بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سکھر پریس کلب کے سامنے دو کم عمر بہنوں کا والد
بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
سکھر پریس کلب کے سامنے دو کم عمر بہنوں کا والد کے مبینہ تشدد اور ناانصافیوں کے خلاف احتجاج، والدہ اور تین بہن بھائیوں کی بازیابی کا مطالبہ
15 سالہ مطیہ اور 13 سالہ اقراء کا والد پر نشے کی حالت میں اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام، ماموں اور ان کے بیٹوں کے خلاف اغواء کا مقدمہ بھی جھوٹا قرار دے دیا
سکھر(بیورورپورٹ)گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی دو کم عمر بہنوں نے اپنے والد کے مبینہ ظلم و تشدد اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ احتجاج کرنے والی 15 سالہ مطیہ اور 13 سالہ اقراء نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد بشیر احمد مہر آئے روز نشے کی حالت میں ان کی والدہ اور پانچوں بہن بھائیوں کو مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، جس کے باعث ان کے گھر میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا قائم ہے۔احتجاج کے دوران دونوں بہنوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ مسماۃ حکیمہ زوجہ بشیر احمد مہر جب اپنے شوہر سے گھر کے اخراجات کے لیے رقم کا مطالبہ کرتی ہیں تو مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جان سے مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھریلو حالات اور مبینہ تشدد سے تنگ آکر انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے والد اور چچا سے جان بچائی اور اپنے ماموں قربان علی مہر کے پاس پناہ حاصل کی۔مطیہ اور اقراء نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے والد بشیر احمد مہر نے ان کے ماموں قربان علی مہر اور ماموں کے بیٹوں کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کروا دیا ہے، جو ان کے بقول بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہے۔ دونوں بہنوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور کسی بے گناہ کو مبینہ طور پر جھوٹے مقدمے میں ملوث نہ کیا جائے۔احتجاج کرنے والی بہنوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سمیت دیگر متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کی کہ ان کی والدہ مسماۃ حکیمہ اور تین بہن بھائیوں کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے، ماموں اور ان کے بیٹوں کے خلاف مبینہ جھوٹا اغواء کا مقدمہ ختم کیا جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔دونوں کم عمر بہنوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی شکایات کا فوری نوٹس لے کر مبینہ گھریلو تشدد اور دیگر الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ان کی والدہ اور بہن بھائیوں کی سلامتی یقینی بنائی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر متعلقہ حکام نے فوری مداخلت نہ کی تو ان کے خاندان کو مزید مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔