پرانے سکھر میں بنیادی سہولیات کا فقدان، سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ برہم، میئر سے 25 نومبر کو تفصیلی رپورٹ طلب
پرانے سکھر میں بنیادی سہولیات کا فقدان، سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ برہم، میئر سے 25 نومبر کو تفصیلی رپورٹ طلب
صاف پانی، تباہ حال سڑکوں اور ناقص سیوریج نظام پر عدالت کا اظہارِ تشویش، ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور سوئی سدرن گیس کمپنی سے ملنے والی رقم کی تفصیلات بھی زیرِ بحث آگئیں
سکھر(بیورورپورٹ سید نصیرحسین زیدی)سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے پرانے سکھر میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، تباہ حال سڑکوں اور سیوریج کے ناقص نظام پر بلدیاتی اداروں اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میئر سکھر سے مختلف یونین کونسلوں میں نصب واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تفصیلات اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے جامع تجاویز طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ تفصیلی رپورٹ 25 نومبر کو پیش کی جائے۔تفصیلات کے مطابق پرانے سکھر میں بنیادی شہری سہولیات کی عدم فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر مختص فنڈز کے استعمال سے متعلق سال 2021 میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار ایڈووکیٹ عبدالرحیم مہر نے عدالت کو بتایا کہ پرانا سکھر بنیادی سہولیات کے حوالے سے انتہائی خراب صورتِ حال سے دوچار ہے، جہاں شہری پینے کے صاف پانی، گیس اور نکاسیٔ آب جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ کونسل، ٹاؤن کمیٹی اور میئر سکھر کی جانب سے ایک دوسرے اور گیس کمپنی پر ذمہ داری عائد کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ متعلقہ اداروں کے درمیان الزامات اور جوابی مؤقف کے باعث شہری مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں کی حقیقی صورتِ حال پر سوالات اٹھائے گئے۔عدالت نے 18 کروڑ روپے اور ایک ارب روپے کے بحال شدہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال سے متعلق استفسار کیا کہ یہ خطیر رقم کہاں اور کن منصوبوں پر خرچ کی گئی؟ کارروائی کے دوران اینٹی کرپشن کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ پانچ کروڑ روپے اور مختلف منظور شدہ اسکیموں کے باوجود زمینی سطح پر ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر رہے۔درخواست گزار ایڈووکیٹ عبدالرحیم مہر نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ پرانے سکھر کے رہائشی صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہیں اور مبینہ طور پر نلکوں میں آنے والا گٹر کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جو شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو صاف پانی، بہتر سڑکوں اور نکاسیٔ آب کی سہولیات فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے باوجود عوام روزمرہ مسائل کا شکار ہیں۔درخواست گزار نے ترقیاتی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بجائے کروڑوں روپے کے ٹھیکوں کے ذریعے سڑکوں کے کنارے گملے اور گرلیں نصب کرکے شہر کی ظاہری خوبصورتی پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق ترقیاتی فنڈز کا استعمال عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے تاکہ شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔سماعت کے دوران میئر سکھر نے اپنے مؤقف میں کہا کہ کسی بھی نئی ترقیاتی اسکیم کی منظوری کے عمل میں تقریباً تین سال لگ جاتے ہیں۔ تاہم عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقوم کی تفصیلات واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔عدالت نے میئر سکھر کو ہدایت کی کہ مختلف یونین کونسلوں میں نصب واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تحریری تفصیلات پیش کی جائیں اور بتایا جائے کہ پرانے سکھر کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے جامع تجاویز بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔پرانے سکھر میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے متعلق یہ معاملہ شہری مسائل کے حل اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اب 25 نومبر کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں یہ واضح ہوگا کہ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی، سیوریج نظام کی بہتری اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کیا اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔