October 28, 2026

اسلام آباد *افسوس پاکستان کا قانون اور پولیس کا دباو صرف کمزور نہتے غریب شہریوں پر ہی کیوں ہے کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی دیکھنے والا نہیں اللہ کو ایک دن سب نے جان دینی ہے*

IMG-20240922-WA0085

اسلام آباد

*افسوس پاکستان کا قانون اور پولیس کا دباو صرف کمزور نہتے غریب شہریوں پر ہی کیوں ہے کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی دیکھنے والا نہیں اللہ کو ایک دن سب نے جان دینی ہے*

اسلام آباد پولیس اپنی غنڈہ گردی سے باز نہ آئی پولیس کی وردی میں اہلکار محکمہ پر دھبہ ہیں

شہریوں سے دشمنیاں خود پالتے ہیں بعد ازاں حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں پھر کہتے ہیں.

افسران بالا کی نااہلی بھرتی تو کرلیتے ہیں تاہم کریمنل ریکارڈ چیک نہیں کیا جاتا۔نئے بھرتی ہونے والے نوجوان آپے سے باہر دیکھائی دینے لگے۔

ڈولفن پولیس ملازمین کو تربیت کی ضرورت ہے شہریوں سے حسن اخلاق سے پیش نہ آنا معمول بنتا جارہا ہے

لیٹ نائٹ ڈولفن اہلکار جی نائن بازار کے سٹال ہولڈر کو تھانہ کراچی کمپنی سے اٹھا کر تھانہ آبپارہ میں بند کردیا.اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

شہری بابر نے بتایا کہ میں نہ تو ناجائز فروش ہوں۔اور نہ ہی میری کو کریمنل ایکٹیوٹی ہے۔اور نہ ہی آج تک کسی مقدمہ میں نامزد ہوں

محنت مزدوری کرکے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالتا ہوں۔

رات کے اوقات میں ڈولفن اہلکار آئے مجھ سے سناختی کارڈ پوچھا۔میں دیکھایا اور کہنے لگے یہ تمہاری شناخت نہیں ہے۔پولیس سے دو نمبر ی کرتے ہو۔اور مارپیٹ کرنا شروع کردی

تھانہ کراچی کمپنی سے اٹھا کر تھانہ آبپارہ میں تعینات آستین کا سانپ ذوالفقار اے ایس آئی کے حوالے کردیا

جو پہلے ہی نشے میں لگ رہاتھا۔نیند میں تھا یا گھر والوں سے لڑ کر نکلا تھایاکسی کے بارے میں پلاننگ کررہا تھامعلوم نہیں ذوالفقار اےس ایس آئی محکمہ پر دھبہ کیوں لگانے لگا۔

معمولی نوعیت کے ذولفن اہلکاروں کی باتوں میں آکر یقین کرنے لگا۔تفتیشی تو تفتیشی ہوتا ہے جو تحقیقات کرنے کے بعد شریف شہری کو چھوڑ دے

تاہم ایسا کچھ نہیں۔بابر نے بتایا کہ ذوالفقار نامی اے ایس آئی نے فحاش الفاظ میں گالم گلوچ کی۔مزید کہا کہ
تمہاری(گا)تو نہیں ماری

آئی جی اسلام آباد،ڈی آئی جی آپریشن،ایس ایس پی آپریشن۔ایس پی سٹی ودیگر افسران یہ بتائیں کیا پولیس کی شہریوں سے بدتمیزی جائز ہے

اے ایس آئی کا شریف وسادہ لوح شہری کو فحاش گالی دینا کونسا قانون ہے

جو ایسے الفاظ روٹین میں بولتا ہوگا تو اس کے گھر میں ماوں بہنوں اور بیٹیوں کے سامنے کیسے غلیظ الفاظ بکتا ہوگا

شہری کی عزت ونفس مجروح ہوئی۔آئی جی اسلام آباد کے لیے ڈولفن پولیس اور تھانوں میں تعینات اہلکار کی بدتمیزی لمحہ فکریہ ہے

پھر اہلکار کہتے ہیں فلاں شہری ٹھوک کرچلا گیا۔دنیا گول ہے۔مقافات عمل ہے۔جیسا بوگئے ویسا کاٹو گئے

اہلکاروں کو شہریوں سے حسن اخلاق سے پیش آنے کی تربیت دی جائے.

شہری کو بلا کر بدتمیز ڈولفن اہلکار اور متعلقہ تھانہ آبپارہ تفتیشی ذوالفقار کو طلب کرکے شہری کو انصاف دلایا جائے.