عنوان. فاخرہ تھوڑی دہی ہو گی
تحریر . ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
سبط الحسن ریلوے کے محکمے سے سولہویں گریڈ کے ریٹائرڈ ملازم تھے. زندگی کے تخت پہ بغیر تاج کے حکمران تھے. عمر محنت و مشقت میں برس کرنے کے باوجود بھی سبط الحسن کو زندگی سے کچھ شکوہ نہ تھا، چار بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت ان کے من میں امن، سکون اور شانتی کے سارے ہی در کھول کے ان کی روح کو مزید ہلکا پھلکا کر دیتی تھی.انھیں اطمینان قلب تھا کہ ان کے بچے حلال کے لقمے پہ پل کے اپنی زندگیوں میں کامیاب تھے. بیگم کا پچھلے سال انتقال ہو گیا تھا. سبط الحسن کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بیرون ممالک سیٹ تھے سب سے چھوٹا بیٹا ایک فارما سوٹیکل کمپنی میں مینیجر تھا، اس کی شادی سبط الحسن نے چند ماہ قبل اپنے دیرینہ دوست کی بیٹی فاخرہ سے کی تھی. چوتھے بیٹے کے فرض سے سبکدوش ہوتے ہی سبط الحسن نے حج کی ادائیگی بھی کر ڈالی، حج سے واپسی پہ سبط الحسن کو اپنا ہی گھر کچھ کچھ اجنبی سا لگا.
اجنبی گھرانے میں رہنا کتنا مشکل ہے نہ جو اجنبی گھروں میں زندگی کی سانسیں پوری کرتے ہیں، ان سے پوچھیے گا ذرا نہ ان کے گھر اپنے ہوتے ہیں، نہ ہی تن پہ اوڑھے ہوے کپڑے ان کی تو سوچیں بھی پرای ہوتی ہیں اور ان کے ساے بھی دشمن کی مانند ان کے حواسوں پہ بجلیاں گراتے رہتے ہیں. تو پینسٹھ سالہ سبط الحسن کو زندگی میں پہلی بار اپنا گھر اجنبی لگا
اجنبی گھر
اجنبی گھروندے میں
اجنبی سے لوگوں میں
بے رخی تھی لہجوں میں
سوز سا تھا قہقہوں میں
اجنبی گھروندے میں
اجنبی سے لوگوں سے
کیسے دوستی کرتے
کیسے زندگی کرتے
بے رخی کے ہالے میں
اپنے غم اور نالے میں
زندگی کو چھوڑ آئے
اپنی آخری سانسوں
سے ہی ناطہ توڑ آئے
زندگی کو موسم بہار کی طرح گزارنے والے سبط الحسن کو اندازہ نہ تھا کہ ان کا پالا کبھی زندگی کی خزاں سے بھی پڑے گا. انھیں ساری عمر ان کی مرحومہ بیوی نے ہتھیلی کا پھپھولہ بنا کے رکھا تھا، اچھے سے اچھا کھانا اور صاف ستھرے کپڑے ہمیشہ سبط الحسن کے انتظار میں ایستادہ رہتے اور اس ناز برداری میں ان کی بیوی کا بہت بڑا ہاتھ تھا، آخری سانسوں تک بھی ان کی پیاری بیگم نے ان کی ناز برداری میں کچھ کمی نہ آنے دی دوپہر کو آلو قیمہ اور سوجی کا حلوہ بنا کر اپنے شوہر کو کھلا نے والی نیک بیوی نے مغرب کی نماز کے لیے وضو کرتے ہی ایک ہچکی لی اور جان، جان آفرین کے سپرد کر دی.اتنی افراتفری میں بیگم سبط الحسن نے آخری سانس لی کہ سب ہی حیران پریشان رہ گیے.
جانے کون سی اور گیے ہیں
لمحہ لمحہ جینے والے
جینے سے منہ موڑ گیے ہیں
جانے کون سی اور گیے ہیں
ہمیں اکیلا چھوڑ گیے ہیں
لاڈلی بیوی کے یوں اچانک جانے کا دکھ، درد اور ملال تو بہت تھا، سبط الحسن کو مگر ابھی انھیں اپنی سب سے چھوٹی اولاد حیدر سلطان کے لیے بہادری کا لبادہ اوڑھنا تھا.
لبادے اوڑھ لیتے ہیں
کبھی نیلے، کبھی پیلے
کبھی خوش باش، نخریلے
ہزاروں ہی لبادے تھے
جو
ہم سب اوڑھ لیتے تھے
جہاں مل بیٹھنا کم تھا
وہاں سر جوڑ لیتے تھے
معمولی کام کرنے کو
یہ جیون نام کرنے کو
کیی رنگوں کے لبادے
یونہی ہم اوڑھ لیتے تھے
اسی کا نام زندگی ہے اور ہم انسان زندگی یونہی گزار دیتے ہیں دوسروں کو خوش کرتے کرتے ہم اپنی خوشیوں کی بلی چڑھاتے جاتے ہیں. رونے والی جگہ پہ گنگناتے جاتے ہیں اور سر درد کو پیٹ درد بتاتے جاتے ہیں. آنسہ کیی گھنٹوں سے اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کے روے جاتی تھی. اس کی چھوٹی بہن ساریہ نے جب رونے کا سبب پوچھا تو آنسہ نے بڑی مہارت سے کہہ کے جان چھڑا لی، میری آنکھ میں پیاز کاٹنے سے جلن ہو رہی ہے اور آنسو بہہ رہے ہیں.
الکھ نگری
تیری یادوں کی الکھ نگری کو
اپنے چہرے سے مٹانے کے لیے
کیی چہروں کے لیپ کر ڈالے
.میں نے اپنے اس ایک چہرے پہ
نازنین ایک بیس سال کی حسینہ ہے، جس کا شوہر اس سے لو میرج کرنے کے بعد اسے اپنی ماں کے حوالے کر کے کینیڈا کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے ایک کینیڈین سے بھی شادی کر کے اپنی پاکستانی بیوی کو یہ کہانیاں سناتا تھا کہ جان مجھے انتہائی مجبوری میں غیرملکی خاتون سے شادی کرنی پڑ گئی تاکہ تمارا اور تمہارے بچے کا مستقبل محفوظ کیا جا سکے اور اب اس مجبوری سےتو تمام اہل عقل بخوبی واقف ہیں. نازنین روزانہ کسی نہ کسی بیماری کا بہانہ بنا کر اپنی ساس کو ہسپتالوں میں ذلیل و رسوا کرواتی ہے اور خود بھی ذلیل و رسوا ہوتی ہے. اسلام کے عین مطابق میاں بیوی کو شادی کے بعد اکٹھے ہی رہنا چاہیے، زندگی کی کٹھنا یاں اور شہنائیاں اکٹھے دیکھنی چاہیں. آجکل اگر میں گردو نواح میں نظر دوڑاوں تو تقریباً ساٹھ فیصد شوہر حضرات اپنی بیویوں کو اپنے گھر والوں کے حوالے کر کے ڈالرز، پاونڈزاور درہم کمانے کی اندھی دوڑ میں بغیر سوچے سمجھے گھر وں سے بے گھر ہو چکے ہیں. جہاد پہ جانے والی مسلم افواج کو بھی چار ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے نہیں بھیجا جاتا تو زندگی کی چھوٹی سی کہانی میں جدائیوں کی دراڑ سے حتی الامکان طور پہ پرہیز ضروری ہے کجا کہ کوئی بہت ہی جان لیوا مجبوری پڑ جاے. گھر کو گھروندا اور خوشیوں کا گہوارہ بنا ییے نا کہ آپ اور آپ کا گھر ایک دوسرے کے لیے یکسر اجنبی ہو جایں. سبط الحسن کو اپنا گھر، اپنا لان اپنے کچن کی اشتہا انگیز خوشبو وں سب سے بہت پیار تھا. انھیں اپنے بیرون ملک مقیم بچوں کے اکثر آنے والی فون کالز کا انتظار رہتا تھا اور اپنے بچوں کی خوشیاں ان کی رگوں میں لہو بن کے دوڑتی تھیں. چھوٹے بیٹے کی شادی سے پہلے سب کچھ ٹھیک تھا گھر آنگن اور باغیچہ سب اپنے تھے ایک دن صبح ناشتے پہ سبط الحسن نے اپنی بہو فاخرہ سے دہی لانے کا کہا، بہو نے عجب بے رخی سے دہی کے نہ ہونے کا جھوٹ بولا سبط الحسن نے اس بے رخی پہ بھی صبر کا کڑوا گھونٹ پی لیا اور دل ہی دل میں اپنی مرحومہ بیوی کو یاد کرتے اور اپنے آنسو پیتے اپنے کمرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد
حیدر سلطان ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھا تو دہی، انڈے پراٹھے سب ٹیبل پہ سج گیے، حیدر سلطان کو بہت برا لگا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے وہ اپنی چہیتی بیوی کے منہ سے دہی کی عدم دستیابی کی کہانی سن چکا تھا، اسے بڑی شدید حیرت ہوی کہ سبط الحسن کی ساری پینشن اور حیدر سلطان کی ساری تنخواہ تنہا ہڑپ کرنے والی فاخرہ، اس کی بیوی اتنے چھوٹے دل کی مالک ہے، اس کا دل شدت سے رونے کو چاہا. اس نے فورا فاخرہ کو اس کی چالوں کے بارے میں بتایا اور اسے میکے چھوڑنے کے لیے تیار ہونے کا کہہ کے اپنے باپ کو کھانے کی میز پہ لے آیا فاخرہ مسز حیدر سلطان کو اپنی بیوقوفی کا فوری طور پر احساس ہو گیا انھوں نے سسر اور شوہر سے معذرت کی معافی مانگی اور سبط الحسن کو اپنا گھر پھر سے اپنا اپنا لگنے لگا. چھوٹا منہ اور بڑی بات مگر میرا خیال ہے کہ آپ سب بہویں اور بیٹیاں بھی اپنے اپنے بزرگوں کا دل و جان سے خیال رکھتی ہوں گی یقین کیجئے یہ بڑھاپا اور معذوری بڑی روح فرسا اور جان لیوا ہوتی ہے ان کی صفائی ستھرائی اور ان کے پسندیدہ پکوان اپنے بزرگوں اپنے پیاروں کو کھلا کر آپ اپنے رب کو راضی ہی نہیں کر سکتے اس کے بہت زیادہ نزدیک بھی ہو سکتے ہیں. یہ قصہ ان تمام نیک بیٹوں، دامادوں، بہووں اور بیٹیوں کے نام جو اپنے ضعیفوں سے پیار کرتے ہیں ان پہ اپنی جان نثار کرتے ہیں.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ضمانت 1 لاکھ مچلکوں کے عوض منظور کر لی، 25 ارب وَڑ گئے
قصور میں طوفانی بارش اور آندھی سے تباہی، جانی و مالی نقصان
عمران خان کے بچے کبھی پاکستان کیخلاف بات کرینگے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔بیرسٹر گوہر
سندھ کے تمام تعلیمی اداروں میں کل سے تدریسی عمل بحال ہو جائے گا۔شرجیل میمن
محسن نقوی نے غیرقانونی پاکستانی شہریت رکھنے والوں کونیشنل ڈیٹا بیس سے نکالنے کی ہدایت کردی۔