8

ہور گل کوئی نئیں : میرے لکھے وچ لعنت سی ۔۔۔۔ میری قسمت خراب تھی کہ اپنا اچھا بھلا گھر برباد کر بیٹھی

ہور گل کوئی نئیں : میرے لکھے وچ لعنت سی ۔۔۔۔ میری قسمت خراب تھی کہ اپنا اچھا بھلا گھر برباد کر بیٹھی ۔۔۔باجی باجی کہہ کر بلاتا تھا ، میرا دماغ خراب ہو گیا وہی میرا یار بن گیا ۔۔۔۔ گرین ٹاؤن لاہور کی عصمت بی بی اپنے گناہوں پر نادم ۔۔۔۔ثابت ہوا گوشت کی ہر ڈھیری انسان کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی ۔۔۔۔ عصمت بی بی کی عمر 45 سال ہے وہ 20 سال سے شادی شدہ زندگی گزار رہی تھی ۔ تین بچے تھے ، زیادہ مالدار تو نہیں لیکن شوہر اچھا خاصا کماتا ، ہر ضرورت پوری کرتا ۔۔۔۔ پھر ایک نوجوان انکے گھر میں کرایہ دار بن کر آیا ، شرافت نامی یہ نوجوان جلد عصمت اور عارف کے بچوں سے گھل مل گیا ، وہ انہیں بہت پیار کرتا تھا ، عارف صاحب شرافت کو گھر کے کام بھی کہہ دیتے ۔ اس دوران اکیلی عورت اور مرد گھر میں ہوتے تو تیسرا ظاہری سی بات ہے شیطان ہوتا تھا ۔۔۔۔ تعلقات استوار ہوئے تو کچھ عرصہ بعد خاتون نے اپنے آشنا پر زور دینا شروع کردیا کہ میرا شوہر نشا پتہ کرتا ہے غیرعورتوں کے پاس بھی جاتا ہے ، تم میری اس سے جان چھڑواؤ اسکا کوئی بندوبست کرو ، پھر اس گھر میں تم میرے شوہر بن کررہنا ، میری بھی زندگی میں سکون آجائے گا اورتمہاری بھی زندگی سنور جائے گی ۔۔۔ خواتین کی باتوں میں آکر شرافت نے اپنے دوست کے ساتھ ملکر ق۔ت۔ل کا پلان بنایا ، خاتون نے پیسے دیے انہوں نے ایک پستو۔ل خریدا اور ایک روز موقع پا کر شرافت اور اسکے دوست نے عارف کو گو۔لیاں مار دیں اور ادھر ادھر ہو گئے ، عارف کو پیٹ میں گو۔لی لگی تھی وہ زخمی ہوا تو اسکے رشتہ دار اسے جناح ہسپتال لے گئے وہاں اسکا آپریشن ہوا اور یہ کئی روز وہاں زیر علاج رہا ، اسے دراصل گردے میں گو۔لی لگ گئی تھی علاج لمبا ہوا انتقال سے دو روز پہلے اس نے پولیس کو بیان دیا کہ اسے شک ہے اسکی بیوی نے شرافت کے ساتھ ملکر اسے گو۔لی مروائی ہے ، اس دوران جب کہ شوہر ہسپتال میں پڑا تھا عصمت کبھی کبھار چکر لگاتی ، شاید وہ دیکھنے آتی تھی کہ اسکے بچوں کا باپ کب مرتا ہے ،،، مہینے بعدعارف کو ایک روز اچانک تکلیف ہوئی اور وہ انتقال کر گیا، حیران کن بات یہ ہے عارف کو گو۔لیاں لگنے کے مقدمہ کی مدعی خود عصمت بی بی تھی جس نے شک کا اظہار کیا کہ اسکے کچھ دشمنوں نے اسے گو۔لیاں مروائی ہیں ۔۔۔۔ جو بیچارے معمولی مخالفت والے تھے اور اسکی زندگی اور صحت یابی کی دعائیں کرتے رہے ۔۔۔۔۔ عارف کے انتقال کے چند ماہ بعد تک تو پولیس روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی لیکن سی آئی اے لاہور کی ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا ، عارف خود شرافت پر شک کا اظہار کر چکا تھا پولیس نے مشکوک ملزم اور خاتون کے فون کا ریکارڈ مرتب کروایا تو کچھ شواہد سامنے آئے مگر اصل کرتب لتر شریف نے دکھایا جب ملزم کو حراست میں لے کر سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے واردات کی تمام تفصیلات بتا دیں ، ساتھی ملزم اور خاتون کا کردار سب کچھ بیان کردیا، ملزمہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ، جب اس عمر میں تین بچوں کی ماں ہو کر اس سے جرم کی اصل وجہ پوچھی گئی تو عصمت بی بی نے کہا : باجی بس میرے لکھے وچ لعنت سی ، میں ذلیل ہونا سی ، ہور گل کوئی نئیں ۔۔۔۔۔ اگر ہم ملزمہ کے ان جملوں پر غور کریں تو ان میں بہت بڑا سبق موجود ہے ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں