10

سکھر میں رمضان کے دوران پھلوں کی قیمتیں آسمان پر

سکھر میں رمضان کے دوران پھلوں کی قیمتیں آسمان پر
20 سے 40 فیصد اضافہ، شہریوں کا سرکاری نرخنامے پر سخت عملدرآمد کا مطالبہ

سکھر(بیورورپورٹ)رمضان المبارک کے مقدس ایام کے دوران سکھر میں پھلوں کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں، جس کے باعث روزہ دار شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کے سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو منافع خور عناصر سے بچایا جا سکے۔تفصیلات کے مطابق ملک کے دیگر شہروں کی طرح سکھر میں بھی رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی پھلوں کی قیمتوں میں 20 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سکھر فروٹ مارکیٹ اور شہر کے مختلف چوراہوں اور سڑکوں پر لگے ٹھیلوں پر فروخت ہونے والے پھل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔شہر میں بیورو آف سپلائیز اینڈ پرائسز اور مارکیٹ کمیٹی سکھر کے دفاتر اور عملہ موجود ہونے کے باوجود قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے سرکاری نرخنامہ جاری کیا جاتا ہے اور دکانداروں و ریڑھی بانوں سے 20 سے 50 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، تاہم یہ نرخنامہ نمایاں مقام پر آویزاں نہیں کیا جاتا۔
شہریوں کے مطابق بیشتر دکاندار من پسند قیمتیں وصول کرتے ہیں، جس کے باعث صارفین کو سرکاری نرخوں پر پھل دستیاب نہیں ہوتے۔ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں بھی عوام کا منافع خور مافیا کے ہاتھوں استحصال ہونا افسوسناک امر قرار دیا جا رہا ہے۔شہریوں نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر مقرر کردہ نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ روزہ دار اور عام شہری مناسب قیمت پر پھل خرید سکیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری نوٹس نہ لیا تو مہنگائی کا یہ سلسلہ رمضان کے بقیہ ایام میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں