62

آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے

سلسلہ کچھ یادیں کچھ باتیں©️
سروں کی ملکہ ترنم نورجہاں کی
تحریر و تحقیق🌹
شہزاد خان جدون ۔
آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے
آج ملکہ ترنم نورجہاں کی برسی ہے۔ نورجہاں 21 ستمبر 1926 کو پاکستان کے شہر قصور میں پیدا ہوئیں۔۔ پیدائشی نام اللہ وسائی تھا۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی۔
شروع میں لاہور میں بابا اے جی چشتی کے کمپوز کی غزلوں اور گیتوں اور نعتوں کو اسٹیج پر پڑھا۔۔1930 میں کلکتہ فلم انڈسٹری میں قسمت آزمائی کے لئے چلی گیں۔۔
1935 میں فلم پنڈ دی کڑی میں کام کرکے اپنے کیرئر کا آغاز کیا۔ دلیپ کمار کے ساتھ بھی کام کیا۔
1947 میں نورجہاں کراچی شفٹ ہوگئی اور یہاں سے فلمی سفر کا دوبارہ آغاز کیا اور پھر کامیابیوں نے ان کے ایسے قدم چومے کہ آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئیں۔
یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہو گئی کہ نورجہاں بولی وڈ کی پہلی کامیاب سپر سٹار ہیروئن تھیں۔ میلوڈی کوئین لتا منگیشکر بھی ملکہ ترنم نورجہاں کے پرستاروں میں سے تھیں۔نورجہاں نے برصغیر میں سب سے زیادہ گیت گائے اور واحد گلوکارہ ہیں جن کا کبھی کوئی البم ریلیز نہیں ہوا۔ سینیارٹی کے حساب سے صدر مملکت بھی ان سے ملنے جایا کرتے تھے، سعادت حسن منٹو نے ان کے لیے ایک کتاب
“‘ نورجہاں سرورِ جاں ” تحریر کی۔
مصر کی مشہور مغنیہ ام کلثوم سے نورجہاں کا ایک بار مقابلہ موسیقی بھی ہوا۔skj جس کی وجہ سے نورجہاں کی شہرت برصغیر سے نکل کر مشرق وسطی تک پھیل گئی۔سروں کی دیوی لتا منگیشکر اپنی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں نورجہاں سے میری پہلی ملاقات ایک سیٹ پر ہوئی کہ دیکھا ایک لڑکی قالین (مصلح) پر ہاتھ باندھے کھڑی ہے اور پھر کبھی جھک بھی رہی ہے تو میں پوچھا کہ یہ کیا کررہی ہے تو بتایا گیا کہ یہ نماز پڑھ رہی ہیں، پوچھا کہ یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ یہ ملکہ ترنم نورجہاں ہیں اور یوں وہ میری دیدی سے پہلی ملاقات تھی۔ ماسٹر غلام حیدر کہتے تھے کہ نورجہاں جیسی شاید ہی پھر پیدا ہو۔ بہت سی گلوکاران پاکستان فلم انڈسٹری میں آئیں مگر ایک رونا لیلیٰ کے علاوہ کوئی گلوکارہ نور جہاں کے سامنے ٹک نہ سکیں۔نور جہان کی آواز کا جادو آج بھی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ نورجہاں قسمت کی دھنی تھیں۔ جو چاہا وہ پایا، بہت ہی خوش قسمت تھیں۔ کامیابیاں ان کے قدم چومتی تھیں۔موت بھی ایسے دن آئی جس کی تمنا ہر کوئی کرتا ہے، نورجہاں 26 رمضان بمطابق 23 دسمبر 2000 کو اس دار فانی سے رخصت ہوگئیں۔۔ ان کی تدفین ستائیس رمضان کو ہوئی۔۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین۔۔
⬅️ (یہ تمام آرٹیکلز بہت تحقیق اور ذمہ داری سے لکھے جاتے ہیں اور قارئین تک درست معلومات بہم پہنچانا راقم کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ان تمام دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ جو کمنٹ اور میسجز کے ذریعے فنونِ لطیفہ سے دلچسپی اور میری کاوشوں کو عزت بخشتے رہتے ہیں۔کسی بھی اداکار و اداکارہ کی بائیؤ گرافی کے لئے رابطہ کرسکتے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں