October 28, 2026

سندھ خالہ اور بھانجے کا مذہب تبدیل کر کے نکاح سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی

Screenshot_2026-02-04_184427

سندھ
خالہ اور بھانجے کا مذہب تبدیل کر کے نکاح سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی
کنری کے گاؤں گلو مل میگھواڑ کی رہائشی چار بچوں کی ماں نرملا نے اپنے سگے بھانجے بیر چند (تین بچوں کا باپ) کے ساتھ شادی کرنے کے لیے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا پیر ایوب جان سرہندی کے پاس کلمہ پڑھنے کے بعد ان کے نئے نام عائشہ شیخ اور محمد علی شیخ رکھے گئے

تاہم اس شادی نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں

اسلامی شریعت اور سماجی روایات کے مطابق خالہ اور بھانجے کا رشتہ محرم کے زمرے میں آتا ہے جس میں نکاح قطعی طور پر حرام ہے

عوامی حلقوں میں اس نکاح کو پڑھانے والے نکاح خواں کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے