دل کی بات خ ح شہزاد ربیع الاول شریف کا بابرکت۔رحمتوں والا ماہ مبارک ھم پر سایہ فگن ھے۔تاریخ کے اختلآف کے ساتھ یہ یقنی بات ھے رحمت عالم۔شافع محشر۔خاتم النبیین ﷺکی ولآدت باسعادت کا میہنہ مبارک ربیع الاول ھی ھے۔کچھ احباب کا خیال ھے
دل کی بات
خ ح شہزاد
ربیع الاول شریف کا بابرکت۔رحمتوں والا ماہ مبارک ھم پر سایہ فگن ھے۔تاریخ کے اختلآف کے ساتھ یہ یقنی بات ھے رحمت عالم۔شافع محشر۔خاتم النبیین ﷺکی ولآدت باسعادت کا میہنہ مبارک ربیع الاول ھی ھے۔کچھ احباب کا خیال ھے آٹھ کچھ کا 17اور بھاری اکثریت کا اور عرف عام میں مشہور عالم 12ربیع الاول ھے۔صدیوں سے مسلمان علاقائی طور طریقوں اور وسائل کے مطابق یہ دن مناتے آرہے ھیں۔مشلا جب لائٹین اور چراغ کا دور تھا اور مھٹائی صرف میخانے ھوتے تھے تو لوگ اس وقت روشنی اور مٹھائی جو میسر تھی وہی تقسیم کرتے تھے۔اب کمپوٹر کا دور ھے ترقی اپنی آخری حدوں کو چھو رھی ھے اور بس اب خاتنہ قریب ھے تو طور طریقے بھی بدل گے ھیں۔ہاں بھت ساری چیزوں سے اختلاف ھے جو شریعت مطاہرہ سے متصادم ھیں۔علمائے کرام بتا بھی رھے ھیں لیکن ترقی کے ساتھ جہالت بھی اپنی آخری حدوں سے بھی آگے نکل گی ھے۔کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ھر طرف فضول بحث ھورھی ھے۔عجیب وغریب سوالات جنم لے چکے ھیں۔بزرگوں کے مختلف مسائل پر اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارھا ھے۔ایسا لگتا ھے سارا اسلام ھی ان فضول سوالات میں ہے۔جبکہ ھمارے بڑوں نے ایسے مسائل عام عوام میں کبھی چھڑے ھی نہیں تھے کہ یہ علمی مسائل صاحب علم لوگوں کے حل کرنے کے ہیں اور اگر وہ بھی حل نہ کرسکں تو انکو سائڈ پر رکھ دیتے تھے۔اب سوشل میڈیا کا دور ھے۔چند ایک آیات اور احادیث کو لے کر یا تاریخ کے اختلافی واقعات کو ایسے بیان کیا جاتا کہ صاحب پوسٹ سے پہلے کوئی جانتا ھی نہیں تھا۔بھائی علماء جانتے ھیں لیکن علمی اختلاف عام لوگوں کے ساتھ بحث کرنے سے گمراہی اور قتل وغارت کا خطرہ ھوتا ھے آس لیے علماء بیان نہیں کرتے۔لیکن اب بندروں کے ہاتھ ماچس آگی ھے جنگل کی خیر نہیں۔سوشل میڈیا جہلا کے پاس اب ایسے ایسے سوالات ھیں کہ اللہ کی پناہ۔بندہ پوچھ لے کہ آپ کے فضول اختلافی پوسٹ سے امت کو کوئی فائدہ ملنے والا ھے تو کہتے ھیں کہ ھم تاریخ ٹھیک کررھے ھیں۔پاگل کے پتروں چودہ صدیاں گزر گیں۔اختلافی مسائل حل نہیں ھوئے اب تم سوشل میڈیا پر بیٹھ کر حل کرو گے۔عقل کے ناخن لو۔اب ولادت باسعادت حضور اکرم ﷺﷺ کے حوالے سے ایسا طبقہ بھی موجود ھے جو سرے سے ولادت منانے کو کفر۔یا گناہ کبیرہ سمجھتا ھے۔کچھ منانے کے طریقہ کار پر اختلاف کرتے ھیں۔کچھ سب کچھ اب ولادت کی محفل کو ھی کروانے کو سمجھتے ھیں۔باقی معاملات حاجی صاحب اور اللہ تعالی کا معاملہ ھے۔تو عرض ھے کہ جو آپ کو بہتر طریقہ لگے وہ اپنالیں۔لیکن امتی ھونے کے ناطے اپنے آقا ﷺکی تشریف آوری پر خوشی ضرور مناھیں۔شیطان کی طرح روہیں نہیں۔امتی ھونے کا حق ادا کریں۔کم از کم یہ تو ثابت ھے کہ پیر کے روز حضور اکرم ﷺ روزہ رکھتے تھے کیونکہ پیر کے روز ولادت باسعادت ھوئی تھی تو آپ 8,12,17کو یا پیر کے روز روزہ رکھ لیں۔نہ لگاھیں جھنڈیاں۔نہ نکالیں جلوس۔نہ کریں محفل۔کوئی بات نہیں جلوس۔محفل۔جھنڈیاں نہ لگانے کا سوال آپ سے نہیں ھوگا لیکن قبر سے لے کر میزان تک آپکو حضور اکرم ﷺکی ضرورت پڑے گی۔تو محبت کا تقاضا ھے کہ مجبوب کی ولادت پر نوافل اور روزہ۔درود پاک کے نذرانے۔پیش کیے جاھیں۔امن پیار محبت کا پیغام دیا جاے۔اس وقت امت مسلمہ زوال کے اندھے کنویں میں گری پڑی ہے۔فلسطین۔کشمیر۔برما۔شام ھر جگہ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارھا ھے۔جہاد کا کہیں نام ونشان نہیں۔دولت۔عیش پرستی۔بذدلی نے مسلمانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔عیاش حکمران اور جرنیل ملکر امت مسلمہ کو ذبح کروارھے ہیں۔اللہ تعالی اپنے پیاصے حبیبﷺکی ولادت باسعادت کے صدقے ھم پر رحم فرمائے۔ھمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آکر بیٹھآ رھتا ۔کوئی بات نہ کرتا۔ایک دن حضرت امام مالک نے پوچھا کہ بھائی اپ خاموش رھتے ہیں کوئی سوال نہیں کرتے۔تو اس شخص نے کہا کہ پوچھ لو ایک سوال آپ نے فرمایا پوچھ تو اس نے کہآ کہ روزہ کب افطآر کرنا چاھے آپ نے فرمایا سورج غروب ھونے کے بعد۔اس شخص نے کہا کہ اگر سورج غروب ہی نہ ھو تو پھر کیآ کریں۔تو حضرت امام مالک نے کہا کہ آپ کا چپ رھنا ھی اچھا ھے۔تو بھائیوں بہت سارے سوالات ھیں لیکن خدارہ موجودہ فتنہ پرور دور میں چپ رھنا بہتر ھے۔