October 28, 2026

*صحافیوں کے حقوق، صحافتی تنظیموں کا اتحاد اور کراچی پریس کلب سے ایک دوٹوک اپیل*

IMG-20261023-WA0132(1)

*صحافیوں کے حقوق، صحافتی تنظیموں کا اتحاد اور کراچی پریس کلب سے ایک دوٹوک اپیل*

*عنوان: آزادیٔ صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں!!*

*تحریر: جاوید صدیقی*

پاکستان میں صحافت کی تاریخ محض خبروں، کالموں اور تجزیوں کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ حق گوئی، قربانی، استقامت اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کی داستان بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی سے صحافت کو مختلف سیاسی، ریاستی اور حکومتی دباؤ کا سامنا رہا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور وزیراعظم لیاقت علی خان کی وفات کے بعد ملک میں جمہوری اداروں کے کمزور ہونے اور بالخصوص فوجی آمریتوں کے ادوار نے آزادیٔ صحافت کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کیے۔ اخبارات پر پابندیاں، سنسرشپ، صحافیوں کی گرفتاریاں اور ادارتی آزادی میں مداخلت ہماری صحافتی تاریخ کے تلخ حقائق ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہر دور میں صحافت کا ایک طبقہ مقتدر قوتوں کے قریب رہا، جبکہ دوسرے طبقے نے حقائق کی بے لاگ ترجمانی، دیانت داری اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنایا۔ یہی وہ صحافی تھے اور ہیں جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ملازمتوں سے محروم ہوئے، معاشی مشکلات جھیلیں اور اپنی جانوں تک کی قربانیاں دیں، مگر اپنے ضمیر اور قلم کا سودا کرنے سے انکار کردیا۔ میں جاوید صددیقی جرنلسٹ و کالمکار ان عظیم صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں جانیں قربان کیں، مگر سچائی کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ آج بھی ان کے فکری وارث اور شاگرد در شاگرد صحافتی اصولوں، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور حق گوئی کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جدوجہد کسی ایک فرد، ادارے یا تنظیم کی نہیں، بلکہ سچ، انصاف اور آزادیٔ اظہار پر یقین رکھنے والے تمام اہلِ صحافت کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ یہ سفر کل بھی جاری تھا، آج بھی جاری ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
*پی ایف یو جے کی احتجاجی تحریک اور صحافتی اتحاد*
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے 3 نومبر 2026ء سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان کے تناظر میں، میں تمام صحافتی تنظیموں کے عہدیداران، ذمہ داران اور کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔ پی ایف یو جے اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے جاری کردہ اعلانات اور پریس ریلیزز کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کی تفصیلات صحافی برادری تک پہنچائی گئی ہیں۔ یہ اقدام ریاست، حکومت اور میڈیا انڈسٹری سے وابستہ تمام متعلقہ حلقوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے صحافی اپنے جائز حقوق، پیشہ ورانہ وقار، روزگار کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کے لیے متحد ہوکر آواز اٹھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں کا اتحاد، باہمی اخوت اور مشترکہ جدوجہد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ جب صحافی ذاتی، گروہی اور ادارتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں تو ان کی آواز زیادہ مؤثر اور مضبوط بن جاتی ہے۔ یہ اتحاد کسی فرد یا ادارے کے خلاف ذاتی محاذ آرائی نہیں، بلکہ اصولوں، حقوق اور پیشہ ورانہ آزادی کے تحفظ کی جدوجہد ہوتی ہے۔
*کراچی پریس کلب کے معزز اراکین سے خصوصی اپیل*
میں جاوید صدیقی، بطور صحافی، کالمکار اور کراچی پریس کلب و کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رکن، کراچی پریس کلب کی قیادت، عہدیداران اور تمام معزز اراکین سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ 3 نومبر 2026ء سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں بھرپور، منظم اور مؤثر شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ممکن ہو تو صحافی حضرات اپنے متعلقہ اداروں سے ایک روز کی رخصت لے کر احتجاج میں شرکت کریں، تاکہ صحافیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی موجودگی کے ذریعے ایک مضبوط، پُرامن اور متحد آواز بلند کی جاسکے۔ ہماری اجتماعی شرکت نہ صرف صحافتی یکجہتی کا عملی مظاہرہ ہوگی بلکہ متعلقہ حکام کو یہ احساس بھی دلائے گی کہ صحافیوں کے جائز مطالبات اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ صحافیوں کی طاقت محض ان کے قلم، مائیک یا کیمرے میں نہیں، بلکہ ان کے اتحاد، اصول پسندی اور اجتماعی عزم میں بھی پوشیدہ ہے۔
*میرا مؤقف: آزادیٔ صحافت ناقابلِ سمجھوتہ ہے!!*
صحافی کا بنیادی فریضہ حقائق کی تحقیق، تصدیق اور دیانت داری کے ساتھ عوام تک ان کی ترسیل ہے۔ صحافت نہ کسی حکمران کی خوشامد کے لیے ہے، نہ کسی طاقتور طبقے کے مفادات کی نگہبانی کے لیے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی اندھی حمایت کے لیے۔ صحافت کا اصل منصب عوام کو باخبر کرنا، اقتدار اور اختیار رکھنے والوں کا احتساب کرنا اور معاشرے میں سچائی و انصاف کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عمل سے باخبر ہے اور ہمیں اپنے قول و فعل میں جواب دہی کا احساس رکھنا چاہیے۔ اسی طرح نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات ہمیں سچائی، امانت اور دیانت کا درس دیتی ہیں۔ لہٰذا صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں جھوٹ، بہتان، جانبداری اور ذاتی مفادات سے اجتناب ناگزیر ہے۔ ہم حکومت اور ریاستی اداروں سے بھی واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ صحافیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہ کیا جائے، اختلافِ رائے کو جرم نہ بنایا جائے، تنقیدی صحافت کو دبانے کے لیے بے بنیاد الزامات کا سہارا نہ لیا جائے اور آزادیٔ صحافت کو محدود کرنے کے بجائے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 اور متعلقہ قانونی ضمانتوں کی پاسداری کی جائے۔
*ہمیں تنگ مت کرو! ہمیں ناجائز طور پر مقید مت کرو! ہمارے قلم کو خوف، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش مت کرو!*
اگر کسی صحافی سے کوئی قانونی خلاف ورزی سرزد ہو تو اس کا فیصلہ شفاف قانونی طریقۂ کار اور منصفانہ سماعت کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ، دھمکی یا انتقامی کارروائی کے ذریعے۔ آزادیٔ صحافت کا مطلب قانون سے بالاتر ہونا نہیں، بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آزادانہ، ذمہ دارانہ اور بے خوف صحافت کرنا ہے۔
*جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کا پیغام*
آئیے! 3 نومبر 2026ء سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں اپنے اختلافات بھلا کر صحافیوں کے حقوق، روزگار کے تحفظ، پیشہ ورانہ وقار اور آزادیٔ صحافت کے لیے متحد ہوجائیں۔ کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹس، پی ایف یو جے اور ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کے درمیان مضبوط رابطہ اور باہمی تعاون اس جدوجہد کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔ ہم نہ بکنے والے قلم کے علم بردار بنیں، نہ جھکنے والے ضمیر کے ترجمان اور نہ ہی خوف کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے صحافی۔ ہمارا عزم واضح ہے: حقائق کی ترجمانی، عوام کے حقوق کا تحفظ اور آزادیٔ صحافت کی پاسداری۔ ہم صحافی ہیں، سچائی کے مسافر ہیں۔ ہمارا قلم عوام کی امانت ہے، ہماری آواز حق کی ترجمان ہے اور ہماری جدوجہد آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے ہے۔ آزادیٔ صحافت زندہ باد! صحافتی اتحاد پائندہ باد!