سکھر (بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر II بشرا منصور کی زیر صدارت قومی پالیسی برائے انسدادِ
سکھر (بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر II بشرا منصور کی زیر صدارت قومی پالیسی برائے انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی 2024 کے جامع اور منظم نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس کے کانفرنس ہال میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تعلیم غلام مرتضیٰ شاہ، مشرف قادری، ریاض حسین (ممبر پیس کمیٹی)، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شجاعت منگی، انور مہر (ناری فاؤنڈیشن)، جمال الدین، ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کے نمائندہ، ضلعی سطح کے متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان، صحافی، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد قومی پالیسی کو ضلعی اور مقامی سطح پر عملی اقدامات کی صورت میں نافذ کرنا تھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بشرا منصور نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی ایک سنجیدہ اور پیچیدہ چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محض سکیورٹی اقدامات ناکافی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کے مؤثر تدارک کے لیے سماجی، تعلیمی، معاشی اور فکری پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اجلاس میں قومی پالیسی برائے انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی 2024 کے پانچ بنیادی ستونوں کے تحت تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جن میں تعلیم، کمیونٹی انگیجمنٹ، نوجوانوں کی معاشی شمولیت، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اور بحالی و اصلاح کے اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں کے اعلیٰ افسران کو پابند کیا جائے کہ وہ امن، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے منظم سرگرمیوں اور جامع آگاہی پروگرامز کے باقاعدہ انعقاد کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لیے فنی تربیت، روزگار اور ہنر مندی کے پروگرامز کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سکھر بشرا منصور نے کمیونٹی انگیجمنٹ کے تحت علماء، اساتذہ، نوجوان رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی، جبکہ متاثرہ یا گمراہ افراد کی بحالی اور سماجی شمولیت کے لیے متعلقہ محکموں کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ اجلاس میں سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کمیونٹی سطح پر اعتماد سازی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قومی پالیسی برائے انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی 2024 پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوگی۔ تمام شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور دیرپا سلامتی کے حصول کے لیے انسدادی اقدامات، کمیونٹی کی مضبوطی، نوجوانوں کی مثبت شمولیت اور جامع سماجی و معاشی ترقی ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو قومی ویزن کے مطابق ایک پُرامن، محفوظ اور ہم آہنگ معاشرے کے قیام کی جانب ایک مضبوط اور عملی پیش رفت قرار دیا گیا۔