مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی سکھر میں احتجاجی ریلی، حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید
سکھر(بیورورپورٹ)جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی ہدایت پر مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عوامی مشکلات کے خلاف ضلع سکھر میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔ریلی جامعہ حمادیہ منزل گاہ سے شروع ہو کر سکھر پریس کلب تک نکالی گئی، جس کی قیادت جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر کے امیر مولانا محمد صالح اندھڑ نے کی۔ریلی سکھر پریس کلب پہنچ کر بڑے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی، جس میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے میں شریک رہنماؤں میں مفتی سعود افضل ہالیجوی، حافظ عبدالحمید مہر، مولانا غلام اللہ ہالیجوی، مولانا زبیر احمد مہر، قاری لیاقت علی مغل، مولانا امیر خان متقی، مولانا امان اللہ سکھروی، مولانا علی اکبر عباسی، مولانا عبد الکریم جونیجو، مولانا سیف اللہ سمیجو، مولانا محمد عابد سندھی، قاری عبدالمنان سمیجو، مولانا اسامہ محمود ہالیجوی اور قاری نصر اللہ سکھروی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعۃ المبارک کے روز جمعیت علماء اسلام کی اپیل پر ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف یومِ احتجاج منایا جا رہا ہے، جس کے تحت احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور دھرنے دیے جا رہے ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے اور معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوامی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومت کی درخواست پر اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔مقررین کے مطابق اس وقت بعض اہم سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث احتجاج کو وقتی طور پر ملتوی کیا گیا، تاہم بعد ازاں مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے پورے نہ ہونے پر دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام عوامی مسائل کے حل اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ مقررین نے اعلان کیا کہ مرکزی اور صوبائی قیادت کی آئندہ ہدایات کے مطابق احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور عوامی مشکلات کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔