نبیلہ 29 دسمبر 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام شیریں گل تھا۔ انھیں ملکہ جذبات (جذبات کی ملکہ) کے نام سے جانا جاتا تھا کیونکہ وہ اکثر فلموں میں پیش کیے گئے المناک کرداروں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم لاہور کالج سے مکمل کی۔
نبیلہ کی پہلی فلم دلہن (1963) تھی جس میں ایک بڑا خوبصورت گیت تھا جو مالا اور آئرن پروین کی آوازوں میں تھا اور فلم میں شمیم آرا اور نبیلہ پر فلمایا گیا تھا “جان من ، جانان من ، یہ خط نہیں ، نذرانہ ہے۔۔” رشیدعطرے کی دھن میں بول فیاض ہاشمی کے لکھے ہوئے تھے۔ اس دور کی فلموں کی شاعری ، موسیقی ، گائیکی اور رقص کے علاوہ فلمبندی بھی بڑی مہذب ہوتی تھی جو سنجیدہ فلم بینوں کے لیے ناقابل فراموش ہوتی تھی۔
فلم بہوبیگم (1965) میں مالا اور احمدرشدی کا یہ گیت “میں نے کہا جی سنو ، پیار کیا ہے بھلا۔۔” نبیلہ کے علاوہ اعجاز اختر نامی اداکار پر فلمایا گیا تھا۔ یہ صاحب ایک انتہائی خوبرو جوان تھے لیکن فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں تک محدود رہے۔
فلم بھائی جان (1966) میں نبیلہ کی کامیڈی جوڑی منورظریف کے ساتھ تھی اور ان پر یہ دوگانا فلمایا گیا تھا “شکریہ ، جان من تیرا ، ہوگیا آباد گھر میرا۔۔” ناہیدنیازی کے ساتھ دوسری آواز سلیم شہزاد کی تھی جو ایک اچھے گلوکار تھے لیکن انھیں زیادہ موقع نہیں ملا تھا۔
نبیلہ کو کلاسک اردو فلم بدنام (1966) سے بے پناہ شہرت ملی تھی۔ معروف ادیب سعادت حسن منٹو کے ایک مشہور افسانے ‘جھمکے’ سے ماخوز اس شاہکار فلم میں نبیلہ کا ایک ایسی شوقین مزاج عورت کا مرکزی کردار تھا جو قیمتی زیورات اور لگژری لائف کی خواہش رکھتی ہے لیکن غریب کوچوان شوہر اپنی حلال کی کمائی سے اس کی امنگوں کی تکمیل نہیں کرپاتا۔
مہنگے زیورات کی طلب میں غیر ارادی طور پر ایک مالدار شخص کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسی آبرو باختہ عورتوں کا آخری ٹھکانہ کوٹھا ہی رہ جاتا ہے جہاں اس پر فلمائی ہوئی مشہور زمانہ غزل “بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے ، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا۔۔” فلم کی ہائی لائٹ ثابت ہوتی ہے۔
مسرورانور کی لکھی ہوئی یہ سدابہار غزل ، ریڈیو پر چل چکی تھی۔ موسیقار دیبو بھٹاچاریہ نے فلمساز اور ہدایتکار اقبال شہزاد کی فرمائش پر اس غزل کو فلم کے لیے دوبارہ گلوکارہ ثریا ملتانیکر ہی کی آواز میں ریکارڈ کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ صرف اس ایک غزل کی رائیلٹی سے فلم بدنام (1966) کے جملہ اخراجات پورے ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ نبیلہ کی اس یادگار فلم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے سترہ روسی زبانوں میں ڈب کر کے نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا جو پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔
فلم بدنام (1966) کی کامیابی سے متاثر ہو کر نبیلہ کو پہلی اور آخری بار فلم “چودہ سال” (1968) میں فرسٹ ہیروئن کے طور پر یوسف خان کے ساتھ کاسٹ کیا گیا تھا۔ فلمساز اور ہدایتکار اشرف خان کی یہ ایک بڑی ہی کمزور فلم تھی جس میں ہیروئن کو قتل کے جرم میں 14 سال کی جیل ہوجاتی ہے۔
نبیلہ کی پہلی پنجابی فلم پیداگیر (1966) تھی جس میں وہ ایک سٹیج ایکٹریس ہوتی ہے۔ اس کی جوڑی اکمل کے ساتھ ہوتی ہے جو اس فلم میں ڈبل رول کررہے ہوتے ہیں ، ایک انتہائی سنگدل ولن کا اور دوسرا ہلکے پھلکے مزاحیہ ہیرو کا۔ ان دونوں پر آئرن پروین اور احمدرشدی کے یہ دو گیت فلمائے گئے تھے “کیخو جئی لگنی آں تیرا کی خیال اے۔۔” اور “چھنکدی جھانجھرچاندی دی۔۔”
نبیلہ کو سپرہٹ فلم ماں پتر (1970) میں سدھیر کے ساتھ ٹائٹل رول میں بڑی مقبولیت ملی تھی اور وہ پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئی تھی۔
فلم ضدی (1973) ، کارکردگی اور کامیابی کے لحآظ سے نبیلہ کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم میں وہ ایک ایسی جاگیردارنی کے کردار میں تھی جو انصاف کی خاطر اپنے اکلوتے جوان بیٹے کو گولی تک مار دیتی ہے۔ اسی فلم سے یوسف خان کو سپرسٹار کا درجہ ملا تھا جو گزشتہ دو عشروں سے جدوجہد کر رہے تھے۔
نبیلہ نے سو کے قریب فلموں میں اداکاری کی تھی جن میں سے ایک چوتھائی اردو فلمیں تھیں۔ اس کی آخری فلم محبت اور مجبوری (1981) تھی جو اس کے انتقال کے دو سال بعد ریلیز ہوئی تھی۔
وہ لاہور میں اپنے والدین اور پالتو جانوروں کے ساتھ رہتی تھی۔ بعد میں اس کی شادی ہو گئی اور اس کی ایک بیٹی تھی۔
ذاتی پریشانیوں کی وجہ سے اس نے منشیات لینا شروع کر دیں اور 9 جولائی 1979 ءکو 34 سال کی عمر میں حادثاتی طور پر منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے انتقال کر گئیں۔
ضلع قصور کے صحافیوں کے لیے بڑی خوشخبری زینت لیبارٹریز اور ایمرا ویب ٹی وی جرنلسٹ گروپ کے درمیان ایم او یو سائن
ٹھٹھہ: ڈ ر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے ضلع بھر میں بغیر اجازت اور غیر قانونی طور پر چار دیواروں کی
میں مجبور، مسکین، چھوٹا تھانیدار
مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی سکھر میں احتجاجی ریلی، حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید
شوہر اور دیور پر تشدد اور قتل کی کوشش کا الزام، خاتون کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، تحفظ اور انصاف کی اپیل