سندھ پولیس کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو آفر آرڈرز جاری نہ ہو سکے، سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
سندھ پولیس کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو آفر آرڈرز جاری نہ ہو سکے، سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
ڈھائی سال سے انتظار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ، مطالبات منظور نہ ہونے پر کراچی تک پیدل لانگ مارچ کی دھمکی
سکھر(بیورورپورٹ سید۔ نصیر حسین زیدی)سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ پاس کرنے والے SPD-01 کے ویٹنگ امیدواروں نے آفر آرڈرز جاری نہ ہونے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر آفر آرڈرز جاری کرنے، میرٹ کی پاسداری اور مبینہ بدعنوانی کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیدوار مظفر جوکھیو، وکیل احمد، محمد شہزاد اور دیگر امیدواروں نے کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ انہوں نے سال 2024 میں سندھ پولیس SPD-01 کے تحت کانسٹیبل کی بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیے تھے، تاہم ڈھائی سال کے قریب عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں آفر آرڈرز جاری نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث 10 ہزار سے زائد امیدوار شدید پریشانی اور بے یقینی کا شکار ہیں۔امیدوار مظفر جوکھیو اور دیگر کا کہنا تھا کہ وہ غریب اور محنت کش خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والدین محنت مزدوری کرکے گھروں کا نظام چلاتے ہیں۔ امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بدعنوانی کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اہل امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر ان کے حقوق دیے جائیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس میں اہلکاروں کی ضرورت اور خالی آسامیوں کے باوجود کامیاب امیدواروں کو آفر آرڈرز جاری نہ کرنا تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق محکمہ پولیس میں 15 ہزار سے زائد آسامیوں کے خالی ہونے کی اطلاعات ہیں، اس کے باوجود ویٹنگ امیدواروں کو مسلسل انتظار کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل تاخیر نے امیدواروں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جبکہ ان کے والدین بھی شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔احتجاجی امیدواروں نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، بھرتیوں کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور ویٹنگ لسٹ میں شامل تمام اہل امیدواروں کی پوزیشن واضح کرکے قواعد و ضوابط کے مطابق آفر آرڈرز جاری کیے جائیں۔مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں ایک ہفتے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس دوران ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو وہ 4 تاریخ کو سکھر سے کراچی کی جانب پیدل لانگ مارچ شروع کریں گے اور متعلقہ حکام تک اپنی آواز پہنچائیں گے۔احتجاجی امیدواروں نے خبردار کیا کہ ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ امیدواروں کی طویل انتظار کی کیفیت ختم کرکے ان کے مستقبل کے حوالے سے فوری اور واضح فیصلہ کیا جائے۔