موالات کے متقاضی نہيں۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اہل مکہ سے صلح فرمائی جو ان کی محبت و موالات کی موجب نہ  تھی، بلکہ ان کے مابین دشمنی و نفرت باقی رہی، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے  فتح والے سال فتحِ مکہ کو آسان فرمادیا اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے۔ احادیث اور تاریخ اسلام کی رو سے ثابت ہوتا ھے کہ کفار و مشرکین اور بلخصوص بلخصوص یہودیوں نے ہمیشہ مسلمانوں کیساتھ جھوٹ وعدہ خلافی عہد شکنی کو قائم رکھا عصر حاضر میں بھی ان کفار و مشرکین نہوز و نصاریٰ اور یہود کا شیوہ چودہ سو برس بعد بھی جوں کا توں بلکہ شدت کیساتھ مسلمانوں کیساتھ ھے ان حالات میں پوری عالم اسلام کی ستاون ریاستوں میں ایران ترکیہ پاکستان پیش پیش ہیں جو کفار و مشرکین ہنوز و نصاریٰ اور یہود کے خلاف اسلام دین محمدی ﷺ کیلئے آہنی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ آج امریکہ اور اسرائیل بدترین شکست کے بعد جنگ بندی اور معاہدے پر اتر آئی ھے ان کی چالوں اور مکاریوں کو دیکھ کر اپنے مطالبات منوانا ہی شریعت اور دین محمدی ﷺ کی سربلندی و عزت ھے۔ خوشی کا لمحہ اور فخر سے سر بلند ہوگیا امت مسلمہ کا کہ ایران نے امریکی شرائط پر جنگ بندی مسترد کردی ھے۔ کہا ھے کہ جنگ کا خاتمہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے پیغام پہنچا دیا کہ اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔ یہ وہ عمل ھے جو کربلا کے امام حسین ؑ کا تھا یہ وہی عمل ھے جو غزوات کے موقع پر آپ ﷺ کا عمل رھا ھے۔ ایران اہلبیت کی سنت پر عمل پیرا ھے اور وفاداری جانثاری اور غلامی کا حق ادا کررھا ھے اللہ ایران کو غیبی مدد سے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار فرمائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں