11

گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) پانچ مفت انسانی اعضاء کی پیوندکاری کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا

گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) پانچ مفت انسانی اعضاء کی پیوندکاری کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا

سکھر/گمبٹ(بیورورپورٹ)ضلع خیرپور کے پرسکون قصبے گمبٹ میں قائم گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) قومی طبی منظرنامے پر ایک عالمی معیار کے ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جو انسانی جانیں بچانے والے پانچ بڑے اعضاء کی 100 فیصد مفت پیوندکاری کی سہولت فراہم کرنے والا ملک کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن چکا ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر کیپٹن (ر) ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کی قیادت میں گمس نے گردے، جگر، بون میرو، کارنیا اور پھیپھڑوں کی مفت ٹرانسپلانٹ سروسز کے ذریعے صحت کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ وہ کارنامہ ہے جس کا دعویٰ ملک کا کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا۔گمس کا سفر 2012 میں پہلی کارڈیک سرجری سے شروع ہوا۔ 2015 میں آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کے قیام نے ادارے کی طبی سہولیات میں اہم اضافہ کیا۔ 2016 میں پاکستان کا پہلا 100 فیصد مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کامیابی سے انجام دیا گیا، جس کے بعد مفت لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کا قیام عمل میں آیا۔
ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق اس اقدام نے گمبٹ کو وہ واحد مقام بنا دیا جہاں مریضوں کو بیرونِ ملک یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کا رخ کیے بغیر عالمی معیار کی ٹرانسپلانٹ سہولت میسر آئی۔انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری اور حکومتِ سندھ کے تعاون سے گمس کو صوبے کے پہلے مکمل طور پر مفت طبی مرکز میں تبدیل کیا گیا۔ ادارے کی توسیع کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا اور 2018 میں کارنیا ٹرانسپلانٹیشن کا آغاز کیا گیا۔ 2019 سے 2021 کے دوران ریپڈ رسپانس یونٹ، گمبٹ ہارٹ سینٹر اور جدید آئی سی یو قائم کیے گئے، جبکہ ہیماتولوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت 100 فیصد مفت بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ اور نیورولوجی میں لیزر تھراپی سینٹر بھی فعال کیا گیا۔جدید کینسر کیئر اور پھیپھڑوں کی پیوندکاری 2022 میں پیپلز پارٹی کی فنڈنگ سے جدید ترین نیوکلیئر میڈیسن کینسر کیئر اینڈ ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں آیا۔ 2023 میں گمس خیرپور میں پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج اور پھیپھڑوں کی ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی مکمل طور پر مفت فراہم کی جانے لگی۔ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق 2024 تک ادارہ 1,362 سے زائد مفت لیور ٹرانسپلانٹس مکمل کر چکا ہے، جبکہ 100 سے زائد مفت بون میرو ٹرانسپلانٹس بھی سرانجام دیے جا چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار نے گمس کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام دلایا ہے۔ادارے میں علاج کروانے والے مریضوں میں 47 فیصد کا تعلق سندھ، 34 فیصد پنجاب، 15 فیصد بلوچستان اور 4 فیصد خیبر پختونخوا سے ہے، جبکہ آزاد کشمیر، اسلام آباد اور ہمسایہ ملک افغانستان سے بھی مریض مفت علاج کے لیے گمبٹ کا رخ کرتے ہیں۔گمس انسانی ہمدردی، مساوی طبی سہولتوں اور بلا امتیاز مفت علاج کی فراہمی کے حوالے سے ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ جدید ترین طبی سہولیات، ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور مکمل سرکاری سرپرستی کے باعث یہ ادارہ نہ صرف محروم طبقات کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ پاکستان کے صحت عامہ کے نظام میں ایک معیاری اور قومی اثاثے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز آج اس حقیقت کا مظہر ہے کہ اگر عزم، قیادت اور حکومتی تعاون میسر ہو تو عالمی معیار کی طبی سہولیات ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں