سکھر میں سانحہ مسجد الکبری کے خلاف احتجاج
شیعہ علماء کونسل تحصیل نیو سکھر کا پُرامن مظاہرہ، دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)شیعہ علماء کونسل تحصیل نیو سکھر سندھ کی جانب سے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آنے والے سانحہ مسجد الکبری کے خلاف قائد ملت جعفریہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر سکھر پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ انجمن کی جانب سے نوحہ خوانی بھی کی گئی۔مظاہرے کی قیادت مولانا ریاض حسین (صوبائی مسئول شعبہ تبلیغات، شیعہ علماء کونسل)، مولانا محبوب علی شر، نیاز حسین اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام آباد جیسے وفاقی دارالحکومت میں نمازیوں کو سجدے کی حالت میں شہید کیا جانا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شیعہ اور سنی مسلمانوں نے مل کر حاصل کیا تھا، اس کے امن کو چند مٹھی بھر تکفیری اور انتہا پسند عناصر خراب کرنا چاہتے ہیں، جن کی کارروائیوں کو فرقہ واریت کا رنگ دینا درست نہیں۔مولانا ریاض حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج قائد ملت جعفریہ کی ہدایت پر ملک بھر کی طرح سکھر میں بھی ریکارڈ کرایا جا رہا ہے تاکہ حکومت اور ریاستی اداروں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی دارالحکومت محفوظ نہیں تو دیگر شہروں کی صورتحال کیا ہوگی؟مقررین نے وزیراعظم پاکستان اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہداء کے لواحقین کی مکمل کفالت اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ بعض زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور انہیں بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔احتجاجی مظاہرہ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا تاہم رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔