October 13, 2026

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: کرشمات میں سے ایک کرشمہ پور* *کالمکار: جاوید صدیقی*

IMG-20251208-WA0197(7)

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: کرشمات میں سے ایک کرشمہ پور*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

علم وہ نعمت انعام اعزاز اور قیمتی نایاب دولت ھے جو کبھی بھی چرائی نہیں جاسکتی بلکہ پھیلائی اورعطا کی جاتی ھے ایک دوسرے سے بآسانی منتقل بھی کی جاتی ھے، یہی سبب ھے کہ رب نے اپنی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اور خاص علم حضرت انسان کو عطا کیا۔ اپنے پیارے محبوب ختم الانبیاء ختم الرسل مولائےکل محمد مصطفیٰ ﷺ رحمة الععالمین کو سب سے پہلی وحی اور آیت بھی علم کی عطا کی وہ تھی پارہ تیس عم کی سورة علق آیت ˝اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ (1) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ (2)“ ترجمہ: اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا۔ انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔۔۔۔۔ معزز قارئین !! اسی علم کی بدولت رب العزت رب الکائنات کے بیش بہشا کرشمات میں سے ایک کرشمہ کی جانب اپنے کالم کا رخ کررھا ھوں جو کہ ایک دوست بلال شوکت آزاد نے رہنمائی فرماتے ہوئے کئی نقاط شیئر کیئے ممکن ھے کہ وہ انکی محنت تحقیق ھو یا انہیں کسی اور نے محبت میں پیش کیا ھو بحرکیف اللہ تبارک تعالیٰ کے اس کرشمہ کو بندوں تک پہنچانا اور سامنے لے آنا میری بھی ذمہداری عائد بنتی ھے اسی سبب آج میں اپنے کالم کا حصہ بنارھا ھوں معزز قارئین پوروں میں چھپی کائنات اور ڈیجیٹل شناخت کا الہیاتی کرشمہ کے متعلق بات کرونگا۔ آج دنیا میں کم و بیش سولہ ارب انگوٹھوں کی انفرادیت اور ”المصور“ کا سائنسی چیلنج! پیش خدمت ھے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے رکیں، اپنے دائیں ہاتھ کو اٹھائیں اور اپنے انگوٹھے کی پور کو غور سے دیکھیں۔
بظاہر یہ گوشت اور کھال کا ایک معمولی سا، چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس پر کچھ لکیریں، کچھ دائرے اور کچھ بھنور بنے ہوئے ہیں۔ آپ اور ھم روزانہ اس انگوٹھے سے اپنا موبائل ان لاک کرتے ہیں، کاغذات پر دستخط کرتے ہیں اور چیزوں کو پکڑتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اس وقت اپنی آنکھوں کے سامنے اس کائنات کا سب سے بڑا، سب سے پیچیدہ اور سب سے ناقابلِ یقین ”ریاضیاتی اور حیاتیاتی معجزہ“ دیکھ رہے ہیں؟ آج کی دنیا میں لگ بھگ آٹھ ارب بیس کروڑ انسان سانس لے رہے ہیں۔ ہر انسان کے دو انگوٹھے ہیں یعنی اس وقت روئے زمین پر سولہ ارب چالیس کروڑ انگوٹھے موجود ہیں اور اگر ہم انسانی تاریخ کے آغاز سے لے کر آج تک پیدا ہونے والے اور مر جانے والے انسانوں کا تخمینہ لگائیں جوکہ محققین کے مطابق تقریباً سو ارب بنتے ہیں، تو یہ تعداد کھربوں میں پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہاں آ کر انسانی عقل، جدید ترین سپر کمپیوٹرز اور ڈارون کے نظریات سب کے سب سجدے میں گر جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس نے بائیولوجی اور ریاضی کے قوانین کو ہلا کر رکھ دیا ہے: ˝آج تک پیدا ہونے والے کھربوں انسانوں میں سے کسی بھی دو انسانوں کا، حتیٰ کہ جڑواں بھائیوں کا بھی، انگوٹھا ایک دوسرے سے میچ نہیں کرتا۔“ ہر انگوٹھا، ہر انگلی کی پور، ایک ایسا ”یونیک ڈیزائن“ ہے جو کائنات کی پوری تاریخ میں نہ کبھی پہلے بنا تھا، اور نہ قیامت تک دوبارہ بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ محض دو سے تین مربع سینٹی میٹر کی چھوٹی سی جگہ پر، کھال کی ان باریک لکیروں میں اتنی ”لامحدود ورائٹی“ کیسے سما سکتی ہے؟ کیا یہ اندھا ارتقاء ہے؟ کیا یہ مادے کا حادثاتی کھیل ہے؟ یا یہ اس ”المصور“ صورت گری کرنے والا کے دستخط ہیں جس نے ہر انسان کو اپنی ایک الگ اور منفرد شناخت دے کر پیدا کیا ہے؟ آج میں آپ کو ڈرمیٹوگلیفکس کی لیبارٹری اور قرآن کی حکمت کے سنگم پر لے چلوں گا، جہاں ہم دیکھیں گے کہ آپکا انگوٹھا محض بایومیٹرک آئی ڈی نہیں، بلکہ خدا کے ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ حقیق ماں کے پیٹ کے اس اندھیرے کمرے سے ہوتی ہے جہاں زندگی تشکیل پا رہی ہے۔ سائنسدانوں نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فنگر پرنٹس صرف ”جینز“ کا کھیل ہیں لیکن پھر ایک عجیب معمہ سامنے آیا۔ یکساں جڑواں بچے جن کا ڈی این اے سو فیصد ایک جیسا ہوتا ہے، ان کی شکلیں ملتی ہیں، ان کی آوازیں ملتی ہیں، مگر ان کے فنگر پرنٹس مختلف کیوں ہوتے ہیں؟ یہاں آ کر سائنس کو تسلیم کرنا پڑا کہ فنگر پرنٹس کا بننا محض جینیاتی کوڈنگ نہیں، بلکہ یہ ایک ”نظریہِ انتشار“ کا شاہکار ہے۔ جب بچہ ماں کے پیٹ میں دس ہفتے کا ہوتا ہے، تو اس کی انگلیوں پر ”ابھری باریک لکیریں“ ابھرنا شروع ہوتی ہیں لیکن ان لکیروں کا حتمی ڈیزائن سترہویں ہفتے تک مکمل ہوتا ہے۔ اس دوران کیا ہوتا ہے؟ ماں کے رحم کے اندر ایمنیوٹک فلوئیڈ کا دباؤ، بچے کی پوزیشن، بچے کا رحم کی دیواروں کو چھونا، نال کی لمبائی، ماں کا بلڈ پریشر، اور یہاں تک کہ انگلیوں کی حرکت کی رفتار, یہ ہزاروں لاکھوں ”متغیرات“ مل کر اس ڈیزائن کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی مصور ہوا میں برش لہرائے اور ہر بار کینوس پر ایک نیا اور منفرد شاہکار بن جائے۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ ان تمام عوامل کا بالکل اسی ترتیب میں، اسی شدت کے ساتھ دوبارہ ہونا ریاضیاتی طور پر ”ناممکن“ ہے یعنی خدا نے ہر انسان کی تخلیق کے لیے ایک ایسا ”انوکھا ماحول“ ترتیب دیا جو دوبارہ کبھی دہرایا نہیں جا سکتا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر انسان خدا کے لیے ”خاص“ ہے۔ وہ ”ماس پروڈکشن“ نہیں کرتا، وہ ہر پیس کو ”کسٹم میڈ“ بناتا ہے۔ اب ذرا ریاضی کے میدان میں آئیں۔ سر فرانسس گالٹن، جو فنگر پرنٹس سائنس کے بانیوں میں سے تھے، انہوں نے ایک سادہ سا ریاضیاتی حساب لگایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم انگلی کی پور کے صرف چند بنیادی فیچرز کو لیں، تو دو انسانوں کے فنگر پرنٹس میچ ہونے کا امکان چونسٹھ ارب میں سے ایک ہے۔ یہ تو انیسویں صدی کا حساب تھا۔ آج کی جدید ٹیکنالوجی کے مطابق یہ امکان کھربوں میں سے ایک ہے۔
ذرا اس ”اسپیس“ یعنی کائنات کا تصور کریں!
آپ کے پاس صرف دو سینٹی میٹر کی جگہ ہے۔ آپ نے اس میں لکیریں کھینچنی ہیں۔
آپ کتنے ڈیزائن بنا سکتے ہیں؟ دس، سو، ہزار یا پھر لاکھ؟ لیکن یہاں سو ارب سے زیادہ ڈیزائن بن چکے ہیں اور ”اسٹاک“ ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ ”محدود میں لامحدود“ کا وہ تصور ہے جو انسانی عقل کو منجمد کر دیتا ہے۔ یہ ڈیزائن کس نے بنائے؟ اگر یہ ارتقاء کا نتیجہ ہوتے، تو ارتقاء ہمیشہ ”بہترین“ کو منتخب کرتا ہے۔ جیسے کار کے ٹائر کا ایک ڈیزائن جو سڑک پر سب سے اچھی گرپ دیتا ہے، تمام ٹائر کمپنیاں وہی ڈیزائن بناتی ہیں۔
اگر فنگر پرنٹس کا مقصد صرف ”چیزوں کو پکڑنا“ ہوتا، تو تمام انسانوں کے ہاتھوں پر ”ایک جیسا بہترین ڈیزائن“ ہونا چاہیے تھا جیسے سیدھی لکیریں لیکن ایسا نہیں ہے۔
ہر انگوٹھے کا ڈیزائن الگ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں مقصد صرف ”گرپ“ نہیں ہے، یہاں مقصد ”شناخت“ ہے۔ یہاں مقصد یہ بتانا ہے کہ ”میں وہ ہوں، جو کوئی اور نہیں ہے۔“ یہ انفرادیت اندھے مادے سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ مادہ اندھا ہوتا ہے، وہ پیٹرن دہرا سکتا ہے، مگر وہ کھربوں بار ”انوکھا پن“ تخلیق نہیں کر سکتا۔ یہ کام صرف ایک ”علیم اور خبیر“ ذات ہی کر سکتی ہے جس کے پاس ڈیزائنز کا نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔ اب ذرا تاریخ کے اوراق پلٹیں اور قرآنِ مجید کے اس معجزے کا نظارہ کریں جو چوہ سو سال پہلے عرب کے ریگستان میں نازل ہوا۔ جب کفارِ مکہ نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے اور بوسیدہ ہڈیوں کو ہاتھ میں لے کر کہتے تھے:
”اے محمد (ﷺ)! کیا تمہارا رب ان گلی سڑی ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں چہرے، آنکھ یا دل کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی چیز کا ذکر کیا جو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ اس کی کوئی اہمیت ہو سکتی ہے۔ سورۃ القیامۃ، آیت تین اور چار میں اللہ فرماتا ہے: ˝أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ O بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ“ ترجمہ: کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کر سکیں گے؟ کیوں نہیں! ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اس کی ”پور پور“ کو درست کر دیں۔۔۔
ذرا لفظ ”بَنَانَهُ“ اس کی پوریں پر غور کریں!
اللہ نے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہم اسکا چہرہ بنادیں گے؟ یا اسکی ناک بنادیں گے؟ کیونکہ اللہ جانتا تھا کہ چہرے مل سکتے ہیں ہمشکل ہوتے ہیں، ڈی این اے مل سکتا ہے جڑواں بچوں کا، لیکن ”پوریں“ وہ واحد چیز ہیں جو کبھی نہیں مل سکتیں۔ قیامت کے دن انسان کی ”شناخت“ اسکے انگوٹھے سے ہوگی۔ آج چودہ صدیوں بعد، جب ہم ایئرپورٹ پر جاتے ہیں، تو امیگریشن افسر ہمارا چہرہ دیکھ کر مطمئن نہیں ہوتا، وہ کہتا ہے ”اپنا انگوٹھا مشین پر رکھیں۔“ جب ہم فون ان لاک کرتے ہیں، تو ہم پاسورڈ کے بجائے انگوٹھا لگاتے ہیں۔ آج کی ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان کی ”حتمی شناخت“ اس کا انگوٹھا ہے۔ اور قرآن نے چودہ سو سال پہلے چیلنج دیا تھا کہ ˝ہم تمہاری پور پور کو اس کے باریک ترین ڈیزائن کے ساتھ دوبارہ بنانے پر قادر ہیں۔“ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کا مصنف وہی ہے جس نے انگوٹھے کا ڈیزائن بنایا ہے۔ یہ دونوں کتابیں (قرآن اور کائنات) ایک ہی مصنف کی تحریر ہیں۔ یہاں ایک اور اہم نکتہ ”فارنزک سائنس“ کا ہے۔ انیسویں صدی سے پہلے دنیا کے کسی مجرم کو یہ پتا نہیں تھا کہ وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ چور چوری کرتا تھا، قاتل قتل کرتا تھا اور اپنے ہاتھوں کے نشان ہر جگہ چھوڑ جاتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا لیکن اللہ کا نظام دیکھیں! اللہ نے ہر انسان کے ہاتھ میں ایک ”قدرتی مہر“ لگا رکھی ہے۔ آپ جس چیز کو چھوتے ہیں، آپ وہاں اپنا ”دستخط“ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ اللہ کا ”نظامِ عدل“ ہے۔ دنیا میں شاید آپ بچ جائیں، لیکن آپ کے ہاتھ گواہی دے رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ˝الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ“ ترجمہ: آج کے دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے) [یٰسین: 65]۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ ہاتھ کیسے بولیں گے؟
آج سائنس بتاتی ہے کہ ہاتھ کے نشانات بولتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ ˝یہ شخص یہاں موجود تھا، اس نے یہ بندوق پکڑی تھی، اس نے یہ چوری کی تھی۔“ یہ انگوٹھا آپ کے خلاف اللہ کا گواہ ہے۔ آج کے دور میں جب ہم ”شمولیت“ اور ”شناخت“ کی بات کرتے ہیں، تو فنگر پرنٹس ہمیں ایک بہت خوبصورت سماجی سبق بھی دیتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی انسان ”فالتو“ بیکارنہیں ہے۔ چاہے کوئی افریقہ کے جنگل میں رہنے والا حبشی ہو، یا نیویارک کے پینٹ ہاؤس میں رہنے والا ارب پتی، چاہے کوئی مزدور ہو یا بادشاہ, قدرت کی نظر میں سب کی شناخت ”منفرد“ ہے۔ اللہ نے کسی کی ”کاربن کاپی“ نہیں بنائی۔ ہر انگوٹھا ایک الگ کہانی، ایک الگ کوڈ اور ایک الگ شاہکار ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کے خزانے میں ڈیزائنز کی کوئی کمی نہیں۔ وہ ”المبدئ“ پہلی بار پیدا کرنے والا ہے جو ہر بار نئی چیز تخلیق کرتا ہے۔ ملحدین کہتے ہیں کہ کائنات میں ”ترتیب“ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب کچھ رینڈم ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں: ˝کیا سولہ ارب انگوٹھوں میں سے ایک کا بھی دوسرے سے نہ ملنا ’رینڈم نیس‘ ہے یا ’انتہائی باریک بینی سے کیا گیا کنٹرول‘؟“ اگر یہ رینڈم ہوتا، تو کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی تو دو ڈیزائن مل جاتے۔ سو ارب انسانوں میں ایک بار تو ”تکا“ لگ جاتا مگر نہیں لگا! یہ ”زیرو ایرر“ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس پوری مشینری کو چلانے والا ایک ”سپر انٹیلیجنٹ مائنڈ“ ہے جو ہر نطفے کی تقسیم، ہر خلیے کی حرکت اور ہر لکیر کے زاویے کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اے انسان! تو اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے؟ تو سمجھتا ہے کہ تو مٹی کا ڈھیر ہے اور مر کر ختم ہو جائے گا؟
ذرا اپنے انگوٹھے کو دیکھ! یہ تیرا انگوٹھا تیرے رب کی طرف سے تجھے لکھا گیا ایک ”لوو لیٹر“ ہے۔ یہ تجھے بتا رہا ہے کہ تیرا رب تجھے اربوں انسانوں کے ہجوم میں بھی ”اکیلا“ پہچانتا ہے۔ وہ تجھے بھولا نہیں ہے۔ جس رب نے تیری انگلی کی پوروں پر اتنی باریک اور پیچیدہ کاریگری کی ہے کہ ویسی لکیریں کائنات میں کسی اور کو نہیں دیں، کیا وہ تجھے یوں ہی بے مقصد اور بے کار چھوڑ دے گا؟ ہر بار جب آپ اپنے انگوٹھے کو دیکھیں، تو اسے صرف گوشت کا ٹکڑا نہ سمجھیں، اسے ”خدا کے دستخط“ سمجھیں۔ یہ اس آرٹسٹ کا دستخط ہے جو اپنی پینٹنگ آپ پر کر کے فخر کرتا ہے کہ قرآن فرماتا ھے آیت: ˝فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“ ترجمہ: تو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، جو سب کاریگروں سے اچھا کاریگر ہے۔۔۔ اپنی اس شناخت کی حفاظت کریں۔ اپنے ہاتھوں کو ظلم اور گناہ سے آلودہ نہ کریں، کیونکہ یہ ہاتھ، یہ لکیریں اور یہ انگوٹھے ایک دن اس عدالت میں پیش ہوں گے جہاں کوئی جھوٹ نہیں چلتا، صرف ”بایومیٹرک گواہی“ چلتی ہے۔۔۔۔ اللہ ہمیشہ ہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں کی فہرست میں شامل رکھے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔ !!