سندھ خالہ اور بھانجے کا مذہب تبدیل کر کے نکاح سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی
سندھ
خالہ اور بھانجے کا مذہب تبدیل کر کے نکاح سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی
کنری کے گاؤں گلو مل میگھواڑ کی رہائشی چار بچوں کی ماں نرملا نے اپنے سگے بھانجے بیر چند (تین بچوں کا باپ) کے ساتھ شادی کرنے کے لیے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا پیر ایوب جان سرہندی کے پاس کلمہ پڑھنے کے بعد ان کے نئے نام عائشہ شیخ اور محمد علی شیخ رکھے گئے
تاہم اس شادی نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں
اسلامی شریعت اور سماجی روایات کے مطابق خالہ اور بھانجے کا رشتہ محرم کے زمرے میں آتا ہے جس میں نکاح قطعی طور پر حرام ہے
عوامی حلقوں میں اس نکاح کو پڑھانے والے نکاح خواں کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے