لاہور ۔ وقت کی بے رحم گردش نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ دنیا میں ہر حُسن کو زوال ہے۔ ماضی کی دلکش اور بے مثال گلیمر گرل روزینہ، جو کبھی اردو اور پنجابی فلموں کے آسمان پر روشن ترین ستارہ تھیں، آجکل خاموشی، یادوں اور تنہائی کے سہارے زندگی کے لمحات گزار رہی ہیں۔
فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی روزینہ نے اپنی معصوم ادا، دلنشین مسکراہٹ اور بے مثال اداکاری سے شائقینِ سینما کے دل جیت لیے۔ وہ محض ایک اداکارہ نہیں تھیں بلکہ اُس دور کی اسکرین سینسیشن تھیں جنہوں نے ہر بڑے ہیرو کے ساتھ کام کیا اور ہر کردار میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اُن کے فلمی کیریئر میں درجنوں کامیاب فلمیں شامل ہیں، مگر جو ڈائیلاگ ان کے فن کو امر کر گیا، وہ آج بھی شائقین کے دلوں میں تازہ ہے—
“اُوئے میں ٹوٹے کر دِئیاں گی!”فلم بشیرا کا یہ مشہورِ زمانہ ڈائیلاگ آج بھی اُن کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔کبھی فلمی پردے پر آگ لگا دینے والی روزینہ آجکل ناساز طبیعت کے باعث گوشہ نشیں ہیں۔ وقت نے اگرچہ وہ روشنی کم کر دی ہے جو کبھی اُن کے نام کے ساتھ منسوب تھی، مگر اُن کی یادیں آج بھی فلمی دنیا کی تاریخ میں جگمگاتی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور ان کا آنے والا ہر دن پہلے سے بہتر ہو۔
روزینہ جیسی فنکارائیں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں