October 10, 2026

القِسمت فاؤنڈیشن کا مثالی اقدام: رمضان دسترخوان کا تسلسل خدمتِ خلق کی روشن مثال خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف

IMG-20260225-WA0238

القِسمت فاؤنڈیشن کا مثالی اقدام: رمضان دسترخوان کا تسلسل خدمتِ خلق کی روشن مثال
خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور ایثار و ہمدردی کا مہینہ ہے۔ یہی وہ مقدس وقت ہوتا ہے جب معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد اور فلاحی ادارے ضرورت مند طبقات کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں القسمت فاؤنڈیشن کے صدر رانا محمد یونس شاید کی زیر نگرانی امسال بھی لاری اڈہ جوہرآباد پر رمضان دسترخوان کا باقاعدہ انعقاد ایک قابلِ تحسین اور لائقِ تقلید اقدام ہے، جو نہ صرف مستحقین کے لیے سہارا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی عملی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔
القسمت فاؤنڈیشن طویل عرصہ سے فلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش چلی آر رہی ہے۔ تعلیم، صحت اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں خدمات انجام دینے کے بعد رمضان المبارک میں دسترخوان کا اہتمام اس عزم کا اظہار ہے کہ کوئی بھی روزہ دار افطار کے وقت محرومی کا شکار نہ ہو۔ اس سال بھی فاؤنڈیشن نے وسیع پیمانے پر دسترخوان سجانے کا اہتمام کیا ہے جہاں یومیہ متعدد افراد باعزت طریقے سے روزہ افطار کر رہے ہیں۔
رمضان دسترخوان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں آنے والے افراد کو عزت و احترام کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے اور معیاری، صاف ستھرا اور متوازن افطاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ رضاکار خوش اخلاقی سے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں، جس سے ایک مثبت اور روحانی فضا قائم رہتی ہے۔ یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خدمتِ انسانیت ہی دراصل عبادت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
معاشی دباؤ اور مہنگائی کے اس دور میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، مسافر، طلبہ اور نادار خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں القسمت فاؤنڈیشن کا یہ اقدام ان کے لیے امید کی کرن ثابت ہو رہا ہے۔ کئی افراد نے اس احساس کا اظہار کیا کہ دسترخوان نے نہ صرف ان کی مالی پریشانی کم کی بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلایا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
اس موقع پر فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں باہمی تعاون، اخوت اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق اگر صاحبِ حیثیت افراد اور ادارے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں تو غربت اور بھوک جیسے مسائل پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس کارِ خیر میں مخیر حضرات، تاجر برادری اور نوجوان رضاکار بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اجتماعی تعاون کی یہی روح کسی بھی معاشرے کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ رمضان دسترخوان دراصل ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں خدمت اور خلوص کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ القسمت فاؤنڈیشن کا رمضان دسترخوان محض ایک فلاحی سرگرمی نہیں بلکہ انسان دوستی کا عملی درس ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جائے اور معاشرے کے دیگر طبقات بھی اس نیکی کے سفر میں شریک ہوں، تاکہ رمضان کی حقیقی روح—یعنی ہمدردی، ایثار اور مساوات—کو فروغ دیا جا سکے۔