October 28, 2026

عمران خان کا جیل سے بیان: عمران خان نے واضح کیا کہ پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے اور اگر حکومت عدلیہ کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئینی عدالت بنانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان تحریک انصاف ملک بھر میں احتجاج کرے گی۔

20240916_065654

1. عمران خان کا جیل سے بیان:
عمران خان نے واضح کیا کہ پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے اور اگر حکومت عدلیہ کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئینی عدالت بنانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان تحریک انصاف ملک بھر میں احتجاج کرے گی۔

2. طبل جنگ بجایا جا چکا ہے:
ایک پیغام میں کہا گیا کہ جنگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور اب بڑی لڑائی ہونے والی ہے۔

3. توسیع کے مقاصد:
حکومت کی توسیع صرف چیف جسٹس تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، چیف الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے ججز کو بھی شامل کر کے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

4. پارلیمنٹ اور پنڈی کی نظریں:
پارلیمنٹ کی توجہ پنڈی کی طرف ہے، اور تمام لوگوں کی نظریں پارلیمنٹ کے فیصلوں پر مرکوز ہیں۔

5. چیف جسٹس کے تقرر کی آئینی ترمیم:
آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے پانچ سینئر ججز کے پینل سے چیف جسٹس کا تقرر کیا جائے گا۔

6. اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر:
آئینی ترمیم کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو ٹرانسفر کر کے دیگر صوبوں میں بھیجا جائے گا۔

7. پی ٹی آئی کی خاموشی پر سوال:
پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر پارٹی خاموش رہی اور کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی۔

8. احتجاج کا مطالبہ:
لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کریں کیونکہ یہ فیصلہ ان کی نسلوں کے مستقبل کا ہے۔

9. چیف جسٹس کے تقرر کے نکات:
آئینی ترمیم کے تحت وزیر اعظم چیف جسٹس کا تقرر کریں گے، جو کہ ایک متنازعہ فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔

10. پی ٹی آئی قیادت میں اعتماد کی کمی:
پی ٹی آئی کے اندر قیادت کے درمیان عدم اعتماد کی بات کی گئی، جہاں ممبران کی تعداد کے حوالے سے کنفیوژن پائی جا رہی ہے۔

11. آئینی ترمیم کے خلاف تحریک انصاف کی حکمت عملی کی کمی:
تحریک انصاف پر تنقید کی گئی کہ وہ آئینی ترمیم کے معاملے پر کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکی۔

12. غیر آئینی ترمیم کی مخالفت:
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ غیر آئینی ترمیم ہے اور اس کے تحت عدلیہ کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

13. پی ٹی آئی کی خاموشی پر سوالات:
پی ٹی آئی کے سپریم کورٹ نہ جانے پر سوال اٹھایا گیا کہ آخر پارٹی نے آئینی ترمیم کے خلاف عدالت میں کیوں نہیں گئے۔

14. قاضی کی ایکسٹینشن کے خلاف بیان:
قاضی فائز عیسیٰ کی ایکسٹینشن کو روکنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

15. آئینی ترمیم پر وکلا تحریک کی دھمکی:
ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ وہ جسٹس منصور علی شاہ کو آئینی چیف جسٹس تسلیم کریں گے اور کسی رکاوٹ کی صورت میں وکلا تحریک شروع ہو گی۔

16. آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ کا اختیار:
ماہر قانون سعد رسول نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آئینی ترمیم ختم کرنے کا حق ہے اگر وہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہو۔

17. پارلیمنٹ کے اندر کوریج کی پابندی:
پارلیمنٹ کے اجلاس میں پی ٹی وی کی کوریج کی اجازت نہ دینے کی بات کی گئی۔

18. بیرونی دباؤ کا ذکر:
مولانا فضل الرحمن پر ایک اسلامی ملک کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا دعویٰ کیا گیا۔

19. آدھی رات کی کارروائیاں:
کہا گیا کہ حکومت نے آدھی رات کو کئی وارداتیں کیں، جیسے پارلیمنٹ پر حملے اور آئینی ترمیم کے فیصلے۔

20. مولانا عبدالغفور حیدری کا بیان:
مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ترامیم جلدی میں کی گئیں تو وہ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔

21. ملٹری کورٹ میں ترامیم کی مخالفت:
آئینی ترمیم میں ملٹری کورٹ کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ ملٹری کورٹ میں اپیل کا حق نہیں ہو گا، جو عمران خان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

22. تین افراد کے ووٹ کا ذکر:
اسلم گھمن، چوہدری عثمان، اور اورنگزیب کھچی کے ووٹ کو ترامیم کی کامیابی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

23. کابینہ اجلاس ملتوی:
وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور آئینی ترمیم آج پیش نہیں کی جائے گی۔

24. وزیر قانون کا بیان:
وزیر قانون نے کہا کہ انہیں ترمیمی مسودہ ابھی ملا ہے، جس پر طنز کیا گیا۔

25. جمیعت علماء اسلام کا مشورہ:
جمیعت علماء اسلام نے حکومت کو آئینی ترمیم کے بل کو موخر کرنے کا مشورہ دیا۔

26. پی ٹی آئی کو مشورہ:
پی ٹی آئی کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پشاور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرے تاکہ آئینی ترمیم کو روکا جا سکے۔

27. مسودے کی تیاری پر سوال:
کہا گیا کہ ترمیمی مسودہ کہیں اور سے تیار ہو کر آیا ہے اور اسمبلی سے اس کی منظوری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

28. قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی:
قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر کے کل صبح 11:30 بجے مقرر کیا گیا۔

29. آئینی ترمیم کی ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو فائدہ:
کہا گیا کہ آئینی ترمیم کی ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو عدالتوں میں پٹیشن دائر کرنے کا وقت مل گیا ہے۔