October 28, 2026

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بعد وائس چیئرمین پاکستان بار نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا

20240919_181431

‏سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بعد وائس چیئرمین پاکستان بار نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا

وکلا کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ بینچوں کی تشکیل اور مقدمات کے تعین کے لیے سینئر ججز پر مشتمل کمیٹی بنائے جائے، پاکستان بار کونسل

آرڈیننس کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں ترمیم کرنا وکلا کی جدوجہد کی نفی کرنے کے مترادف ہے، پاکستان بار اعلامیہ

پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو سپریم کورٹ نے خود آئینی اور قانونی طور پر درست قرار دیا تھا، اعلامیہ پاکستان بار

آرڈیننس عارضی قانون سازی ہے جو اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب کوئی ہنگامی ضرورت ہو، پاکستان بار کونسل

آرڈیننس کے ذریعے چیف جسٹس کو بینچ کی تشکیل کا یکطرفہ اور صوابدیدی اختیار دیا گیا، پاکستان بار کونسل

آرڈیننس ایک غیر منصفانہ قانون ہے، پاکستان بار کونسل

پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس ایک بری قانون سازی ہے، پاکستان بار کونسل

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے رات کے اندھیرے میں مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کر دیا

آرڈیننس پر پارلیمان کے اندر کوئی بحث نہیں کروائی گئی، فاروق ایچ نائیک

صدارتی آرڈیننس آئین پاکستان کی ان شقوں کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں قانون سازی کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کو دیا گیا ہے، اعلامیہ پاکستان بار

حکومت کو صدارتی آرڈیننس کے اجراء سے پہلے پاکستان بار کونسل سے رابطہ کرنا چاہیے تھا، اعلامیہ پاکستان بار

پاکستان بار نے ہمیشہ ائین کی بالادستی قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی ہے، اعلامیہ

حکومت صدارتی آرڈیننس پر رائے کے لیے پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے پیش کرے، پاکستان بار کا مطالبہ