اس خاتون کا نام آمنہ ہے۔ آمنہ کی عمر 10 سال تھی جب بنگلادیش سے انسانی اسمگلروں کا شکار بن کر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے خوبصورت رشتے سے جدا کی گئی تھی۔
اس خاتون کا نام آمنہ ہے۔
آمنہ کی عمر 10 سال تھی جب بنگلادیش سے انسانی اسمگلروں کا شکار بن پر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے خوبصورت رشتے سے جدا کی گئی تھی۔
آمنہ کا کہنا ہے کہ کسی نے بچیوں کو کہیں ملازمت دلوانے کا کہا تھا۔ ہم سب خوش ہوکر جمع ہوئیں۔ ہمیں کھانا کھلایا گیا۔
کھانے کے بعد ہوش نہیں رہا کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو پردیس میں تھے۔
ہمیں مختلف ہاتھوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ یعنی ہر خریدار نے اپنا منافع رکھ کر آگے بیچا۔
لاہور میں کسی نے خرید کر شادی کی۔کچھ سالوں بعد شوہر فوت ہوگئے۔ کوئی اولاد نہیں ہوئی
جن کے ہاں شادی ہوئی انہوں نے بہت اچھی طرح رکھا۔شوہر کے وراثت سے حصہ بھی دیا۔
چار سے پانچ دہائیاں اپنوں کی یاد میں جس اذیت سے گزارے اسکا اندازہ ہم اور آپ نہیں لگاسکتے۔
گزشتہ سال آمنہ کو ہم نے بنگلادیش میں انکے خاندان کے ساتھ ملوایا تھا۔
آمنہ کے والدین اپنی لخت جگر سے ملنے کے ارمان دل میں لئے دنیا سے کوچ کرچکے تھے۔دو بھائی بھی فوت ہوگئے تھے
تین بھائی موجود ہیں، اور چار بہنوں میں سے دو موجود ہیں۔
آمنہ نے اپنے دو کمروں میں میں ایک کمرہ بیچ کر ٹکٹ کے پیسے گزشتہ سال سے محفوظ رکھے ہیں۔بہن بھائی بنگلادیش میں اپنی بہن کو گلے لگ کر جدائی کی تکلیف کم کرنے کے لئے بےتاب ہیں۔آمنہ یہاں دن رات گن کر گزاررہی رہی کہ کب اپنوں سے ملنے کی گھڑی آپہنچے۔
آمنہ ہمارے گروپ کا حصہ ہے۔ہم جن سات خواتین کو اپنوں سے ملانے لے جارہے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہیں۔
ان شاءاللہ 6 فروری کی صبح آمنہ ڈھاکہ ائیرپورٹ پر قدم رکھےگی اور وہاں انکے خونی رشتے بےتاب منتظر ہونگے وہاں جدائی کے تالے ٹوٹ جائیں گے۔