ایمرجنسی کا زوال، ریاستی اعتماد کا زوال ہوتا ہے ۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
ایمرجنسی کا زوال، ریاستی اعتماد کا زوال ہوتا ہے ۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
ہسپتال کی ایمرجنسی صرف ایک وارڈ، ایک کمرہ یا چند بستروں کا نام نہیں یہ ریاست کی اخلاقی ذمہ داری، انسانی ہمدردی کا عملی اظہار اور زندگی اور موت کے درمیان کھڑی آخری دیوار ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان حادثے کا شکار ہو، شدید درد میں ہو، خون بہہ رہا ہو، سانس رکنے کو ہو، دل جواب دے رہا ہو یا کسی عورت کی جان ڈیلیوری کے وقت خطرے میں ہو، تو اس لمحے یہ سوال نہیں ہوتا کہ مریض کے پاس پیسے ہیں یا نہیں، اس کا مذہب، علاقہ، قومیت یا حیثیت کیا ہے۔ اس لمحے صرف ایک سوال ہوتا ہے کیا اسے فوراً بچایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اسی سوال کا جواب ایمرجنسی سسٹم دیتا ہے۔ ایمرجنسی کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ یہ وہ فوری طبی حالت ہے جس میں اگر بروقت علاج نہ ہو تو مریض کی جان جا سکتی ہے، مستقل معذوری ہو سکتی ہے یا بیماری ناقابلِ واپسی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں ایمرجنسی کو صحت کے نظام کا سب سے حساس، اہم اور مقدس شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ حادثات، دل کے دورے، برین ہیمرج، شدید انفیکشن، زچگی کے پیچیدہ کیسز، بچوں کی نازک بیماریاں، جلنے کے حادثات یہ سب ایمرجنسی کے دائرے میں آتے ہیں۔ ایک مہذب ریاست کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے شہری کو مرنے کے لمحے میں تنہا نہیں چھوڑتی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایمرجنسی علاج کو بنیادی انسانی حق سمجھا جاتا ہے، کوئی احسان یا رعایت نہیں۔ یورپ، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، آسٹریلیا اور کئی دیگر ممالک میں ایمرجنسی میں داخلہ بغیر فیس ہوتا ہے علاج شروع کرنے سے پہلے ایک روپیہ بھی نہیں مانگا جاتا دوا، ٹیسٹ، آپریشن حتیٰ کہ ایمبولینس تک ریاست فراہم کرتی ہے وہاں کوئی ڈاکٹر یہ نہیں کہتا یہ پرچی پکڑیں فارمیسی سے ارجنٹ سامان لائیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔ ایمرجنسی کو مفت رکھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایمرجنسی میں انسان فیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا۔ سوچیں ایک غریب مزدور جس کا بیٹا حادثے میں زخمی ہو جائے
ایک ماں جسے اچانک ڈیلیوری میں پیچیدگی ہو جائے ایک بزرگ یا نوجوان جسے رات کے وقت دل کا دورہ پڑ جائے کیا ان لمحات میں وہ پیسوں کا بندوبست کر سکتے ہیں؟ نہیں اور اگر ہم ایسے وقت میں پیسے مانگیں یا پھر پرچیاں فارمیسی پر بھیجیں تو یہ علاج نہیں، سزا بن جاتا ہے۔ دنیا میں سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی اس اصول پر قائم ہے (No money first, only treatment first)
امریکہ جیسے مہنگے ملک میں بھی ایمرجنسی میں مریض کو فوراً دیکھا جاتا ہے، جان بچانے کا علاج کیا جاتا ہے، بعد میں مالی معاملات دیکھے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے NHS میں ایمرجنسی، ایمبولینس اور فوری سرجری مکمل طور پر مفت ہے یہ اس لیے نہیں کہ وہ بہت امیر ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ انسانی جان کی قدر کرتے ہیں۔ اگر ایمرجنسی مضبوط، فعال اور مفت نہ ہو تو معاشرے میں اموات بڑھتی ہیں، مستقل معذوری عام ہوتی ہے، غریب اور امیر میں صحت کا فرق گہرا ہو جاتا ہے، عوام میں خوف اور عدم اعتماد جنم لیتا ہے، ہسپتال نفرت کی علامت بن جاتے ہیں اور نظام کے خلاف بغاوت پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک باپ اپنی بیٹی کو صرف اس لیے مرتے دیکھے کہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے، تو وہ صرف بیٹی نہیں ہارتا، وہ ریاست پر ایمان بھی ہار جاتا ہے۔ ایمرجنسی دراصل ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا معاہدہ ہے۔ جب عوام جانتے ہوں کہ کسی بھی وقت، کسی بھی حالت میں ہمیں ایمرجنسی میں بچایا جائے گا تو وہ ریاست پر بھروسہ کرتے ہیں، قانون کو مانتے ہیں اور نظام کا احترام کرتے ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ معاشروں میں ہسپتال محفوظ ہوتے ہیں ڈاکٹروں پر حملے نہیں ہوتے عوام تعاون کرتے ہیں ایمرجنسی صرف ایک وارڈ نہیں، ایک مکمل نظام ہے جس میں تربیت یافتہ ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف، فوری دستیاب ادویات، تشخیصی سہولت، آپریشن تھیٹر، خون کی فراہمی اور ایمبولینس نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ اور یہ سب اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک یہ مریض کے لیے مفت اور بلا شرط نہ ہو۔ طبی دنیا میں ایک اصول ہے جسے Golden Hour کہتے ہیں۔ حادثے یا شدید بیماری کے بعد پہلا ایک گھنٹہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اگر اس دوران علاج مل جائے تو جان بچ سکتی ہے، اور اگر ہم اس وقت میں پرچی، فیس، اجازت اور سفارش ڈھونڈتے رہیں تو ہم خود مریض کو موت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ تمام مذاہب اور انسانی ضابطے اس بات پر متفق ہیں کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔ پھر ہم کیسے یہ جواز پیدا کر لیتے ہیں کہ غریب کو ایمرجنسی میں روکا جائے، عورت کو ڈیلیوری میں انتظار کروایا جائے، بچے کو دوا کے بغیر چھوڑ دیا جائے ایمرجنسی کی صورت میں بھی ورثاء کو پرچیاں تھما کر فارمیسی کا راستہ بتایا جاے یہ کہانی کہیں سمندر پار کی نہیں میرے اور آپ کے شہر مظفرآباد کے بڑے ہسپتالوں سی ایم ایچ اور عباس میڈیکل ہسپتال امبور کی ہے جہاں کی ایمرجنسی میں سرنج اور نمکین پانی کی بوتلوں کے علاؤہ کبھی کچھ نہیں ملا کچھ وقت اچھا بھی گزرا ہے جب امرجنسی کی صورت میں 80% ادویات دستیاب ہوتی تھیں آج کل کے حالات مجھ سے بہتر وہ جانتے ہیں جو ان دنوں کسی حادثے سے گزے ہوں گے دیکھیں یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، اخلاقی جرم بھی ہے۔ یہاں سے بات آزاد کشمیر کے زمینی حالات تک پہنچتی ہے۔آزاد کشمیر ایک خوبصورت خطہ ہے، مگر اس خوبصورتی کے پیچھے غربت، محدود وسائل، پہاڑی جغرافیہ اور علاج تک مشکل رسائی کی تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ یہاں ایمرجنسی صرف بیماری نہیں، بلکہ راستوں، فاصلے، وقت، پیسے اور بے بسی کا نام ہے۔ اکثر اضلاع میں مریض کو ہسپتال پہنچنے میں دو سے چھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ایمبولینس ہر جگہ دستیاب نہیں، رات کے وقت ٹرانسپورٹ نایاب ہو جاتی ہے، اور پہاڑی سڑکیں وقت اور جان دونوں لیتی ہیں۔ ایسے میں اگر مریض ہسپتال پہنچ کر یہ سنے یہ پرچی پکڑیں فارمیسی سے ارجنٹ سامان لائیں اور مریض کے ورثاء کی جیب خالی ہو اور ورثاء میں اگر کوئی والد بھائی شوہر بیٹا یا ماں بیٹی بہین ہو تو اس پر کیا گزرے گی تو آپ فیصلہ کریں کہ کیا یہ علاج سے انکار نہیں، موت کو دعوت ہے۔آزاد کشمیر کی غربت وہ حقیقت ہے جو فائلوں میں نہیں لکھی جاتی دیہاڑی دار مزدور، بے روزگار بیٹا یا باپ بیوائیں، یتیم اور وہ خاندان جن کا کفیل ہی دنیا سے چل بسا ہے ان سب کے پاس ایمرجنسی کے وقت نہ نقد ہوتا ہے، نہ بینک اکاؤنٹ، نہ رات کو قرض دینے والا کوئی۔ خاص طور پر ڈیلیوری کیسز میں یہ المیہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ ایک غریب عورت، رات کے وقت، بارش میں، پہاڑی گاؤں سے شدید دردِ زہ میں ہسپتال لائی جاتی ہے۔کیس پیچیدہ ہے، آپریشن ضروری ہے، ہر منٹ قیمتی ہے اور پھر کہا جاتا ہے یہ لیں پرچی پکڑیں فارمیسی سے ارجنٹ سامان لائیں دوائیں باہر سے لے آئیں آپریشن کے پیسے جمع کروائیں خون کا بندوبست کریں یہاں سوال یہ نہیں کہ آپریشن مہنگا ہے یا سستا، سوال یہ ہے کیا ہم اس ماں کو زندہ رہنے اور ماں بننے کا حق دیں گے یا نہیں؟ اگر اس تاخیر میں ماں یا بچہ مر جائے تو یہ قدرت کا فیصلہ نہیں، نظام کی ناکامی ہے۔ آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹر بھی ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں، مگر اکثر سامان دستیاب نہیں بات صرف سامان ادویات تک محدود نہیں سئینر ڈاکٹر بھی مظفرآباد بجلی کے وولٹیج کی طرح ہی دستیاب ہوتے ہیں جو حال آپ کے گھر بجلی اور وولٹیج کا ہے وہ ہی سی ایم ایچ اور امبور میں ڈاکٹرز کا ہے دستیاب ہیں تو بس ٹرینرز یہ وہ مخلوق ہیں جنہوں نے ہم پر ہی تجربہ کرنا ہے اور ہماری جیب ہی خالی کرنی ہیں اور ہمیں ہی انکے نخرے اٹھانے ہیں جب وہ خراب دماغ اور پھیکی زبان میں قصائی کے لہجے میں بولتے یا بولتیاں ہیں دوائیں باہر سے ارجنٹ تو مریض کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ علاج صرف اس کا حق ہے جس کے پاس پیسہ ہے۔ یہ سوچ ریاست پر اعتماد توڑ دیتی ہے، ہسپتال کو دشمن اور ڈاکٹر کو نشانہ بنا دیتی ہے جب ایمرجنسی علاج اجازت، سفارش اور دستیابی سے مشروط ہو جائے تو وہ ایمرجنسی نہیں رہتی، وہ انتظار گاہِ موت بن جاتی ہے۔ لوگ غصہ کیوں کرتے ہیں؟ اس لیے نہیں کہ وہ جاہل ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس وقت نہیں، پیسہ نہیں اور کوئی اور راستہ نہیں۔ اگر ہم واقعی آزاد کشمیر میں اموات کم کرنا، ماؤں اور بچوں کو بچانا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ماننا ہوگا ایمرجنسی میں مفت علاج کوئی سہولت نہیں ناگزیر ضرورت ہے۔ ایمرجنسی زندگی کا آخری سہارا ہے ریاست کی اصل پہچان ہے غریب کی امید ہے اور انسانیت کا امتحان ہےاب سوال صرف یہ ہے کیا ہم نظام کو انسان کے لیے بدلیں گے، یا انسان کو نظام پر قربان کرتے رہیں گے؟