نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)فنگر پرنٹ نہیں، حق اہم ہے: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بزرگ خواتین کی محرومی پر فوری توجہ کی ضرورت بینظیر
نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)فنگر پرنٹ نہیں، حق اہم ہے: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بزرگ خواتین کی محرومی پر فوری توجہ کی ضرورت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ہیڈ آفس سے براہِ راست رابطے میں یہ حقیقت باضابطہ طور پر سامنے آئی کہ ملک بھر میں ہزاروں بزرگ خواتین محض اس وجہ سے اپنی مالی امداد حاصل نہیں کر پا رہیں کہ عمر رسیدگی کے باعث ان کے فنگر پرنٹس قابلِ تصدیق نہیں رہے۔ یہ کوئی وقتی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور پھیلا ہوا مسئلہ ہے جو بیواؤں، ضعیف العمر اور محنت کش خواتین کو ان کے جائز حق سے محروم کر رہا ہے، حالانکہ وہ مکمل طور پر اہل اور رجسٹرڈ ہیں۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف معاشی مشکلات کو جنم دیا ہے بلکہ ان خواتین کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا ہے جو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے اسی امداد پر انحصار کرتی ہیں۔یہ امر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عمر کے ساتھ فنگر پرنٹس ماند پڑ جاتے ہیں، خصوصاً ان خواتین میں جنہوں نے ساری زندگی گھریلو یا کھیتوں میں سخت محنت کی ہو۔ ایسی صورت میں ٹیکنالوجی کو انسانی حقیقت کے مطابق ڈھالنا ریاست کی ذمہ داری ہے، نہ کہ بزرگ خواتین کو بار بار ریٹیلرز، کیمپس اور دفاتر کے چکر لگوا کر مایوسی میں مبتلا کیا جائے۔ اگر نظام جانتا ہے کہ مسئلہ کہاں ہے اور پھر بھی حل فراہم نہیں کرتا تو یہ خاموش ناانصافی کے مترادف ہے۔اس بحران کا حل موجود ہے اور فوری طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ بزرگ خواتین کے لیے مستقل بایومیٹرک استثنا دیا جانا چاہیے تاکہ ساٹھ سال سے زائد عمر کی مستحق خواتین کو ہر قسط پر فنگر پرنٹ کے امتحان سے نہ گزرنا پڑے۔ نادرا کے تعاون سے چہرے کی تصدیق کو ملک گیر سطح پر فعال کیا جائے تاکہ جن خواتین کے فنگر پرنٹس میچ نہیں کرتے، ان کی شناخت محفوظ اور باوقار طریقے سے ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بی آئی ایس پی کے تحصیل دفاتر کو دستی تصدیق کا اختیار دیا جائے تاکہ شناختی کارڈ، ریکارڈ اور مقامی تصدیق کی بنیاد پر ادائیگی کی منظوری دی جا سکے اور خواتین کو ایجنٹوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔مزید برآں، ضعیف یا بیمار خواتین کے لیے قریبی رشتہ دار کے ذریعے رقم نکلوانے کا باقاعدہ اور محفوظ نظام متعارف کرایا جائے، جس میں نادرا تصدیق کے بعد نامزدگی ممکن ہو۔ فیلڈ اسٹاف اور ریٹیلرز کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ فنگر پرنٹ ناکامی کی صورت میں غیر ضروری ری ٹرائیز سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے اکاؤنٹس بلاک ہو جاتے ہیں اور مسئلہ مزید گھمبیر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بزرگ اور معذور خواتین کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک شکایتی نظام بنایا جائے جو چند دنوں میں مسئلہ حل کرے، نہ کہ مہینوں میں۔ عوامی آگاہی بھی ناگزیر ہے تاکہ خواتین کو معلوم ہو کہ فنگر پرنٹ فیل ہونے کی صورت میں ان کے پاس متبادل راستے موجود ہیں اور وہ استحصال سے بچ سکیں۔ اس مسئلے کو فوری قومی ترجیح دی جائے اور واضح پالیسی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ یہ حل زمینی سطح پر نافذ ہوں۔ یہ امداد کوئی احسان نہیں بلکہ آئینی اور انسانی حق ہے۔ اگر آج فیصلہ کن اقدامات اٹھا لیے جائیں تو ہزاروں بزرگ ماؤں اور بہنوں کو عزت کے ساتھ ان کا حق مل سکتا ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام حقیقی معنوں میں ایک انسان دوست فلاحی نظام بن کر سامنے آ سکتا ہے۔