*ثواب کیا ہے اور گناہ کیا ہے* پیر 12 جنوری 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*ثواب کیا ہے اور گناہ کیا ہے*
پیر 12 جنوری 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
جب ہمیں ثواب اور گناہ کا ادراک ہو جائے گا تو یہ تحریر اصلاحِ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انسانی زندگی کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ میں جو کام کر رہا ہوں، وہ نیکی ہے یا گناہ؟ کیونکہ اسی سوال کا جواب انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہر مذہب، ہر تہذیب اور ہر دور میں نیکی اور بدی کا تصور موجود رہا ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ اسلام نے اس تصور کو سب سے زیادہ واضح، متوازن اور قابلِ عمل صورت میں پیش کیا ہے۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ انسان بالکل بے خبر ہے، بلکہ وہ یہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر پہلے سے ایک فطری اخلاقی شعور موجود ہے، جسے قرآن “نفس” اور “فطرت” کے نام سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے انسان کے نفس کو یہ صلاحیت عطا کر دی ہے کہ وہ اپنی نیکی اور بدی کو کسی حد تک خود پہچان سکتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کا کوئی انسان، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، ظلم کو اچھا اور عدل کو برا نہیں کہتا، بلکہ دل کی گہرائی میں وہ جانتا ہے کہ ظلم برائی ہے اور انصاف نیکی۔
غیر مسلم کے پاس قرآن و حدیث نہیں ہوتے، مگر اس کے باوجود وہ نیکی اور گناہ کے تصور سے بالکل خالی نہیں ہوتا۔ اس کی رہنمائی کا بنیادی ذریعہ اس کا زندہ ضمیر، انسانی عقل اور اجتماعی مفاد کا شعور ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سچ بولنے سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور جھوٹ سے رشتے ٹوٹتے ہیں، امانت سے معاشرہ چلتا ہے اور خیانت سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ فطری اخلاقی معیار ہے جس پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں سے سوال کریں گے۔ اسلام آ کر اس فطری شعور کو رد نہیں کرتا بلکہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور اسے وحی کی روشنی میں درست سمت عطا کرتا ہے۔
*گناہ اور ثواب کی کسوٹی*
انسان جب کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو عام طور پر وہ دل کے سکون، باطنی خوشی اور اطمینان کو محسوس کرتا ہے، اور وہ اس بات سے نہیں گھبراتا کہ لوگوں کو اس کا علم ہو جائے۔ بلکہ بسا اوقات وہ چاہتا ہے کہ لوگ دیکھیں، سیکھیں اور اس نیکی سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے برعکس جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو خواہ وقتی طور پر اس کا نفس مطمئن ہو بھی جائے، پھر بھی وہ اس عمل کو چھپانا چاہتا ہے، ڈرتا ہے کہ کہیں لوگ جان نہ لیں، اور یہی خوف اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اس کا دل گہرائی میں اس عمل کو درست نہیں سمجھ رہا۔ یہ محض ایک نفسیاتی مشاہدہ نہیں بلکہ عین نبوی تعلیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور انسان یہ ناپسند کرے کہ لوگ اس سے واقف ہوں۔
البتہ یہاں ایک نہایت ضروری بات سمجھنا بھی لازم ہے کہ ہر وہ چیز جس سے دل کو وقتی سکون ملے، لازماً نیکی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کا نفس گناہ سے مانوس ہو جاتا ہے، عادت بن جانے کی وجہ سے دل میں کھٹک کم ہو جاتی ہے، اور ضمیر آہستہ آہستہ سست یا مردہ ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اسلام صرف دل کو آخری فیصلہ ساز نہیں بناتا بلکہ دل کے ساتھ وحی کو بھی جوڑ دیتا ہے۔ مسلمان کے لیے اصل سہولت اور امتیاز یہ ہے کہ اگر کسی عمل میں دل مطمئن ہو جائے مگر قرآن و سنت اسے ناجائز قرار دیں تو مسلمان دل کی خواہش کو نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کو مانتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان انسان کو نفس کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کرتا ہے۔
اس طرح نیکی اور گناہ کو پرکھنے کے لیے ایک جامع اور آفاقی معیار سامنے آتا ہے۔ انسان سب سے پہلے اپنے دل سے سوال کرے کہ کیا میں یہ کام اکیلے میں بھی اسی طرح کر رہا ہوں؟ کیا میں چاہوں گا کہ میرا یہ عمل میرے والدین، میرے بچوں یا معاشرے کے سامنے آ جائے؟ پھر وہ اپنی عقل سے سوچے کہ اگر یہ کام عام ہو جائے تو کیا معاشرہ سنورے گا یا بگڑے گا؟ اور اگر وہ مسلمان ہے تو آخر میں وہ وحی کی طرف رجوع کرے کہ قرآن و سنت اس بارے میں کیا رہنمائی دیتے ہیں۔ جہاں یہ تینوں چیزیں ہم آہنگ ہوں، وہاں نیکی ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہتا، اور جہاں ان میں ٹکراؤ ہو، وہاں رک جانا ہی تقویٰ ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان لاعلمی میں کوئی کام کر بیٹھتا ہے اور بعد میں اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ غلط تھا۔ اس مقام پر اسلام انسان کو مایوسی میں نہیں دھکیلتا بلکہ اسے امید دیتا ہے۔ ندامت کو توبہ قرار دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ علم ملنے کے بعد رک جانا اور اصلاح کی کوشش کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی نیت، اس کی کوشش اور اس کے رجوع کو دیکھتے ہیں، نہ کہ صرف اس کی لغزش کو۔
حقیقت یہ ہے کہ نیکی اور بدی کوئی پراسرار یا ناقابلِ فہم چیز نہیں۔ انسان کا دل، عقل اور فطرت اسے بنیادی فرق سکھا دیتے ہیں، اور اسلام اس فرق کو مزید واضح، محفوظ اور آخرت سے جوڑ دیتا ہے۔ اگر انسان اپنے دل کو زندہ رکھے، ضمیر کی آواز کو دبائے نہیں، اور وحی کو اپنا رہنما بنا لے تو نہ صرف وہ خود نیکی کی طرف مائل ہوگا بلکہ اس کے اعمال دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سبب بنیں گے۔ یہی نیکی ثواب کا ذریعہ بنتی ہے، اور یہی ثواب دنیا کی اصلاح اور آخرت کی فلاح، یعنی فلاحِ دارین کی ضمانت بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کو پہچاننے کی بصیرت، نیکی پر ثابت قدمی اور گناہ سے سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333