دعانیوز بیوروچیف آن لائن عبدالقیوم شیخ پاکستان سٹیزن پریس کلب ٹھٹھہ uJo Sindh بہار کے چیف منسٹر کی گھٹیا ترین بےشرمی حرکت
دعانیوز بیوروچیف آن لائن عبدالقیوم شیخ پاکستان سٹیزن پریس کلب ٹھٹھہ uJo Sindh
بہار کے چیف منسٹر کی گھٹیا ترین بےشرمی حرکت
*موضوع: جب نقاب چھینا گیا — ایک قوم، ایک غیرت، ایک مسلم لیڈی ڈاکٹر سوال؟؟؟؟؟
*
دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کہلانے والے انتہا پسند ملک بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا سلوک اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ لیکن حالیہ واقعہ — بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی رہائش گاہ پر ایک عوامی تقریب کے دوران پیش آیا جہاں نے بھرتی ہونے والے افسران میں تقرری آرڈر تقسیم کے دوران وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا سرِعام نقاب اسکارف زبردستی کینچھتے ہوئی دیکھا گیا یہ واقعہ ویڈیو میں ریکارڈ ہوا اور تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوا— صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ انسانیت، مذہبی آزادی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور خواتین کے وقار پر حملہ اور طاقت کے ناجائز استعمال کا ہے کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز شخص کی جانب سے یہ رویہ نے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے ۔
نقاب صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ شناخت ہے، عقیدہ ہے، عزت ہے۔ جب کسی مسلمان خاتون سے اس کی رضامندی کے بغیر نقاب چھینا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے اس کے مذہب پر، اس کی خودمختاری پر، اس کی غیرت پر حملہ کیا گیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی جو سوچ پروان چڑھ رہی ہے، یہ واقعہ اسی سوچ کی غلیظ پیداوار ہے۔
ہندوستان کا یہ عمل نہ صرف اس کے آئین کی خلاف ورزی ہے، جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے، جو ہر انسان کو مذہب، لباس، اور اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔
اس واقعے پر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے بانی رانا بشارت علی خان سمیت دنیا بھر سے شدید ردِعمل آیا ہے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ نے فوری جواب دہی اور باضاںطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ایک عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی آزادی اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے اور محروم طبقات کی وکالت کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانی کی کوشش کرتی ہے کہ ریاستی ادارے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی پاسداری کریں یہ تحریک بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے ذریعے دنیا بھر میں مساوات احترام اور انصاف کے فروغ کلئے سرگرم عمل ہے بغیر رنگ نسل زبان اور مذھب سے بالا تر ہوکر۔ سوال یہ ہے کہ کب تک دنیا خاموش رہے گی؟ کب تک اقوام متحدہ صرف بیانات تک محدود رہے گا؟ اگر آج ایک باحجاب ڈاکٹر سرِعام بےعزت کی جا سکتی ہے تو کل کوئی اور نشانہ بنے گا۔اس دلخراش اور شرمناک عمل نے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں آڑا دی ہیں بلکہ مذھبی آزادی اور خواتین کی عزت نفس پر بھی حملہ کیا ہے یہ واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت انگیزی کا واضع ثبوت ہے یہ کالم محض غصے کا اظہار نہیں ایک پکار ہے مسلمانوں کے ضمیر کی انسانیت کے علمبرداروں عالمی اداروں کی اگر آج بھی خاموشی رہی تو کل نقاب نہیں بلکہ نقاب پہننے کا حق بھی چھین لیا جائے گا۔وقت آگیا ہے کہ دنیا خاص طور پر مسلم امہ متحد ہوکر انتہا پسند ملک ھندوستان کی جانب سے کئی جانے والے ایسے واقعات کے خلاف موثر آواز بلند کرے کیونکہ یہ صرف نقاب کا معاملہ نہیں غیرت شناخت اور ایمان کا سوال ہے