October 22, 2026

ملتان واقعہ پر قاتل کو سزا مل گئی مگر اصل محرکات کون کھنگالے گا؟ از قلم غنی محمود قصوری

IMG-20251019-WA0107(2)

ملتان واقعہ پر قاتل کو سزا مل گئی مگر اصل محرکات کون کھنگالے گا؟

از قلم غنی محمود قصوری

گزشتہ دنوں ملتان میں ایک یتیم بچے کو جس بے دردی سے گاڑی تلے کچلا گیا اس واقعہ نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے
اس ظلم پر سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کے لیے آواز بلند ہوئی تو عوام نے انصاف کا مطالبہ کیا اور متعلقہ اداروں نے ملزم کے خلاف کارروائی کی
اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی نے ملزم کو انجام تک پہنچایا جس پر عوامی سطح پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے

ایک معصوم بچے کی جان لینے والے شخص کے خلاف کارروائی ہوئی یہ اپنی جگہ بہت اہم اور قابل خوشی ہے لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے جسے محض ملزم کی موت یا گرفتاری کے بعد نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے

کیا انصاف کا تقاضا صرف ایک ملزم کو سزا دینا ہے یا اس جرم کے پیچھے چھپے تمام محرکات کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے؟

میرا سوال یہ ہے کہ آخر وہ بچہ اتنی تیزی سے بھاگ کیوں رہا تھا؟
وہ کس خوف میں مبتلا تھا؟
اگر وہ کسی کام سے بھاگ رہا تھا تو اس کے پیچھے گاڑی لے کر جانے اور اسے کچل دینے کی نوبت کیوں پیش آئی؟
ایک ٹھیکیدار کے پاس دوسرے مزدوروں سے کام لینے کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں
اگر کوئی بچہ کام چھوڑ کر بھاگ جاتا تو اس سے ایسا کون سا نقصان ہو سکتا تھا جس کے ازالے کے لیے اس کی جان لینا ضروری سمجھا گیا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سامنے آنا ضروری ہیں

کیا معاملہ محض کام سے بھاگنے کا تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ بھی موجود تھی؟
کیا بچے کو کسی قسم کے استحصال، جنسی زیادتی یا کسی دوسرے جرم کا سامنا تھا؟
میں ان امکانات کو حقیقت قرار نہیں دے رہا بلکہ مطالبہ کر رہا ہوں کہ تفتیش میں ہر پہلو کو سامنے رکھ کر ان سوالات کے جواب تلاش کئے جائیں کیونکہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ٹھوس شواہد اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں

اس مقصد کے لیے صرف ایک ادارے پر انحصار کافی نہیں ہونا چاہیے
سی سی ڈی کے ساتھ ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) انٹیلی جنس بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنے قانونی دائرۂ اختیار کے مطابق، تعاون کرنا چاہیے بچے کے حالات اس کے کام کی نوعیت، متعلقہ افراد کے روابط، دستیاب ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ جرم کسی اچانک اشتعال کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی ایسا معاملہ تھا جو ابھی تک سامنے نہیں آیا

اصل سوال یہ ہے کہ جرم کرنے والا شخص کون تھا یہ تو سامنے آ گیا لیکن اس جرم کے محرکات کیا تھے اور کیا کوئی دوسرا شخص یا گروہ بھی اس معاملے سے متعلق تھا؟ اس سوال کا جواب جاننا بہت ضروری ہے

پاکستان میں ماضی کے بعض سنگین واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ایک ملزم کی گرفتاری یا سزا کے بعد بھی بہت سے سوالات باقی رہ سکتے ہیں
مثلا 2018 میں میرے ہی آبائی شہر قصور کا زینب قتل کیس بھی ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے
اس کیس میں مرکزی مجرم کو سزا تو ہوئی لیکن ایسے سنگین جرائم کے تناظر میں معاشرے کا یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کو روکنے کے لئے ان کے اسباب، سہولت کاری اور ممکنہ وسیع تر روابط کی تحقیقات کس حد تک کی جاتی ہیں

یہاں کسی ثبوت کے بغیر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ملتان کے واقعہ کے پیچھے لازماً کوئی بڑا نیٹ ورک موجود ہے
لیکن یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ ملزم کے خلاف کارروائی ہو گئی،لہٰذا اب مذید تحقیق کی ضرورت نہیں رہی
دونوں باتوں میں فرق ہے کیونکہ شفاف تحقیقات ہی اس فرق کو واضح کر سکتی ہیں

یہ بھی ممکن ہے کہ ملزم نے اپنی طاقت، دولت یا قانونی حیثیت کے بارے میں غلط اندازہ لگایا ہو
شاید اسے یقین ہو کہ ڈرائیونگ لائسنس یا کسی قانونی دفاع کی بنیاد پر وہ معمولی سزا یا جرمانے سے بچ نکلے گا
تاہم یہ محض ایک امکان ہے، جسے شواہد کے بغیر حقیقت نہیں کہا جا سکتا
تفتیش کا مقصد ہی یہی ہے کہ اندازوں کے بجائے حقائق سامنے لائے جائیں

سی سی ڈی کی کارروائی کو اگر عوام جرائم کے خلاف مؤثر اقدام سمجھتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ توقع بھی بجا ہے کہ دوسرے ادارے اپنی ذمہ داری ادا کریں
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی صرف ملزم تک پہنچنے میں نہیں بلکہ جرم کی مکمل حقیقت معلوم کرنے، شواہد محفوظ رکھنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں بھی ہے

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر عوامی دباؤ کسی واقعے کو منظرعام پر لانے میں مدد دے سکتا ہے لیکن انصاف کا مستقل نظام صرف عوامی غصے پر نہیں چل سکتا شواہد، قانون، شفاف تفتیش اور عدالتی عمل ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر پائیدار انصاف قائم ہوتا ہے

ایک یتیم بچے کی زندگی کا خاتمہ محض ایک خاندان یا ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لئے ایک سنگین سوال ہے
بچے اگر کام کرتے ہیں تو ان کے تحفظ، ان کے ساتھ برتاؤ اور ان کے حقوق کی نگرانی کون کرتا ہے؟
کمزور اور بے سہارا بچوں کے لیے ایسا نظام کیوں موجود نہیں جو انہیں استحصال سے محفوظ رکھ سکے؟

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملتان کے اس واقعہ کو صرف ایک ملزم کے انجام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، ممکنہ محرکات کا تعین کیا جائے اور اگر کوئی دوسرا شخص ملوث پایا جائے تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بچوں کے تحفظ کے لیے ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جو مستقبل میں کسی دوسرے معصوم کو اس انجام سے بچا سکیں

مجھے ماضی میں 100 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے قتل کے ملزم کی جیل میں خودکشی بھی یاد ہے جو آج دن تک ایک سوالیہ نشان ہی ہے اس کے اصل محرکات سامنے نہیں لائے گئے کیونکہ اکیلا بندہ اتنا بڑا کام نہیں کر سکتا

اسی لئے اب بھی انصاف کا حقیقی تقاضا صرف یہ نہیں کہ جرم کرنے والے کو سزا ملے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جرم کی پوری حقیقت سامنے آئے اور ذمہ داروں کا تعین ہو اور آئندہ کسی معصوم کی جان اس طرح ضائع نہ ہو