*_جسٹس بابر ستار نے شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ روکنے کیلئے آج وہ آرڈر جاری کیا ہے جس کی اس سے قبل عدالتوں سے کوئی نظیر نہیں ملتی کیونکہ لاپتہ یا مغوی شہری واپس آ جائے تو اعلیٰ عدالتوں کے ججز بازیابی کی درخواستیں نمٹا کر سمجھا کرتے تھے کہ اُنہوں نے بڑا معرکہ
*_جسٹس بابر ستار نے شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ روکنے کیلئے آج وہ آرڈر جاری کیا ہے جس کی اس سے قبل عدالتوں سے کوئی نظیر نہیں ملتی کیونکہ لاپتہ یا مغوی شہری واپس آ جائے تو اعلیٰ عدالتوں کے ججز بازیابی کی درخواستیں نمٹا کر سمجھا کرتے تھے کہ اُنہوں نے بڑا معرکہ مارا اور کچھ تو تیار بیٹھے ہوتے تھے کہ بندہ واپس آ جائے تو درخواست غیرموثر قرار دیدیں، دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جس متاثرہ فیملی کا فرد واپس آ جائے وہ بھی معاملے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے جس سے بندہ اٹھانے والوں کو مزید حوصلہ اور قوت ملتی تھی لیکن آج جسٹس بابر ستار نے قرار دیا کہ بازیابی کی درخواست بندہ واپس آ جانے پر غیرموثر نہیں ہو جاتی بلکہ شہری کے واپس آ جانے پر بھی یہ معلوم کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے کہ شہری کو کِس نے لاپتہ کیا اور غیرقانونی طور پر اتنے دن تک حراست میں رکھا_*