چترال اور مری میں برفباری: انسانی جانوں کا المیہ.؟؟ کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي
چترال اور مری میں برفباری: انسانی جانوں کا المیہ.؟؟
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي
چترال اور مری میں حالیہ برفباری اور شدید سردی کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں زندگی سخت متاثر ہوئی ہے اور کئی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔ پہاڑی علاقے سے آنے والی بھاری برف نے ایک گھر پر گر کر انسانی جانوں کا نقصان کیا، جس کے نتیجے میں چترال کے نیرگل اور ڈامیّن علاقوں میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد اچانک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ اس حادثے کے بعد خاندان کی تمام امیدیں یک دم ختم ہو گئیں، گھریلو افراد اندھیروں میں رہ گئے اور جو زندہ بچے ہیں، وہ غم اور صدمے میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک گھر کی تباہی ہے بلکہ ایک پورے سماج کے دلوں کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ ہے۔
اسی طرح مری اور گلیات میں بھی شدید برفباری کی وجہ سے ہزاروں لوگ پھنس گئے ہیں۔ راستے بند ہو گئے ہیں، بجلی اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے اور روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ سیاح جو مری میں سردی اور برف کے خوبصورت مناظر دیکھنے آئے تھے، وہ اب ہوٹلوں میں محصور ہیں، جبکہ کئی سیاح اور مقامی لوگ گاڑیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان تک بروقت امداد پہنچانے کے لیے ریسکیو ٹیمیں کام کر رہی ہیں، مگر صورتحال اب بھی نازک اور خطرناک ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس المیے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی اور مرحومین کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کی۔ صدر مملکت نے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کیے جائیں اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔ صدر نے مزید کہا کہ موسمی تبدیلیاں اور قدرتی آفات دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھ رہی ہیں، اور ان سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو پہلے سے تیاری اور مضبوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بھی متاثرہ افراد کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق وفاقی ریسکیو اور ریلیف اداروں کو صوبائی حکومت کے تعاون سے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ متاثرین کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، خوراک، دوائیں اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جائے، اور این ڈی ایم اے (نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کو ہدایت دی جائے کہ پہاڑی علاقوں میں صورتحال کی نگرانی کرے تاکہ کسی بھی مزید خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
چترال اور مری میں حالیہ واقعہ انسانی زندگی کی نازکیت کو واضح کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے انسان کتنی حد تک بے بس ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب تیاری نہ ہو۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور ان واقعات سے سبق لینا انتہائی ضروری ہے۔
مثال کے طور پر 2022 میں مری میں شدید برفباری کے دوران تقریباً 23 افراد فوت ہو گئے، جب کہ گاڑیوں میں پھنسے ہوئے سیاح سردی اور برف کے درمیان اپنی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت ہزاروں گاڑیاں راستوں پر پھنس گئیں اور مقامی انتظامیہ، سروسز اور ریسکیو ٹیموں نے بڑی مشکل سے حالات کو سنبھالا۔ بعد میں حکومت کو فوج، پولیس اور سول اداروں کی مدد لینی پڑی اور راستوں کو کھولنے اور لوگوں تک امداد پہنچانے کی کوششیں کی گئیں۔
گذشتہ سالوں میں بھی پاکستان کے دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری اور برفانی دھنسنے کے حادثات کے واقعات ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر 2020 میں نیلم وادی، آزاد کشمیر میں ایک برفباری کے سبب 74 افراد فوت ہوئے، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے اور کئی گھر تباہ ہو گئے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ موسمی بحران اور برفانی حادثات کی شدت کتنی زیادہ ہوتی ہے اور ان سے بچاؤ کے لیے مضبوط اقدامات کی ضرورت کبھی کم نہیں ہوتی۔
2012 میں گلگت بلتستان کے گیاڑی سیکٹر میں ایک بڑی برفانی دھنسنے کی وجہ سے 140 فوجی جوان اور شہری فوت ہوئے۔ یہ واقعہ ایک فوجی چوکی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیش آیا، جب بھاری برف نے ان علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ تاریخی المیہ سماج اور فوجی اہلکاروں دونوں کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہوا۔
2010 میں کوہستان میں بھی ایک برفانی حادثے کے سبب 38 افراد فوت ہوئے اور کئی گاؤں تباہ ہوئے۔ اس وقت صورتحال شدید تھی اور موسمی تبدیلی، غیر متوقع برفباری اور تیاری کی کمی نے حالات کو مزید مشکل بنایا۔ 2017 میں افغانستان اور چترال کی سرحدی علاقوں میں بھی برفباری کے سبب 19 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جو برف کے خلاف بروقت تیاری اور ردعمل کی کمی کی وجہ سے ہوا۔
یہ تمام واقعات صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کے اندر دلوں کی ٹوٹ پھوٹ، امیدوں کی ختم ہونے اور زندگی کے پرسکون لمحات میں آئے ہوئے صدمے کی کہانیاں ہیں۔ یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ برفباری صرف ایک موسمی صورتحال نہیں، بلکہ ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کے اثرات ہماری سماجی، اقتصادی اور انسانی ساخت پر گہرے ہوتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا دکھ، ان کی یادیں اور زندگی کا صدمہ صرف ان کے گھر تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماج پر ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
یہ واقعات یاد دلاتے ہیں کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف دعائیں کافی نہیں، بلکہ بروقت تیاری، ریسکیو آپریشن، جدید موسمی پیش گوئی کے نظام اور عوامی شعور بہت ضروری ہیں۔ آج کے دکھ اور نقصان کو دیکھ کر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں ہم ایسی صورتحال سے کس طرح مؤثر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں۔
چترال اور مری میں حالیہ واقعہ انسانی اور سماجی طور پر ایک بڑا سبق دیتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے مواصلات اور امداد میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، مگر وفاقی اور صوبائی ادارے فوری کارروائی میں مصروف ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ صدر اور وزیر اعظم دونوں نے کہا ہے کہ انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے، تیاری اور ہنگامی ریسکیو پر مزید توجہ دینا ضروری ہے۔
گذشتہ واقعات سے سبق ملتا ہے کہ قدرتی آفات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ برفباری، برف کے دھنسنے اور شدید سردی ہر سال پہاڑی علاقوں میں خطرناک صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں عوامی شعور، بروقت اطلاعات، حفاظتی انتظامات اور ریسکیو آپریشن پر عمل کرنا زندگی بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ موسمی تبدیلیاں عالمی سطح پر بڑھ رہی ہیں، اور ان سے نمٹنے کے لیے ہر ملک، ہر علاقے اور ہر سماج کو اپنی حدود اور وسائل کے مطابق مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
چترال اور مری میں موجودہ صورتحال یاد دلاتی ہے کہ انسانی زندگی کو محفوظ بنانے، قدرتی آفات کے لیے تیاری اور انتظامات کو مضبوط کرنے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ حکومتیں، سماجی ادارے اور عوام مل کر احتیاطی اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں ایسے آفات سے بچاؤ ممکن ہو۔ ہمیں ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جو ریسکیو، جدید موسمی پیش گوئی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت، خطرات کی شناخت اور تربیت اور شعور پیدا کرنے میں مؤثر ہو۔
اس حالیہ برفباری کے نتیجے میں چترال اور مری میں جو نقصان ہوا ہے، وہ صرف خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی، اقتصادی اور ثقافتی اثر بھی رکھتا ہے۔ متاثرہ لوگوں کی مدد، محفوظ مقامات پر منتقلی، خوراک، دوائیں اور دیگر ضروری سامان فراہم کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ صدر اور وزیر اعظم دونوں کا موقف ہے کہ انسانی جان کو ہر حال میں محفوظ رکھنا، تیاری اور ہنگامی ریسکیو پر توجہ دینا ضروری ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قدرتی آفات ہمارے قابو سے باہر ہیں، لیکن ہماری تیاری، حکمت عملی اور ایماندارانہ عمل سے انسانی جانوں کو بچانا اور نقصان کو کم کرنا ممکن ہے۔ چترال اور مری میں پیش آنے والا حالیہ حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے وقت پر قدم اٹھانا لازمی ہے اور اجتماعی کوششوں سے ہم ایک محفوظ اور مضبوط سماج قائم کر سکتے ہیں۔
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي
تحصیل ٹنڈوباگو، ضلع بدین
فون نمبر: 03333737575