October 28, 2026

کالم نگار منزہ عمران سانحہ آرمی پبلک سکول 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں پیش آیا،

IMG-20251216-WA1304

کالم نگار منزہ عمران سانحہ آرمی پبلک سکول 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں پیش آیا، جب دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا اور 151 افراد کو شہید کر دیا، جن میں سے 134 بچے تھے۔ یہ حملہ صبح 10 بجے کے قریب ہوا، جب بچے اپنی کلاسوں میں تھے۔ دہشت گردوں نے سکول میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں بچوں اور اساتذہ سمیت کئی افراد شہید ہو گئے۔

پاک فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس حملے میں 151 افراد شہید اور 114 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گردی کے حملوں میں سے ایک تھا۔

اس سانحے کے بعد، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی روح پھونکی گئی اور نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا۔ اس حملے کے بعد، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں اور قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا۔

مائیں دروازے کو تکتی رہ گئیں، اپنے بچوں کی منتظر، لیکن وہ کہیں نہیں آئے۔ بچوں کے سکول بیگ اور کتابیں اب بھی ان کے انتظار میں ہیں۔ سکول کا وہ ہال، جہاں بچے گاتے تھے، اب خاموش ہے۔ ان کی آوازیں اب بھی گونجتی ہیں، لیکن وہ خود اب نہیں ہیں۔

ایہ جملے پڑھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ کیسے ایک ہی دن میں اتنے سارے بچوں کی زندگیاں ختم ہو گئیں۔ ان کے خواب، ان کی خواہشات، ان کی امیدیں، سب کچھ ختم ہو گیا۔ ان کے گھر والے اب بھی ان کے انتظار میں ہیں، لیکن وہ کہیں نہیں آئیں گے۔