October 28, 2026

آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست پر جو شرائط لگائیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس مالی سال میں واجب الادا ساڑھے چھبیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو رول اوور کروائیں تاکہ

20240910_173008

آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست پر جو شرائط لگائیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس مالی سال میں واجب الادا ساڑھے چھبیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو رول اوور کروائیں تاکہ ادائیگیوں کا توازن برقرار رہے۔ اس میں سب سے اہم نکتہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے دیے گئے تقریباً ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے قرضے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت ان تینوں قرضوں کو رول اوور کروانے میں ناکام رہی ہے۔ سعودیوں نے اپنے قرضوں کو مؤخر کرنے کے لیے ریکوڈیک منصوبے میں سے پندرہ فیصد حصہ مانگ لیا ہے جس کے بدلے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر دیں گے جبکہ ریکوڈیک کی مالیت تقریباً چھ سو ارب ڈالر ہے۔ پندرہ فیصد کا مطلب نوے ارب ڈالر ہے۔ اور وہ اسے ڈیڑھ ارب ڈالر میں لینا چاہ رہے ہیں۔
اسکے علاؤہ سعودی کافی عرصے سے پاکستان سے دس لاکھ ایکڑ زمین نناوے سال پر لیز پر دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جہاں پر وہ اجناس اگا کر انہیں سعودی عرب لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔
ممکن ہے ن لیگ یہ دونوں فرمائشیں پوری کر دے، پھر چین کے اپنے مطالبات ہیں اور یو اے ای بھی سعودی نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ سے ریکوڈیک اور زمین مانگنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ یوں زمین آپکی، پانی آپکا لیکن فصل انکی۔ یہ ایک نئی قسم کی کالونائزیشن ہے جسکا شکار کئی افریقی ممالک ہو چکے ہیں اور اب آپکی باری ہے۔ ہوشیار ہو جائیں!!! (منقول)