46

میرا یار سلطان راہی ق۔ت۔ل ہونے سے چند دن پہلے بہت پریشان تھا ، یہ لاہور کے باری سٹوڈیو کا واقعہ ہے ، ہم ایک فلم کی شوٹنگ کررہے تھے ایک سین میں

میرا یار سلطان راہی ق۔ت۔ل ہونے سے چند دن پہلے بہت پریشان تھا ، یہ لاہور کے باری سٹوڈیو کا واقعہ ہے ، ہم ایک فلم کی شوٹنگ کررہے تھے ایک سین میں سلطان راہی اذان دے رہا ہوتا ہے اور میں اسے بچانے کے لیے اسکے ساتھ کھڑے ہو کر دشمنوں کی گو۔لیاں کھا رہا ہوں ۔۔ اس سین کے بعد میں اور سلطان راہی ایک جگہ بیٹھے تو میں نے نوٹ کر لیا کہ وہ بہت پریشان ہے ، اس سے پہلے بھی کئی روز سے وہ پریشان تھا ، ہر کام جلدی میں نمٹا رہا تھا ، میں نے اسے کہا کہ ہم دوست ہیں ، اکٹھے کام کرتے ہیں کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ، سلطان راہی نے کچھ سوچا اور کہا ہاں یار ایک مسئلہ ہے اس نے بہت پریشان کررکھا ہے ۔۔۔ابھی وہ بات شروع کررہا تھا کہ وہاں کچھ لوگ آگئے ہم انہیں آٹو گراف دینے لگے جب فارٖغ ہوئے اور وہ پھر میرے ساتھ بات چیت شروع کرنے لگا تو ڈائریکٹر نے آواز دے دی ۔۔۔ آجاؤ بھئی شارٹ ریڈی ہے ۔۔۔۔ میں نے اسے سیٹ پر جاتے ہوئے کہا ، ایسا ہے کہ یا تو شام کو تم میرے گھر آجاؤ یا میں تمہارے گھر آجاتا ہوں ، تم مجھے ساری بات بتانا تاکہ ہم مسئلے کا حل نکال لیں ۔۔۔ سلطان راہی نے اثبات میں سر ہلا دیا مگر اسی شام وہ اسلام آباد چلا گیا ۔۔۔اور دوسرے دن اس کی موت کی خبر آگئی ۔۔۔آج بھی سوچتا ہوں سلطان راہی کے ق۔ت۔ل کا اسکی پریشانی سے گہرا تعلق تھا ۔۔۔کاش میں اسے روک لیتا ، کاش ہم سین ہی نہ کراتے یا فلم ہی چھوڑ دیتے مگر میں اسکی پریشانی سن لیتا ۔۔۔۔۔لیجنڈ مصطفیٰ قریشی نے دل کی بات بتا دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں