October 14, 2026

سید نصیر حسین زیدی بیورو چیف دعا ان لاین نیوز پریس ریلیز ​مقام: سکھر / اسلام آباد تاریخ: 23 جنوری 2026 ​ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری: محسن سجاد اترا کی مذمت اور بار قیادت کے معذرت خواہانہ رویے پر سخت تشویش کا اظہار

Screenshot_2026-01-25_173709

سید نصیر حسین زیدی بیورو چیف دعا ان لاین نیوز
پریس ریلیز
​مقام: سکھر / اسلام آباد
تاریخ: 23 جنوری 2026
​ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری: محسن سجاد اترا کی مذمت اور بار قیادت کے معذرت خواہانہ رویے پر سخت تشویش کا اظہار
​سکھر/اسلام آباد: ایم ڈبلیو ایم (MWM) ڈسٹرکٹ سکھر کے صدر اور نامور قانون دان محسن سجاد اترا ایڈووکیٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حالیہ گرفتاری اور ان کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
​محسن سجاد اترا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری صرف دو افراد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے قانونی برادری کے وقار پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا دائرہ اب صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہا بلکہ سکھر سمیت پورے پاکستان کے وکلاء اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
​بیان کے اہم نکات:
​پیشہ ورانہ تحفظ: وکلاء کو ان کے فرائض کی ادائیگی کے دوران گرفتار کرنا قانونی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
​پیکا (PECA) کا غلط استعمال: حکومت سائبر کرائم قوانین کو مخالفین اور وکلاء کو ہراساں کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
​غیر منصفانہ ٹرائل: عدالت کی جانب سے ضمانت کی منسوخی اور کیس کو جلد بازی میں چلانا شفاف انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔
​بار لیڈرشپ اور بار سیاست پر سخت تنقید
​دوسری جانب، قانونی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے پاکستان کی بڑی بار ایسوسی ایشنز اور ان کی قیادت کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پریس ریلیز میں بار لیڈرز کی خاموشی اور عدم تحرک پر درج ذیل تنقید کی گئی ہے:
​عملی جدوجہد کا فقدان: بار قیادت صرف کاغذی مذمتی بیانات تک محدود ہو چکی ہے۔ جب ایمان مزاری اور ہادی علی کو عدالت کے احاطے سے اٹھایا گیا، تو بار لیڈرز نے اس غیر قانونی گرفتاری کو روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔
​اصولوں پر سیاست کی ترجیح: تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ بار کے بیشتر عہدیدار انصاف کے تحفظ کے بجائے “بار پالیٹکس” میں مصروف ہیں۔ وہ حکومت اور مقتدر حلقوں سے مفادات حاصل کرنے اور اگلے انتخابات جیتنے کے لیے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
​کالے کوٹ کے تقدس کی پامالی: عدالت کے احاطے کو وکلاء کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بار قیادت کی کمزوری کی وجہ سے پولیس نے اس تقدس کو پامال کیا۔ بار لیڈرز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال یا قانونی ناکہ بندی نہ کرنا ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
​سلیکٹو احتجاج: بار قیادت پر الزام ہے کہ وہ صرف مخصوص سیاسی وابستگی والے افراد کے لیے آواز اٹھاتی ہے، جبکہ عام وکلاء کو جبری اقدامات اور ہراساں کیے جانے پر وہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔
​نتیجہ:
محسن سجاد اترا اور دیگر وکلاء رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ مداخلتی احکامات کی روشنی میں اس “سیاسی ٹرائل” کو فوری ختم کیا جائے اور بار کونسلز اپنی سیاست چمکانے کے بجائے وکلاء کے تحفظ کے لیے میدان میں نکلیں۔
​جاری کردہ:
میڈیا سیل، ایم ڈبلیو ایم / لیگل فرٹیرنٹی سکھر