2014 میں ق۔ت۔ل ہونے والے بوڑھے میاں بیوی کے کیس کا معمہ حل : نہ کسی نے پرچہ کروایا نہ لا۔شیں
2014 میں ق۔ت۔ل ہونے والے بوڑھے میاں بیوی کے کیس کا معمہ حل : نہ کسی نے پرچہ کروایا نہ لا۔شیں برآمد ہوئیں مگر ق۔ت۔ل پھر بھی ٹریس ہو گیا ۔۔۔ دبنگ افسر آفتاب پھلروان کی سروس کا انوکھا واقعہ جب وہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سکواڈ میں ڈی ایس پی تھے ۔۔۔۔۔لاہور کے علاقہ نشتر کالونی میں 2022 میں پولیس نے ایک موٹرسائیکل چور سرفراز پطرس کو گرفتار کیا اور اس سے چوری کی موٹرسائیکل برآمد کی ، جب تھانے میں اسکے لواحقین کو بلایا گیا اور ان سے فیملی بیک گراؤنڈ پوچھا گیا کہ ملزم کے ماں باپ کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ باپ اور سوتیلی ماں دونوں کئی سالوں سے لاپتہ ہیں ، انکا خیال تھا کہ گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر دونوں کہیں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔یہی سوال ملزم سے کیا گیا تو ملزم نے جواب دیا کہ باپ مرگیا ہے جبکہ سوتیلی ماں کا اسے کوئی پتہ نہیں ۔۔۔ یہاں تفتیش کرنے والوں کو شک ہو گیا جب انوسٹی گیشن پولیس سے مدد لی گئی اور ملزم سے تفتیش کی گئی تو ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے سوتیلی ماں اور سگے باپ دونوں کو ق۔ت۔ل کیا ہے ۔۔۔2014 میں ملزم نشا کرتا تھا اس نے اپنے گھر سے سوتیلی ماں کے کچھ زیور اور پیسے چرائے ، جب بوڑھی خاتون کو پتہ چلا تو اس نے شور مچا دیا ، پطرس نے اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ملکر خاتون کو مارا پیٹا اور یہ زخمی ہو گئی تو اس نے کہا کہ مجھے فیصل آباد اپنی بھانجی کے پاس چھوڑ آؤ میں نے یہاں نہیں رہنا ، سرفراز پطرس اور اسکی بیوی سوتیلی ماں کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر فیصل آباد لے گئے اور وہاں اسے گلہ دبا کر ایک نہر میں پھینک دیا جسکے بعد یہ واپس لاہور آگئے ، کچھ ہفتے بعد ملزم کے والد نے پوچھا کہ میری بیوی کو تم نے کہاں غائب کردیا ہے اتنے دن ہو گئے اسکا نہ فون آیا نہ خود آئی ضرور کوئی گڑ بڑ ہے ، ملزم نے والد سے کہا چلو تمہارے ماں کے پاس فیصل آباد چھوڑ آتا ہوں ، یہ والد کو بھی 125 پر بٹھا کر روہی نالے پر لے گیا اور ایک سنسان جگہ والد کے سر میں لوہے کا پائپ مارا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا اور ملزم نے والد کو روہی نالے میں پھینک دیا اسکے بعد یہ واپس گھر آکر سکون سے رہنے لگا ۔۔۔ لیکن یہ تو قدرت کا قانون ہے کہ ق۔ت۔ل چھپتا نہیں کبھی نہ کبھی سامنے ضرور آتا ہے ، چنانچہ اپنے ماں باپ کو 2014 میں ق۔ت۔ل کرنے والا 8 سال آزاد رہا ، مگر 2022 میں موٹرسائیکل چوری میں پکڑا گیا ، اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کے کچھ افسر ملزم کو چوری کا چالان کرکے جیل بھیجنا چاہتے تھے لیکن ڈی ایس پی آفتاب پھلروان نے ملزم کے ماں باپ کی گمشدگی یا موت والے معاملے پر فوکس کیا اور معاملے کی تحقیقات کروائی تو کئی سالوں سے آزاد گھومنے والا اپنے ماں باپ کا قا۔تل بے نقاب ہو گیا ، اور اب جیل میں پڑا زندگی کے دن پورے کررہا ہے ۔۔۔۔۔ مر جانیوالوں کی لا۔شیں تو یقینا! برآمد نہیں ہو سکیں گی کیونکہ انہیں نہر اور نالے میں بہائے 8 سال گزر گئے ، لیکن جرم بہر حال بے نقاب ہو گیا ہے ۔۔۔