آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست پر جو شرائط لگائیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس مالی سال میں واجب الادا ساڑھے چھبیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو رول اوور کروائیں تاکہ
آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست پر جو شرائط لگائیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس مالی سال میں واجب الادا ساڑھے چھبیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو رول اوور کروائیں تاکہ ادائیگیوں کا توازن برقرار رہے۔ اس میں سب سے اہم نکتہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے دیے گئے تقریباً ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے قرضے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت ان تینوں قرضوں کو رول اوور کروانے میں ناکام رہی ہے۔ سعودیوں نے اپنے قرضوں کو مؤخر کرنے کے لیے ریکوڈیک منصوبے میں سے پندرہ فیصد حصہ مانگ لیا ہے جس کے بدلے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر دیں گے جبکہ ریکوڈیک کی مالیت تقریباً چھ سو ارب ڈالر ہے۔ پندرہ فیصد کا مطلب نوے ارب ڈالر ہے۔ اور وہ اسے ڈیڑھ ارب ڈالر میں لینا چاہ رہے ہیں۔
اسکے علاؤہ سعودی کافی عرصے سے پاکستان سے دس لاکھ ایکڑ زمین نناوے سال پر لیز پر دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جہاں پر وہ اجناس اگا کر انہیں سعودی عرب لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔
ممکن ہے ن لیگ یہ دونوں فرمائشیں پوری کر دے، پھر چین کے اپنے مطالبات ہیں اور یو اے ای بھی سعودی نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ سے ریکوڈیک اور زمین مانگنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ یوں زمین آپکی، پانی آپکا لیکن فصل انکی۔ یہ ایک نئی قسم کی کالونائزیشن ہے جسکا شکار کئی افریقی ممالک ہو چکے ہیں اور اب آپکی باری ہے۔ ہوشیار ہو جائیں!!! (منقول)