October 28, 2026

1960 کی دہائی کے لاہور کے نامی گرامی بدمعاش باشو جٹ کی سچی کہانی : باشو کا اصل نام خالد جٹ تھا

FB_IMG_1768139244386

1960 کی دہائی کے لاہور کے نامی گرامی بدمعاش باشو جٹ کی سچی کہانی : باشو کا اصل نام خالد جٹ تھا ۔ یہ خانیوال کے علاقہ کچہ کھوہ کا رہائشی تھا ، ان دنوں لاہور میں اچھا شوکر والا اور جگا گجر کی دشمنی عروج پر تھی ۔ اور اچھا شوکر والا نے پاکستان کے مختلف شہروں سے بدمعاش اور اشتہاری اپنی مدد کے لیے لاہور بلا رکھے تھے جو اسکے پاس رہتے تھے ۔باشو جٹ اچھا شوکر والا کا جگری دوست بن گیا ۔ اور اس نے اچھا شوکر والا کے باپ اور چچا کے ق۔ت۔ل کا بدلہ بھی گجر گروپ سے لیا ۔ کہا جاتا ہے ایک بار باشو جٹ نے جگا گجر کو سرعام لاہور کی سڑکوں پر بے عزت بھی کیا تھا ۔ باشو نے ذاتی دشمنی بدمعاشی اور اچھا شوکر والا کے کہنے پر کئی لوگوں کو ق۔ت۔ل کیا ، باشو جٹ پر 302 کے 17 مقدمات درج تھے جب کہ اس پر درج مختلف نوعیت کے مقدمات کی تعداد 300 سے بھی زیادہ تھی ۔ ان دنوں اچھا شوکر والا کی پہنچ اوپر تک تھی ، گورنر پنجاب تک اسکی پہنچ تھی لہذا اسکے یاروں پر یا تو مقدمات درج نہیں ہوتے تھے یا پھر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی تھی ۔ایک بار پلاننگ کے تحت باشو جٹ اور شوکر والا گروپ کے کچھ لوگوں کو گرفتار کرکے جیل کی اسی بیرک میں بند کردیا گیا جہاں مخالف جگا گجر اوراسکے ساتھی قید تھے ، رات ہوئی تو باشو جٹ اور اسکے ساتھیوں نے ڈنڈوں سوٹوں کے ساتھ جگا گجر اور اسکے چند دوستوں پر حم۔لہ کردیا ، اس واقعہ میں جگا گجر کے 2 ساتھی مارے گئے جبکہ جگا شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا کہاجاتا ہے کہ ہسپتال میں بھی جگاگجر پر حم۔لہ کیا گیا اور اسے مزید زخمی کیا گیا تو یہ کئی روز کوما میں رہا مگر اسکی جان بچ گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ باشو جٹ اور اچھا شوکر والا نے گجر گروپ کے متعدد افراد کو ایک ساتھ اغ۔وا کر لیا تھا اور انہیں سالوں اپنی قید میں رکھا ۔ اس عرصہ میں جگا گجر جیل میں تھا اور گجر گروپ کی دشمنی بیدو گجر نامی ایک بدمعاش نبھا رہا تھا ۔ بیدو گجر نے کچا کھوہ میں باشو جٹ کے بھائیوں کو ق۔ت۔ل کروا دیا ۔ اس کا انتقام باشو جٹ نے لاہور میں ایسے لیا کہ جگا گجر کے تایا ، تائی اور ایک اور شخص کو دن دیہاڑے ق۔ت۔ل کردیا گیا ۔ انہی دنوں باشو جٹ نے لاہور کے نواح میں گجر گروپ کی قیمتی زرعی زمین پر قبضہ کر لیا اور گجر گروپ کے لوگ قبضہ چھڑانے آئے تو خوفناک تصادم ہوا اور گجر گروپ کے 5 لوگ لقمہ اجل بن گئے ۔ اب گجر اور شوکر والا گروپ کی دشمنی اور خون خرا۔بے نے لاہور کا امن تباہ کردیا تھا چنانچہ عوامی مطالبات پر پولیس لاہور کے تمام جرائم پیشہ اور بدمعاشوں کے پیچھے پڑ گئی ، باشو جٹ فرار ہو کر علاقہ غیر چلا گیا ۔ لاہور کے درجنوں بدمعاش اور جرائم پیشہ گرفتار کرکے جیل بھیج دیے گئے ، کچھ ماہ بعد پولیس نے باشو جٹ کو علاقہ غیر سے گرفتار کر لیا اور اسے لاہور لایا گیا جہاں چار سال تک اس پر مقدمات چلتے رہے اور اسے سز۔ائے موت سنا دی گئی ، جیل کے قیدی کے طور پر بھی باشو جٹ نے جیل میں اودھم مچائے رکھا ، بدمعاشی شاید اسکی رگ رگ میں سرایت کر چکی تھی ، آخر کار جب باشو جٹ کی تمام اپیلیں مسترد ہو گئیں تو غالبا 1975 میں متعین تاریخ کو باشو جٹ کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا یوں لاہور کی تاریخ میں جرائم کا ایک خوفناک باب بند ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔