عمرکوٹ رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف کنری،آٹاچکی ایسوسی ایشن اورمحکمہ خوراک میں
عمرکوٹ رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف
کنری،آٹاچکی ایسوسی ایشن اورمحکمہ خوراک میں ٹھن گئی،گندم کاکوٹہ جاری نہ ہوسکا،آٹاچکی مالکان کی جانب سے بدترین کرپشن کے الزامات،وزیراعلیٰ سندھ،اعلیٰ عدلیہ اورمتحسب اعلیٰ سمیت دیگرافسران سے نوٹس لینے کامطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق آٹاچکی ایسوسی ایشن کنری کے صدرحاجی منیراحمد آرائیں،فرحان عباس،کریم قائم خالی ودیگر نے بتایاکہ محکمہ خوراک عمرکوٹ کی جانب سے ہڈدھرمی برقرارہے اور تعلقہ کنری سمیت عمرکوٹ ضلع بھر کے آٹاچکیوں کیلئے مقررکردہ ماہ فروری کا سرکاری گندم کا کوٹہ تاحال نہیں مل سکاہے انہوں نے کرپشن کے سنگین الزامات عائدکرتے ہوئے بتایاکہ مارکیٹ میں آٹا مہنگاہونے اورمیڈیا پر خبریں آنے کے بعد محکمہ خوراک کے آفسران نے کوٹہ جاری کرنے کیلئے مورخہ 23فروری 2026کے روزانکو میرپورخاص بلایا تھاوہاں پہنچے تو وہاں پر موجود محکمہ خوراک عمرکوٹ کاہیڈ کلرک اشرف آرائیں فی بوری پر 01ہزارروپے اضافی رقم بطوررشوت طلب کررہاتھا منت سماجت کے بعد 06 سوروپے تک آگیاجس کے گواہ اورثبوت موجود ہیں انہوں نے مذحمت کی تو کہنے لگاپیسے دوگے توگندم ملے گی بصورت دیگرگندم نہیں ملے گی،انہوں نے کہاکہ عمرکوٹ ضلع بھرمیں آٹاچکیوں پر1036 اسٹون موجود ہیں محکمہ خوراک عمرکوٹ کیجانب سے ماہ جنوری کے دوران بھی مقررکردہ گندم کاپوراکوٹہ جاری نہیں کیاگیاتھااور فی اسٹون14بوری گندم جاری کی گئی تھیں جبکہ فی اسٹون 24بوری گندم کوٹہ مقررتھا بعد میں انکشاف ہواکہ ماہ جنوری کے دوران آٹاچکی والوں کو کوٹہ کے ضمن میں فی اسپون 23 بوری گندم جاری کی گئیں تھیں جوکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی درج ہے،اس طرح ماہ جنوری کے دوران آٹاچکی والوں کے کوٹہ سے 09بوری گندم فی اسٹون کے حساب سے غائب کردی گئی ہے اوراوپن مارکیٹ میں فروخت کرکے کروڑوں روپے خردبردکئے جاچکے ہیں،جبکہ اس سال ہونیوالی بدترین کرپشن اسکے علاوہ ہے،انہوں نے بتایاکہ اس وقت عمرکوٹ ضلع بھر میں موجودتمام سرکاری گوداموں میں گندم کی ایک بوری بھی موجود نہیں ہے معلوم ہواہے کہ کوٹ غلام محمد کے سرکاری گوداموں سے گندم کی بوریاں غائب کرکے انکی جگہ بھوسے سے بھری ہوئی بوریاں رکھ دی گئیں ہیں انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے غریب عوام کوریلیف پہنچانے کی غرض سے گندم پرسبسڈی دی تھی تاکہ غریب عوام کوگندم کی قلت کے دوران سستاآٹامیسرآسکے مگرآفسران کی بدعنوانیوں کی وجہ سے ثمرات غریب عوام تک نہیں پہنچ سکے ہیں اوربدترین کرپشن کے تحت سرکاری سستی گندم اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں پر فروخت کرکے کروڑوں روپے خردبردکئے جاچکے ہیں اور غریبوں کے حق پرڈاکہ ڈالاگیاہے انہوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کیلئے تحریرطورپردرخواستیں ارسال کردئیں ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ،صوبائی وزیرخوراک سندھ،چیف سکریٹری سندھ،اعلیٰ عدلیہ،سوبائی متحسب اعلیٰ سندھ سمیت دیگربالاحکام سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔