*گستاخ رسول ﷺ کو سزا دینی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!* *تحریر ۔ محمد سکندر شاہ ،، ٹنڈوالہیار*
*گستاخ رسول ﷺ کو سزا دینی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!*
*تحریر ۔ محمد سکندر شاہ ،، ٹنڈوالہیار*
*عام تاثر یہ ہے کہ ضلع عمر کوٹ میں ایک ڈاکٹر شاہنواز نے توہین رسالت ﷺ کی اور بغیر کسی تحقیق کے مذہبی جنون میں مبتلا ہو کر ڈاکٹر شاہنواز کو سندھڑی ضلع میرپور خاص پولیس نے قتل کر دیا ، اسی تاثر کو لے کر 295 سی قانون کے خلاف دنیا بھر میں پھر سے ہرزہ سرائی شروع ہوگئی ہے ، دوسری طرف من پسند تاثر پیدا کر کے ڈاکٹر شاہنواز کو مظلوم بنانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے ، میری یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ڈاکٹر شاہنواز کے حوالے سے جو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ انہیں توہین رسالت ﷺ کیس میں بغیر کسی تحقیق کے قتل کیا گیا ہے یہ تاثر درست نہیں ہے ، پولیس کے مطابق اصل واقعہ یہ ہوا ہے کہ سندھڑی پولیس کے SHO گشت پر تھے ، یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس مقام پر ڈکیتی اور راہزنی عام ہے ، اس لئے پولیس چیکنگ بہت سخت ہوتی ہے ، چیکنگ کے دوران وہاں سے دو موٹر سائیکل سوار گزرے پولیس نے انہیں رکنے کا اشارہ دیا تو وہ نہیں رکے اور موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے فائرنگ شروع کر دی ، بائیک والے کے فائر ڈاکٹر شاہنواز کو بھی لگے اور ڈاکٹر شاہنواز بائیک سے نیچے گرا اور موقع پر ہلاک ہوگیا ، SHO سندھڑی کا کہنا ہے کہ جب ہم نے مرنے والے کی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ تو ڈاکٹر شاہنواز ہے اور عمر کوٹ پولیس اسے تلاش کر رہی ہے ، یعنی ڈاکٹر شاہنواز جب پولیس مقابلے میں مارا گیا تو اس وقت پولیس اس بات سے لا علم تھی کہ یہ ڈاکٹر شاہنواز ہے ، ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کے بعد SSP عمر کوٹ کا کہنا ہے کہ ضروری قانونی کاروائی کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کی اس کی ذاتی زمین میں تدفین کر دی گئی تھی ، میت کو جلانے والی ویڈیوز میں ایڈیٹ کی گئی ہے ، یعنی کچھ لوگوں نے یہ کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے ، دوسری طرف ڈاکٹر شاہنواز کے حامیوں کا مئوقف یہ ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کو کراچی میں پولیس کے حوالے کیا گیا ، پھر پولیس نے جعلی مقابلے میں ڈاکٹر شاہنواز کو قتل کر دیا ، اگر ڈاکٹر شاہنواز کے حامیوں کی بات مان لی جائے تو یقننا اس بات کا ثبوت انہیں دینا ہوگا کہ انہوں نے کن لوگوں کی موجودگی میں کن افسران کے حوالے ڈاکٹر شاہنواز کو کیا ، جب تک اس بات کا ثبوت سامنے نہیں آئے گا کہانی الجھی رہے گی ، پولیس اور ڈاکٹر شاہنواز دونوں فریقوں کا مختصر مئوقف میں نے اپنے کالم پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیا ہے ، دونوں فریقوں کا مئوقف سنیں اور خود فیصلہ کریں کہ کس کی بات میں وزن ہے ، یہ بات بھی سن رہے ہیں کہ ڈاکٹر شاہنواز کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور تدفین کے موقع پر ایک بڑا ہجوم قبرستان پہنچ گیا ، اگر یہ سچ ہے تب تو SSP عمر کوٹ کا مئوقف حقیقت کے قریب لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کی قتل کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کی گئی اور باقاعدہ ذاتی زمین میں تدفین ہوئی ، جو لوگ قبرستان میں تدفین کے آڑے آئے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہوا ہے اور کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں ، سارے منظر نامے کے بعد اب میں اپنی جماعت کا مئوقف اس حوالے سے عرض کروں گا ، ہماری جماعت کا مئوقف یہ ہے کہ پاکستان میں جنگل کا قانون نہیں ہونا چاہئے ، ماورائے عدالت بھی کسی کا قتل نہیں ہونا چاہئیے ، لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں پر ماورائے عدالت قتل ہوتے ہیں ، مظفر گڑھ کے شہداء جیلوں میں عدالتی کسٹڈی میں تھے ، یعنی ملزم ہونے کے باوجود ان کی جان کی حفاظت عدالت اور ریاست کی ذمہ داری تھی لیکن عدالت اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہیں اور عدالتی کسٹڈی کے ملزمان کو جیلوں سے نکال کر پولیس مقابلے میں مار دیا گیا ، ایسے سیکڑوں بدنما پولیس مقابلے ہمارے دامن کو داغدار کر رہے ہیں ، لیکن مزید بدقسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ جب بھی ایسے پولیس مقابلے ہوتے ہیں تو مقابلوں میں حصہ لینے والوں کی ترقیاں ہوتی ہیں ، انہیں اعزازات سے نوازا جاتا ہے ، لیکن ڈاکٹر شاہنواز کے پولیس مقابلے کے بعد منظرنامہ تبدیل ہے ، SSP اور DiG تک کو معطل کیا گیا ہے ، صوبائی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں ، کیونکہ FATF اور دیگر عالمی ادارے چیخ رہے ہیں کہ پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کے ملزم کو تحفظ کیوں نہیں دیا گیا ، یہ عالمی دباؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان میں آج تک توہین رسالت ﷺ کے کسی ملزم کو سزائے موت نہیں دی گئی ہے ، یعنی 295 سی کے قانون کو بنے 40 سال ہونے کو ہیں مگر آج تک عملی طور پر اس قانون کا اطلاق کسی مجرم پر نہیں ہوا ہے ، آپ دیکھتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ سے توہین رسالت ﷺ کے ملزم کو سزائے موت ملنے کے باوجود توہین رسالت ﷺ کے اکثر ملزمان کو ہماری سپریم کورٹ کسی نہ کسی وجہ سے بری کر دیتی ہیں ، آسیہ مسیح اور مبارک ثانی کیس سب کے سامنے ہیں ، توہین رسالت ﷺ کے مجرموں کو پھانسی سے بچانے کے لئے سزائے یافتہ مجرم کو حکومت جیل میں تو بند رکھتی ہے مگر پھانسی پر نہیں لٹکاتی ، ہر حکومت باقاعدہ انتظار کرتی ہے کہ سپریم کورٹ تک بات جائے اور وہ اسے بری کر دے ، اس لئے توہین رسالت ﷺ کرنے والے ملزمان اس بات سے بے فکر ہوتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے ہماری سزا پر عملدرآمد نہیں ہوگا ، حالانکہ ممتاز قادری سمیت متعدد عشاق رسول ﷺ ایسے ہیں کہ جنہیں سزا دیتے وقت حکومت بالکل نہیں چوکی اور سزا کے فیصلے پر فوری عمل ہوا ، یقننا ہمیں بطور جماعت اس بات کا بھی احساس ہے کہ ہماری ہر حکومت کمزور معیشت کی وجہ سے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرتی ، اسی لئے ہماری جماعت وہ عظیم جماعت ہے کہ جو اپنے جلسے جلوسوں کے لئے معیشت کا پہیہ جام نہیں کرتی ، ہمارا جلوس بھی چلتا ہے اور کاروبار بھی چلتا ہے ، کچھ لوگ اپنے پروٹوکول کے لئے کاروبار بند کرواتے ہیں یقننا یہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے ، پھر آتے ہیں ڈاکٹر شاہنواز پر ، ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی تحقیقات بلاشبہ کریں ، لیکن اس کی آڑ میں توہین رسالت ﷺ کے قانون کو نشانہ مت بنائیں ، ایک اور نقصان جو میں ذاتی طور پر محسوس کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ دینی طبقے کے لئے پہلے ہی اعلی عہدوں اور فورسز میں داخلے کے لئے مواقع انتہائی محدود ہیں ، میرپور خاص اور کوئٹہ کے واقعہ کے بعد اس حوالے سے عالمی دباؤ پر مزید گھیرا تنگ ہوگا ، یہ ملازمتیں دینی طبقے کے لئے خواب بن جائیں گی ، اس لئے ماورائے عدالت گستاخوں کا قتل دینی طبقے کے مفاد میں نہیں ہے ، دینی کارکن ہمیشہ آئینی و قانونی جدوجہد کریں ، بالخصوص دینی قیادت ایسے موقعوں پر جذبات میں نہ آئے ، پولیس مقابلوں میں پولیس کا مئوقف ہمیشہ مشکوک لگتا ہے ، لیکن ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں مئوقف ان کے حامیوں کا بھی دو ٹوک نہیں ہے ، متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں ، کبھی کہتے ہیں وہ ذہنی مریض تھا کبھی کہتے ہیں کہ وہ آئی ڈی اس کی نہیں تھی ، علاقہ مکین کہتے ہیں کہ جب ہم نے ڈاکٹر شاہنواز کے والد سے ان پوسٹوں کی شکایت کی تو انہوں نے اس وقت کہا کہ ہمارا اس سے تعلق نہیں ہے لیکن اب کچھ اور کہہ رہے ہیں ، بہرحال سنا ہے کہ 3 ڈی آئی جیز پر مشتمل بورڈ اس واقعے کی تحقیقات کرے گا ، ہم آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اس لئے ہم بھی اس تحقیقات کے منظر عام پر آنے کا انتظار کریں گے ، لیکن یہ بات طے ہے کہ توہین رسالت ﷺ سنگین جرم ہے ، اس جرم کے مرتکب افراد کو حکومت کو سزا دینی ہوگی ، دینی ہوگی ، دینی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
میرے کالم بروقت پڑھنے کے لئے میرا واٹس ایپ چینل یا کالم والا واٹس ایپ گروپ ضرور جوائن کریں