سکھر: زرعی زمین پر قبضے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف متاثرہ شخص کا پریس کلب کے سامنے احتجاج
سکھر: زرعی زمین پر قبضے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف متاثرہ شخص کا پریس کلب کے سامنے احتجاج
سکھر (بیورورپورٹ۔۔سید نصیر حسین زیدی )تعلقہ روہڑی کے گاؤں نور شاہ بٹ، حد تھانہ کندھرا کے رہائشی محرم علی برڑو نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے آبائی زرعی زمین پر بااثر افراد نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے جبکہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔محرم علی برڑو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دیھ دوداٹکو میں واقع 54 جریب 26 ایکڑ زرعی زمین اس کے دادا ڈٹی بیگ برڑو کے نام پر رجسٹرڈ ہے، تاہم عبدالرزاق برڑو، نواب آصف، محبوب اور دیگر افراد گزشتہ بیس سال سے اس زمین پر ناجائز طور پر قابض ہیں اور زمین واپس کرنے سے انکاری ہیں۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ زمین کے تنازعے کے دوران اس کے والد محمد اسماعیل برڑو مرحوم کو بھی انہی افراد نے قتل کر دیا تھا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تاحال ملزمان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ محرم علی برڑو نے مزید بتایا کہ اب بھی ملزمان کی جانب سے اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث وہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حد تھانہ کندھرا کی پولیس بااثر ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے اور متعدد شکایات کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔ احتجاج کے دوران انہوں نے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ زمین پر ناجائز قبضہ ختم کروا کر اسے تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔محرم علی برڑو نے کہا کہ اگر اسے انصاف نہ ملا تو وہ اپنا احتجاج جاری رکھنے پر مجبور ہوگا۔